مشترکہ پارلیمانی کمیٹی نے 27ویں آئینی ترمیم کی شق وار دے دی

مشترکہ پارلیمانی کمیٹی نے 27ویں آئینی ترمیم کی شق وار دے دی

اسلام آباد: سینیٹ اور قومی اسمبلی کی مشترکہ پارلیمانی کمیٹی نے مسلح افواج کے سربراہان کی تقرری سمیت 27ویں آئینی ترمیم کا مجوزہ مسودہ منظور کرلیا۔ اجلاس پارلیمنٹ ہاؤس کے کمیٹی روم نمبر 5 میں ہوا جس کی صدارت پیپلز پارٹی کے سینیٹر فاروق ایچ نائیک نے کی۔

اجلاس میں وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ، وزیر مملکت بلال اظہر کیانی، چیئرمین سینیٹ قائمہ کمیٹی قانون سینیٹر فاروق نائیک، اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان، نوید قمر اور دیگر اراکین شریک ہوئے۔
پی ٹی آئی، جے یو آئی (ف)، ایم ڈبلیو ایم اور پی کے میپ کے نمائندے اجلاس میں شریک نہ ہوئے جبکہ گزشتہ روز جے یو آئی (ف) نے اجلاس کا بائیکاٹ کیا تھا۔

اجلاس کے دوران آئینی عدالت کے قیام، سپریم جوڈیشل کمیشن و سپریم جوڈیشل کونسل کی تشکیلِ نو، وزیراعظم اور وزرائے اعلیٰ کے مشیروں کی تعداد بڑھانے سمیت متعدد اہم شقوں پر مشاورت مکمل کرلی گئی۔ ذرائع کے مطابق آرٹیکل 175-اے سے 175-ایل تک 12 شقوں پر غور مکمل ہوچکا ہے جبکہ آرٹیکل 243، 200 اور 248 پر مشاورت جاری ہے۔

آرٹیکل 200 میں ترمیم کی منظوری
کمیٹی نے وقفے کے بعد آرٹیکل 200 میں ترامیم کی منظوری دی جس کے مطابق:

  • صدرِ مملکت جوڈیشل کمیشن کی سفارش پر ہائی کورٹ کے جج کا تبادلہ کرنے کے مجاز ہوں گے۔
  • تبادلے کی صورت میں متعلقہ ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کمیشن کے رکن ہوں گے۔
  • ججز کے تبادلوں کا اختیار سپریم جوڈیشل کمیشن کے پاس ہوگا۔
  • ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کا تبادلہ نہیں کیا جائے گا۔
  • ایسے جج کا تبادلہ نہیں ہوگا جو سینئرٹی میں چیف جسٹس سے آگے ہو۔
  • تبادلے سے انکار پر جج ریٹائر تصور ہوگا اور مقررہ مدت تک پنشن و مراعات سے مستفید ہوگا۔
  • آئینی عدالت میں تقرری سے انکار پر متعلقہ جج سپریم یا ہائیکورٹ سے ریٹائر شمار ہوگا۔

مزید برآں، کمیٹی نے آرٹیکل 243 میں مسلح افواج کے سربراہان کی تقرری سے متعلق مجوزہ ترمیم بھی منظور کرلی جبکہ اے این پی کی تجویز پر حکومت نے مہلت مانگی۔
ایم کیو ایم کی بلدیاتی انتخابات سے متعلق تجویز پر بھی مزید مشاورت کی درخواست کی گئی جبکہ بلوچستان کی نشستوں سے متعلق امور اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے لیے موخر کردیے گئے۔

وزیراعظم کے استثنیٰ سے متعلق شق واپس
اجلاس کے دوران مسلم لیگ (ن) نے وزیراعظم کے استثنیٰ سے متعلق شق واپس لے لی۔ وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کے مطابق وزیر اعظم اس تجویز کے حق میں نہیں تھے اور انہوں نے واضح کیا کہ صدر اور دیگر عہدوں کی نوعیت مختلف ہے، اس لیے یہ رعایت مناسب نہیں۔

نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بھی مختصر طور پر اجلاس میں شرکت کی۔

سینیٹر فاروق ایچ نائیک نے امید ظاہر کی کہ آج تمام نکات کو حتمی شکل دی جائے گی اور تمام جماعتوں کی آراء کو مدنظر رکھا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اکثریتی رائے کی بنیاد پر فیصلے کیے جائیں گے جو ایوان میں پیش ہوں گے۔

کمیٹی اب تک آئین کے آرٹیکل 209 تک جائزہ مکمل کرچکی ہے جبکہ وقفے کے بعد مزید تجاویز پر غور جاری رہے گا۔ مجموعی طور پر 49 آئینی ترامیم کا جائزہ اور منظوری دی جاچکی ہے۔
مجوزہ مسودہ کل سینیٹ اجلاس میں منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا۔

27ویں آئینی ترمیممشترکہ پارلیمانی کمیٹی
Comments (0)
Add Comment