ایران کی خلیجی ممالک کو وارننگ، امریکی فوج کو دی جانے والی سہولت شراکت داری تصور ہوگی

ایران کی خلیجی ممالک کو وارننگ، امریکی فوج کو دی جانے والی سہولت شراکت داری تصور ہوگی

تہران: ایرانی مسلح افواج کے چیف آف اسٹاف علی عبداللہی نے خلیجی ممالک کو خبردار کیا ہے کہ ایران کے خلاف کسی بھی فوجی کارروائی میں امریکا کو اپنی سرزمین، فوجی اڈے یا دیگر سہولیات فراہم کرنے کو تہران محض تعاون نہیں بلکہ ایران کے خلاف ’’شراکت داری‘‘ تصور کرے گا۔

علی عبداللہی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے پیغام میں خلیج کے جنوبی ساحل پر واقع ممالک کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر یہ ممالک یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ امریکا کو ایران کے خلاف اپنی سرزمین استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے تو انہیں یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ خطے میں ہونے والی فوجی سرگرمیاں ایرانی نگرانی سے پوشیدہ نہیں۔

ایرانی کمانڈر نے خصوصاً خلیجی ممالک میں موجود امریکی فوجی اڈوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بڑی تعداد میں امریکی فوجی طیاروں، بالخصوص فضائی ایندھن بھرنے والے طیاروں کی خطے کے فوجی اڈوں پر موجودگی میزبان ممالک کی معلومات کے بغیر ممکن دکھائی نہیں دیتی۔ ان کے مطابق اس نوعیت کی فوجی نقل و حرکت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ امریکی افواج کو خطے میں کسی نہ کسی سطح پر سہولت یا معاونت حاصل ہے۔

علی عبداللہی نے واضح الفاظ میں خبردار کیا کہ ایران امریکی فوج کو دی جانے والی کسی بھی ’’مدد یا سہولت‘‘ کو امریکی فوج کے ساتھ شراکت داری تصور کرے گا۔ ان کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی ایک مرتبہ پھر خطرناک مرحلے میں داخل ہوچکی ہے اور خلیجی خطہ براہِ راست اس تنازع کے اثرات کی زد میں ہے۔

ایرانی مؤقف کے مطابق خلیجی ممالک میں موجود امریکی فوجی تنصیبات واشنگٹن کے لیے خطے میں فوجی کارروائیوں، فضائی آپریشنز، نگرانی اور لاجسٹک سرگرمیوں کے لیے اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ اسی وجہ سے تہران مسلسل خبردار کرتا رہا ہے کہ اگر ان اڈوں کو ایران کے خلاف کارروائیوں کے لیے استعمال کیا گیا تو متعلقہ تنصیبات اور انہیں سہولت فراہم کرنے والے فریق بھی ایرانی ردعمل کے دائرے میں آسکتے ہیں۔

حالیہ مہینوں میں ایران اور امریکا کے درمیان جاری جنگ کے باعث خلیجی ممالک کی سکیورٹی صورتحال پہلے ہی انتہائی حساس ہوچکی ہے۔ ایران ماضی میں بھی خلیج میں موجود امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنا چکا ہے، جبکہ خطے کے متعدد ممالک نے اپنے ہاں موجود امریکی فوجی تنصیبات کے باوجود اس تنازع میں براہ راست فریق بننے سے گریز کرنے کی کوشش کی ہے۔

حالیہ کشیدگی کے دوران ایران نے خلیجی خطے میں امریکی فوجی اہداف کو نشانہ بنانے کے دعوے کیے، جبکہ امریکا نے بھی ایران کے خلاف اپنی فوجی کارروائیاں جاری رکھی ہیں۔ 18 اگست کی صورتحال کے مطابق واشنگٹن اور تہران کے درمیان مذاکرات کے امکانات غیر یقینی ہیں اور آبنائے ہرمز کی صورتحال بھی شدید کشیدگی کا باعث بنی ہوئی ہے۔

ایران کی تازہ وارننگ ایسے وقت سامنے آئی ہے جب خلیجی ممالک ایک مشکل توازن برقرار رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ایک جانب انہیں امریکا کے ساتھ طویل عرصے سے قائم دفاعی اور سکیورٹی تعلقات برقرار رکھنے ہیں، جبکہ دوسری جانب ایران کے ساتھ جغرافیائی قربت اور معاشی و علاقائی روابط کے باعث وہ براہ راست جنگ کا حصہ بننے سے بچنا چاہتے ہیں۔

