دفترخارجہ نے لوک سبھا میں نام نہاد ‘آپریشن سندور’ پر بحث کے دوران کئے گئے بے بنیاد دعوؤں کو سختی سے مسترد کر دیا

دفترخارجہ نے لوک سبھا میں نام نہاد ‘آپریشن سندور’ پر بحث کے دوران کئے گئے بے بنیاد دعوؤں کو سختی سے مسترد کر دیا

یہ بیانات حقائق کو مسخ کرنے، جارحیت کا جوازپیش کرنے اور تنازعات کو بڑھاوا دینے کے خطرناک رجحان کی عکاسی ہیں، ترجمان

؟ ترجمان نے کہا کہ ہم بھارت کی جانب سے دوطرفہ تعلقات میں ‘نیو نارمل’ قائم کرنے کے بارے میں مسلسل بیانات کو بھی واضح طور پر مسترد کرتے ہیں، جیسا کہ ہم نے مئی 2025 میں اپنی فیصلہ کن کارروائیوں کے ذریعے ثابت کیا ہے

اسلام آبا:  پاکستان بھارتی لیڈران کی جانب سے لوک سبھا میں نام نہاد ‘آپریشن سندور’ پر بحث کے دوران کئے گئے بے بنیاد دعوؤں اور اشتعال انگیز بیانات کو سختی سے مسترد کرتا ہے، یہ بیانات حقائق کو مسخ کرنے، جارحیت کو جواز دینے اور ذاتی مقاصد کے لئے تنازعات کو سراہنے کی خطرناک روش کی عکاسی کرتے ہیں ۔ ان خیالات کا اظہار ترجمان دفتر خارجہ نے بھارتی پارلیمنٹ میں آپریشن سندور پر بحث کے حوالے سے میڈیا کے سوالات پر ردعمل دیتے ہوئے کیا ۔

ترجمان نے کہا کہ پاکستان بھارتی لیڈران کی جانب سے لوک سبھا میں نام نہاد ‘آپریشن سندور’ پر بحث کے دوران کئے گئے بے بنیاد دعوؤں اور اشتعال انگیز بیانات کو سختی سے مسترد کرتا ہے، یہ بیانات حقائق کو مسخ کرنے، جارحیت کو جواز دینے اور ذاتی مقاصد کے لئے تنازعات کو سراہنے کی خطرناک روش کی عکاسی کرتے ہیں۔ ترجمان نے کہا کہ دنیا جانتی ہے کہ بھارت نے پہلگام حملے کے حوالے سے کوئی قابل تصدیق ثبوت یا معتبر تحقیقات کے بغیر پاکستان پر حملہ کیا، 6 اور 7 مئی 2025 کی درمیانی رات بھارت نے نام نہاد دہشت گرد ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کے نتیجے میں درحقیقت معصوم مردوں، خواتین اور بچوں کی شہادت ہوئی، بھارت اپنے کسی بھی سٹرٹیجک مقصد میں کامیاب نہیں ہوا۔ دوسری جانب پاکستان کی جانب سے بھارتی لڑاکا طیاروں اور فوجی اہداف کو ناکارہ بنانے میں حاصل کی گئی شاندار کامیابی ایک ناقابل تردید حقیقت ہے،

بھارتی حکمران کو اپنے عوام کو گمراہ کرنے کے بجائے اپنی مسلح افواج کے نقصانات اور جنگ بندی کو ممکن بنانے میں تیسرے فریق کے فعال کردار کو تسلیم کرنا چاہئے، بھارت نے پہلگام حملے کی شفاف اور آزادانہ تحقیقات کے لئے پاکستان کے وزیر اعظم کے فوری پیش کردہ اُس موقع سے فائدہ نہیں اٹھایا بلکہ اس نے جارحیت اور تشدد کا راستہ اختیار کیا، اس نے خود کو جج، وکیل اور منصف سب بنا لیا، اس پس منظر میں نام نہاد ‘آپریشن مہادیو’ کے حوالے سے کوئی بھی دعویٰ ہمارے لئے کوئی اہمیت نہیں رکھتا، بھارتی وزیر داخلہ کا بیان جھوٹ سے بھرپور ہے جس کی وجہ سے اس کی ساکھ پر سوالات اٹھتے ہیں،

کیا یہ محض اتفاق ہے کہ پہلگام حملے کے نام نہاد مجرم لوک سبھا بحث کے آغاز میں ہی مارے گئے؟ ترجمان نے کہا کہ ہم بھارت کی جانب سے دوطرفہ تعلقات میں ‘نیو نارمل’ قائم کرنے کے بارے میں مسلسل بیانات کو بھی واضح طور پر مسترد کرتے ہیں، جیسا کہ ہم نے مئی 2025 میں اپنی فیصلہ کن کارروائیوں کے ذریعے ثابت کیا ہے، ہم کسی بھی مستقبل کی جارحیت کا سختی سے مقابلہ کریں گے، ہمارے لئے دوطرفہ تعلقات میں واحد ‘نارمل’ خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے اصولوں پر عملدرآمد ہے، بھارت کا پاکستان کی جانب سے ‘جوہری بلیک میلنگ’ کا نام نہاد دعویٰ ایک گمراہ کن اور خود غرض بیانیہ ہے، جو اپنی جارحیت کو چھپانے اور الزام پاکستان پر ڈالنے کی کوشش ہے، یہ ایک معروف حقیقت ہے کہ پاکستان نے روایتی صلاحیتوں کے ذریعے بھارت کو روکا جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ نظم و ضبط اور تحمل ہمارے رہنما اصول ہیں۔

ترجمان نے کہا کہ ہم بھارتی رہنماؤں کے سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے غلط بیانیوں پر بھی اپنی ناراضگی ریکارڈ پر لانا چاہتے ہیں۔ بھارت کا معاہدے کو معطل کرنے کا فیصلہ بین الاقوامی معاہدوں کی روح کے خلاف ہے اور خطے میں تعاون کے ایک بنیادی ستون کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہے، یکطرفہ اور غیر قانونی اقدام پر فخر کرنے کے بجائے بھارت کو فوری طور پر اپنے حصے کی ذمہ داریوں کو پورا کرنا چاہئے۔ ترجمان نے کہا کہ بھارت کا جھوٹ، جنونی پن اور خود نمائی پر انحصار اس جنوبی ایشیا کو غیر مستحکم کرنے کا خطرہ ہے تاہم ایک ذمہ دار ملک ہونے کے ناطے پاکستان امن، علاقائی استحکام اور تمام تصفیہ طلب مسائل بشمول جموں و کشمیر کے بنیادی تنازعہ کے حل کے لئے بات چیت کے لئے پرعزم ہے۔

بشکریہ: اے پی پی

آپریشن سندورپاک - بھارت- جنگپاکستان- دفتر خارجہ
Comments (0)
Add Comment