بھارت کی افغانستان میں دہشت گرودں کی پشت پناہی ، نرسریاں، تربیت اور دیگر سرگرمیاں ریکارڈ پر ہیں، ترجمان دفتر خارجہ
پاکستان کو افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کی سرحدی خلاف ورزیوں پر شدید تحفظات کا اظہار ہے
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ ہمارا ہدف اور درست دفاعی ردعمل افغان شہری آبادی کو نشانہ نہیں بنایا گیا۔ طالبان فورسز کے برعکس، ہم نے شہریوں کی جانوں کے ضیاع سے بچنے کے لیے اپنے دفاعی ردعمل میں انتہائی احتیاط برتی۔
اسلام آباد (خاور عباس شاہ) ترجمان دفتر خارجہ نے ہفتہ وار بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ طالبان حکومت کی درخواست پر اور باہمی رضامندی سے، حکومت پاکستان اور افغان طالبان حکومت نے عارضی جنگ بندی پر عمل درآمد کا فیصلہ کیا جو 15 اکتوبر 2025 کو شام 6 بجے سے نافذ العمل ہوا اور یہ 48 گھنٹے تک جاری رہے گی۔ اس عرصے کے دوران، دونوں فریق تعمیری بات چیت کے ذریعے اس پیچیدہ لیکن قابل حل مسئلے کا مثبت حل تلاش کرنے کی مخلصانہ کوششیں کر رہے ہیں۔
پاکستان مذاکرات اور سفارت کاری اور افغانستان کے ساتھ باہمی طور پر فائدہ مند تعلقات کو بہت اہمیت دیتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ، حکومت پاکستان صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور اپنی سرزمین اور اپنے لوگوں کی جانوں کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدامات کرے گی۔
پاکستان کو افغان طالبان، فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کی اشتعال انگیزی پر تشویش ہے، پاکستان نے اپنی دفاع کا حق استعمال کیا، ہمارا ٹارگٹ افغان عوام نہیں ہمارا ٹارگٹ دفاعی جوابی کارروائی تھی، افغان طالبان کی درخواست پر 48 گھنٹوں کے لیے سیز فائر ہوا کیوں کہ پاکستان ڈائیلاگ پر یقین رکھتا ہے۔
ترجمان نے کہا کہ پاکستانی حکومت افغان وزیر خارجہ امیر خان متقی کے بیان کو مسترد کرتا ہے جو ہندوستان میں دیا گیا، پاکستان نے فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے ثبوت کئی بار پیش کیے، پاکستان نے چالیس لاکھ افغان شہریوں کی میزبانی کی، امید کرتے ہیں طالبان حکومت دہشت گردی کے خلاف کام کرے گی۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے افغانستان اور ہندوستان کے جوائنٹ اسٹیٹمنٹ پر اعتراضات افغان سفیر کو بھیجے، پاکستان افغان شہریوں کی موجودگی پر قانون کے مطابق اقدامات کر رہا ہے، امید کرتے ہیں کہ ایک روز افغان شہری اپنے سچے نمائندوں پر حکومت دیکھیں گے، طالبان وزیر خارجہ کے دہشت گردی کے پاکستان کا اندرونی مسئلہ ہونے کے بیان کو مسترد کرتا ہے، پاکستان افغان عبوری وزیر خارجہ کے دورہ بھارت میں مشترکہ اعلامیہ کو مسترد کرتا ہے، مشترکہ اعلامیہ میں مقبوضہ کشمیر کو بھارت کا حصہ دکھایا گیا۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ یہ مقبوضہ کشمیر کے عوام کی نفی کرنے کے مترادف ہے، سیکرٹری خارجہ نے غیر ملکی سفراء کو افغان طالبان کی جارحیت کے بعد کی صورتحال پر بریفنگ دی، ہم افغان طالبان کی جانب سے کسی ملک کو کسی قسم کی معلومات کی فراہمی کے پابند نہیں ہیں تاہم ایسے واقعات کے حوالے سے دوست ممالک کو آگاہ رکھا جاتا ہے۔
