ایران جنگ سے نہیں ڈرتا، خود مختاری اور سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں، حبیب اللہ سیاری
مشرق وسطیٰ میں بیرونی طاقتوں کی مداخلت نے علاقائی اتحاد کو نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
بیجنگ: ایرانی فوج کے نائب کمانڈر حبیب اللہ سیاری نے کہا ہے کہ ایران اپنی خود مختاری اور قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے جنگ سے نہیں ڈرتا، جبکہ تہران ہر قسم کے امریکی دباؤ کو مسترد کرتا ہے۔
بیجنگ میں شیانگ شان فورم سے خطاب کرتے ہوئے حبیب اللہ سیاری نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں بیرونی طاقتوں کی مداخلت نے خطے کے ممالک کے درمیان اتحاد اور تعاون کو نقصان پہنچایا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ علاقائی مسائل کے حل کے لیے بیرونی مداخلت کے بجائے ممالک کو باہمی تعاون اور مذاکرات کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔
ایرانی فوج کے نائب کمانڈر نے امریکی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ دنیا کو یک طرفہ تسلط پسندی اور طاقت کے استعمال پر مبنی ’’جنگل کے قانون‘‘ کی مخالفت کرنی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ عالمی نظام میں تمام ممالک کی خود مختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام ضروری ہے۔
حبیب اللہ سیاری نے کہا کہ ایران اپنے قومی مفادات اور سلامتی کے تحفظ کے لیے کسی بھی دباؤ کے سامنے نہیں جھکے گا۔ انہوں نے موجودہ عالمی حالات میں بین الاقوامی تعاون اور باہمی احترام کو امن و استحکام کے لیے ناگزیر قرار دیا۔
دوسری جانب ایرانی میڈیا کے مطابق وزیر خارجہ عباس عراقچی چین پہنچ گئے ہیں، جہاں انہوں نے چینی ہم منصب وانگ ای سے ملاقات کی ہے۔
رپورٹس کے مطابق ملاقات میں ایران اور چین کے دوطرفہ تعلقات، مشرق وسطیٰ کی صورتحال اور عالمی سطح پر ہونے والی تازہ پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں ممالک کے درمیان اعلیٰ سطحی رابطے ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب خطے میں کشیدگی اور عالمی طاقتوں کے کردار کے حوالے سے سفارتی سرگرمیاں جاری ہیں۔
شیانگ شان فورم میں مختلف ممالک کے اعلیٰ حکام اور دفاعی و سفارتی شخصیات شریک ہیں، جہاں عالمی و علاقائی سلامتی، دفاعی تعاون، تنازعات کے حل اور بدلتے ہوئے بین الاقوامی نظام سمیت اہم امور پر تبادلہ خیال کیا جا رہا ہے۔