دودہائیوں تک ہم کرایہ پر دستیاب تھے ماضی کی غلطیوں کا اعتراف کئے بغیر آگے نہیں بڑھ سکتے، خواجہ آصف

دودہائیوں تک ہم کرایہ پر دستیاب تھے ماضی کی غلطیوں کا اعتراف کئے بغیر آگے نہیں بڑھ سکتے، خواجہ آصف

ہم نے 2کرائے کی جنگیں لڑیں پھر استعمال کر کے پھینک دیا گیا، امریکا نے چھوڑا پھر بھی عقل نہیں آئی، وزیر دفاع

 نائن الیون کی تحقیقات کا آج تک پتہ نہیں چلا مگر اس میں افغان، پشتون یا ہزارہ ملوث نہیں،قومی اسمبلی میں اظہار خیال

اسلام آباد: (خاور عباس شاہ) وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ مسالک کا ایک تقریر میں ذکر کیا تو دھمکیاں ملنا شروع ہو گئیں، فون دھمکیوں سے بھرا پڑا ہے،ہم نے 2کرائے کی جنگیں لڑیں پھر استعمال کر کے پھینک دیا گیا، امریکا نے چھوڑا پھر بھی عقل نہیں آئی، نائن الیون کی تحقیقات کا آج تک پتہ نہیں چلا مگر اس میں افغان، پشتون یا ہزارہ ملوث نہیں۔

قومی اسمبلی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ سیاست میں صبر و تحمل کو فروغ دیا جائے، اختلافات اپنی جگہ، ہمیں دہشت گردی کے خلاف یکجا ہونا پڑے گا۔انہوں نے کہا کہ محمود اچکزئی اور راجا پرویز اشرف کی بہت سی باتوں سے اتفاق کرتا ہوں، ہم افغانستان کی زمین پر لڑی جانے والی 2جنگوں کے فریق بنے، روس کے خلاف جنگ کوئی جہاد نہیں تھا،ہم اس میں اسلام کی محبت میں شریک نہیں ہوئے، ڈکٹیٹروں کے مفاد میں ان جنگوں میں حصہ لیا گیا، ہم نے اس سے کوئی سبق نہیں سیکھا۔

 انہوں نے کہا کہ 2دہائیوں تک ہم کرایہ پر دستیاب تھے، جب تک ماضی کی غلطیوں کا اعتراف نہیں کریں گے، آگے نہیں بڑھ سکتے، اپنی شناخت کیلئے کہیں اور جانے کی ضرورت نہیں ہے، ہمیں اس کیلئے سرحدوں کے پار نہیں دیکھنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کی مذمت کرنے میں بھی ہم متحد نہیں ہیں، قومی مسائل پر جھوٹ نہیں بولوں گا، جب ایسی نوبت آئی تو سیاست سے کنارہ کش ہو جاؤں گا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کو سب سے آخر میں افغانستان نے تسلیم کیا تھا، دونوں ممالک کے درمیان کوئی ویزا نہیں ہوتا تھا اجازت نامے پر جاتے تھے، میں خود بھی بغیر ویزا وہاں گیا ہوں۔

انہوں نے کہا کہ امریکیوں نے ہمیں چھوڑ دیا لیکن ہمیں عقل نہیں آئی، نائن الیون کا آج تک پتا نہیں چل سکا کہ کس نے کروایا، ٹوئن ٹاور حملے میں کوئی افغان پشتون یا ہزارہ ملوث نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ ماضی کے 4سے 5امریکی صدور نے 10سے 12کروڑ مسلمان مارے ہوئے ہیں، انہوں نے تو معمر قذافی کے بیٹے تک کو نہیں چھوڑا۔

خواجہ آصف نے کہا کہ آج تک ہم اپنا نصاب واپس نہیں لا سکے، ہم نے اپنی پوری تاریخ تبدیل کی، ماضی کی غلطیوں کا اعتراف کرنا ہو گا، آج ہم کہہ رہے ہیں کہ دہشت گردی کیوں ہو رہی ہے۔

وزیر ددفاع نے کہا کہ ہمیں حملہ آوروں کی بجائے اپنے لوگوں کو ہیروز ماننا چاہیے،میں نے اپنے والد کی اس وقت کی حکومت میں شمولیت پر معذرت کی، میرے سوا کسی نے اپنے کردار پر معذرت نہیں کی۔وزیر دفاع نے کہا کہ بھارت کو جس طرح شکست دی ہے،نریندر مودی دنیا بھر میں اور اپنے ملک میں رل گیا ہے،وہ دوبارہ حملے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔

قومی اسمبلی - پاکستانوزیر دفاع خواجہ آصف
Comments (0)
Add Comment