ترجمان نے کہا کہ پاکستان نے افغانستان میں دہشت گرد عناصر کی موجودگی سے توجہ ہٹانے کے لیے ہندوستان میں موجود عبوری افغان وزیر خارجہ کے دعوؤں کو سختی سے مسترد کیا ہے۔ یہ بے بنیاد دعوے کر کے طالبان حکومت علاقائی امن اور استحکام کے حوالے سے اپنی ذمہ داریوں سے خود کو بری نہیں کر سکتی۔ افغان سرزمین پر دہشت گرد عناصر کی مسلسل موجودگی اور افغانستان میں ان کی سرگرمیوں کی آزادی کو اچھی طرح سے دستاویزی شکل دی گئی ہے، بشمول اقوام متحدہ کی مانیٹرنگ ٹیم کی رپورٹس میں۔
انہوں نے کہا کہ اسلام آباد اور کابل میں سفارت خانے فعال ہیں، دونوں ممالک کے سفیر ایک دوسرے کے ممالک میں موجود ہیں، دونوں ممالک کے مابین معمول کے رابطے جاری ہیں، پاک افغان طالبان کشیدگی میں ابتدائی براہ راست رابطے ہوئے تاہم اس حوالے سے دوست ممالک کی بھی کوششیں ہیں، اس وقت دوحہ کے حوالے سے معاہدے یا مذاکرات کے حوالے سے شئیر کرنے کو کچھ نہیں ہے۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ بھارت کی جانب سے افغانستان میں دہشت گردوں کی پشت پناہی، نرسریاں، تربیت اور دیگر سرگرمیاں ریکارڈ پر ہیں، بھارت کا منفی کردار کسی سے ڈھکا چھپا نہیں، بھارتی وزارت خارجہ کے بیانات کسی سے چھپے نہیں ہیں، سب کو علم ہے کہ افغانستان میں ٹی ٹی پی، بی ایل اے سمیت دیگر دہشت گردوں کی سرپرستی بھارت کر رہا ہے، کابل میں اس وقت کوئی آئین موجود نہیں ہے، کابل میں ایک گروہ طاقت کے بل بوتے پر اقتدار میں ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ افغان طالبان کی جانب سے لاشوں کی بے حرمتی قابل مذمت ہے، ہم نے معاملے کو کابل افغان انتظامیہ کے ساتھ اٹھایا ہے، یہ ناقابل برداشت ہے، ہم نے کابل میں کسی بھی برسراقتدار گروپ سے تعلقات برقرار رکھے ہیں۔
پاکستان نے افغان قائم مقام وزیر خارجہ کے اس دعوے کو بھی سختی سے مسترد کر دیا کہ دہشت گردی پاکستان کا اندرونی مسئلہ ہے کیونکہ پاکستان نے بارہا فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشت گرد عناصر کی موجودگی کے حوالے سے تفصیلات بتائی ہیں جو افغانستان کے اندر موجود عناصر کی حمایت سے پاکستان کے خلاف افغان سرزمین سے سرگرم ہیں۔ اس نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کی طرف دہشت گردی پر قابو پانے کی ذمہ داری سے انحراف کرتے ہوئے، عبوری افغان حکومت خطے اور اس سے باہر امن و استحکام کو یقینی بنانے کی اپنی ذمہ داریوں سے بری نہیں ہو سکتی۔
14 اکتوبر 2025 کو سیکرٹری خارجہ کی سفیر آمنہ بلوچ نے اسلام آباد میں مقیم سفیروں کے لیے پاکستان-افغانستان سرحد پر تازہ ترین پیش رفت کے بارے میں ایک جامع بریفنگ سیشن کی میزبانی کی جہاں انہوں نے پاکستان کے جائز سیکورٹی خدشات اور اس کی علاقائی سالمیت اور قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے اس کے غیر متزلزل عزم پر زور دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور چین کے درمیان تمام موسموں میں آٓزمودہ دوستی ہے، چین کے ساتھ تعلقات ہماری سفارتی پالیسی کا اہم حصہ ہیں، پاکستان سی پیک کا ایک جدید ورژن تیار کرنے میں چین کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے، پاکستان چین کو عالمی بہتری کا ستون سمجھتا ہے، آئندہ برس دونوں ممالک اپنے سفارتی تعلقات کی 75 ویں سالگرہ منائیں گے۔