ایران کی جانب سے یہ پیغام دراصل خلیجی ممالک کے لیے ایک واضح انتباہ سمجھا جا رہا ہے کہ وہ اپنی سرزمین یا فوجی تنصیبات کو ایران کے خلاف امریکی کارروائیوں کے لیے استعمال نہ ہونے دیں۔ تہران کے نزدیک اگر کسی ملک کی سرزمین سے امریکی فوجی کارروائی کی جاتی ہے یا کسی کارروائی کے لیے ضروری فوجی، لاجسٹک یا انٹیلی جنس سہولت فراہم کی جاتی ہے تو اسے محض امریکی سرگرمی قرار دے کر نظر انداز نہیں کیا جائے گا۔

دوسری جانب خطے میں امریکی فوجی موجودگی کئی دہائیوں پر محیط ہے۔ خلیجی ممالک میں امریکی افواج اور تنصیبات کا مقصد بنیادی طور پر علاقائی سلامتی، فضائی و بحری نگرانی، دفاعی تعاون اور خطے میں امریکی مفادات کا تحفظ بتایا جاتا ہے۔ تاہم ایران ان تنصیبات کو اپنی سلامتی کے لیے ایک اہم خطرہ سمجھتا ہے۔

موجودہ صورتحال میں ایران اور خلیجی ممالک کے درمیان تعلقات بھی ایک نازک مرحلے سے گزر رہے ہیں۔ حالیہ کشیدگی کے دوران متحدہ عرب امارات نے ایران پر اپنی حدود کی جانب بیلسٹک میزائل داغنے کا الزام عائد کیا، جس کے بعد ابوظہبی نے ایران کے ساتھ تجارت اور مالی معاملات معطل کرنے کا اعلان بھی کیا۔ ایران نے اس الزام کی تردید کی ہے۔

ماہرین کے مطابق ایرانی قیادت کی جانب سے خلیجی ممالک کو دی جانے والی تازہ وارننگ کا مقصد ایک طرف امریکا کو خطے میں فوجی کارروائیوں کے لیے دستیاب سہولتوں پر دباؤ ڈالنا ہے تو دوسری جانب عرب ریاستوں کو یہ پیغام دینا بھی ہے کہ وہ ایران اور امریکا کے درمیان جنگ میں کسی ایک فریق کی عملی معاونت سے گریز کریں۔

اس وارننگ سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب آبنائے ہرمز عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے حوالے سے پہلے ہی شدید دباؤ کا شکار ہے۔ کسی بھی خلیجی ملک میں موجود امریکی فوجی تنصیب پر حملہ یا کسی میزبان ملک کو ایرانی ردعمل میں شامل کرنا پورے خطے کے لیے سنگین سکیورٹی بحران کا سبب بن سکتا ہے۔

ایرانی مسلح افواج کے چیف آف اسٹاف کا بیان اس بات کا اشارہ بھی ہے کہ تہران امریکی فوجی موجودگی اور خلیجی ممالک کے ساتھ واشنگٹن کے دفاعی تعاون کو اپنی موجودہ جنگی حکمت عملی میں اہم عنصر سمجھتا ہے۔ اس لیے آنے والے دنوں میں خلیجی ریاستوں کی جانب سے امریکی فوجی سرگرمیوں کے حوالے سے اختیار کی جانے والی پالیسی خطے کی مجموعی سکیورٹی صورتحال پر گہرے اثرات مرتب کرسکتی ہے۔

موجودہ حالات میں عالمی طاقتوں اور خلیجی ممالک کے لیے سب سے بڑا چیلنج یہی ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان جاری محاذ آرائی کو مزید وسیع ہونے سے روکا جائے، کیونکہ کسی بھی خلیجی ریاست کی براہ راست شمولیت یا اس کی سرزمین سے کسی فریق کے خلاف فوجی کارروائی پورے مشرق وسطیٰ کو ایک وسیع تر جنگ کی طرف دھکیل سکتی ہے۔

ایران - امریکا - جنگ
Comments (0)
Add Comment