سعودی ولی عہد اور سیسی کے درمیان قاہرہ میں ملاقات، باب المندب اور بحیرہ احمر کی سیکیورٹی پر زور
آبنائے ہرمز کے بعد باب المندب کی تزویراتی اہمیت بڑھ گئی، سعودی عرب کا حوثی حملوں کا ’فیصلہ کن‘ جواب دینے کا اعلان
قاہرہ: سعودی ولی عہد اور وزیراعظم محمد بن سلمان نے مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں صدر عبدالفتاح السیسی سے اہم ملاقات کی، جس میں مشرق وسطیٰ کی مجموعی صورتِ حال، علاقائی سلامتی، بحیرۂ احمر اور آبنائے باب المندب میں بحری آمدورفت سمیت باہمی دلچسپی کے امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
مصر کے صدارتی دفتر کے مطابق ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں بحیرۂ احمر اور آبنائے باب المندب میں بحری جہازوں کی محفوظ اور آزادانہ آمدورفت یقینی بنانے کی اہمیت پر زور دیا۔ دونوں جانب سے اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ اہم سمندری گزرگاہوں کا تحفظ نہ صرف علاقائی سلامتی بلکہ عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے بھی انتہائی ضروری ہے۔
ملاقات کے دوران مصری صدر عبدالفتاح السیسی نے سعودی عرب کی سلامتی اور استحکام کے تحفظ کے لیے ریاض کی جانب سے کیے جانے والے اقدامات کی حمایت کا اظہار کیا۔ مصر نے یمن کے بحران کے جامع، منصفانہ اور پائیدار سیاسی حل کے لیے جاری کوششوں کی حمایت کا بھی اعادہ کیا۔
دونوں رہنماؤں کے درمیان گفتگو ایسے وقت میں ہوئی ہے جب بحیرۂ احمر، باب المندب اور خلیج کے اہم سمندری راستوں میں کشیدگی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی تجارت کے لیے اہم سمندری راستوں کے تحفظ اور بحری جہازوں کی آمدورفت کے حوالے سے خدشات میں بھی اضافہ ہوا ہے۔
گزشتہ ہفتے ایران کے اتحادی حوثیوں نے بحیرۂ احمر کے مشرقی ساحل اور باب المندب پر کنٹرول حاصل کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی جب آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت پہلے ہی متاثر ہو رہی ہے، جس کے باعث باب المندب کی تزویراتی اور تجارتی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔
باب المندب بحیرۂ احمر کو خلیج عدن اور بحرِ ہند سے ملانے والی ایک انتہائی اہم بحری گزرگاہ ہے۔ یورپ، مشرق وسطیٰ اور ایشیا کے درمیان بحری تجارت کے لیے اس راستے کی اہمیت کے باعث یہاں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی سپلائی چین، تیل کی ترسیل اور مال برداری کے اخراجات پر اثرانداز ہو سکتی ہے۔
ادھر فرانس کی درخواست پر باب المندب کی صورتِ حال پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس آج نیویارک میں طلب کیا گیا ہے۔ اجلاس میں بحیرۂ احمر اور باب المندب میں پیدا ہونے والی سلامتی کی صورتِ حال اور عالمی بحری تجارت کو درپیش خطرات پر غور کیے جانے کا امکان ہے۔
سعودی عرب نے بھی حوثیوں کے حملوں کے حوالے سے سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ان حملوں کا ’’فیصلہ کن‘‘ جواب دے گا۔ ریاض کا کہنا ہے کہ خطے میں سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچانے والی کارروائیوں کو نظرانداز نہیں کیا جائے گا۔
مبصرین کے مطابق آبنائے ہرمز اور باب المندب دونوں اہم سمندری گزرگاہوں میں بیک وقت پیدا ہونے والی کشیدگی عالمی تجارت اور توانائی کی منڈیوں کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتی ہے۔ ایسے میں سعودی عرب اور مصر کے درمیان اعلیٰ سطحی رابطے علاقائی سلامتی اور سمندری راستوں کے تحفظ کے حوالے سے خاص اہمیت رکھتے ہیں۔