ایران اور امریکا کو اسلام آباد ایم او یو اور قطر ڈیکلریشن پر لانے کی کوشش کر رہے ہیں : ترجمان دفترِ خارجہ

ایران اور امریکا کو اسلام آباد ایم او یو اور قطر ڈیکلریشن پر لانے کی کوشش کر رہے ہیں : ترجمان دفترِ خارجہ

پاکستان اور کویت کے درمیان دفاعی تعاون کا معاہدہ، پاک سعودی اسٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدے سے مختلف نوعیت کا ہے

اسلام آباد: ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی نے کہا ہے کہ بحیرۂ احمر اور آبنائے ہرمز کی موجودہ صورتحال انتہائی تشویشناک ہے اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں جاری ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان فریقین کو اسلام آباد مفاہمتی یادداشت (MoU) اور قطر ڈیکلریشن کے تحت مذاکرات کی میز پر واپس لانے کے لیے سرگرم کردار ادا کر رہا ہے۔

ہفتہ وار میڈیا بریفنگ میں ترجمان نے سعودی عرب پر غیر ریاستی عناصر کے حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت سعودی عرب کو اپنے دفاع کا مکمل حق حاصل ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حملے عراقی سرزمین سے کیے گئے، جبکہ سعودی وزارت دفاع کے مطابق مشرقی صوبے اور ریاض کو نشانہ بنانے والے متعدد ڈرون تباہ کر دیے گئے۔ عراق کے ردعمل کے حوالے سے فی الحال کوئی مصدقہ معلومات دستیاب نہیں۔

طاہر حسین اندرابی نے کہا کہ پاکستان اور کویت کے درمیان دفاعی تعاون کا معاہدہ، پاک سعودی اسٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدے سے مختلف نوعیت کا ہے۔ اس معاہدے کے تحت دونوں ممالک مشترکہ فوجی مشقوں، تربیتی پروگراموں اور دفاعی شعبے میں تعاون کو مزید وسعت دیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ معاہدہ جون 2023 میں طے پایا تھا، جس کی کویت نے اب باقاعدہ توثیق کر دی ہے، جبکہ یہ چار دہائیوں پر محیط دفاعی تعلقات کا تسلسل ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کے اردن اور بحرین کے ساتھ بھی مضبوط دفاعی روابط موجود ہیں اور ضرورت پڑنے پر نئے دفاعی معاہدوں سے متعلق آگاہ کیا جائے گا۔

بھارت کے ساتھ سفارتی تعلقات پر بات کرتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے ہائی کمیشنز میں معمول کی تعیناتیوں اور تبادلوں کے لیے انتظامی طریقہ کار مکمل کر لیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ تعیناتیاں سفیروں کی سطح پر نہیں بلکہ ورکنگ لیول پر کی گئی ہیں۔ ان کے مطابق پاکستان نے بھارتی یاتریوں اور مذہبی زائرین کو قابل ذکر تعداد میں ویزے جاری کیے ہیں، جبکہ عام بھارتی شہریوں کو جاری کیے گئے ویزوں کی تعداد محدود ہے، جس کی تفصیلات بعد میں فراہم کی جائیں گی۔

شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کے حوالے سے ترجمان نے کہا کہ تنظیم کے مختلف اجلاسوں میں بعض اوقات صدور اور بعض مواقع پر وزرائے اعظم کی سطح پر نمائندگی ہوتی ہے، جبکہ پاکستان تمام رکن ممالک کو باضابطہ دعوت نامے ارسال کرے گا۔

جموں و کشمیر کے مسئلے پر پاکستان کے مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے طاہر حسین اندرابی نے کہا کہ تنازع کشمیر کا واحد قابل قبول حل اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق آزادانہ اور غیر جانبدارانہ استصوابِ رائے ہے۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر کی کسی مقامی اسمبلی یا حکومت کے فیصلے اقوام متحدہ کی قراردادوں کا متبادل نہیں ہو سکتے اور بھارت اپنے غیر قانونی قبضے کو کسی صورت قانونی جواز فراہم نہیں کر سکتا۔

بھارتی وزیر دفاع کے حالیہ بیان پر ردعمل دیتے ہوئے ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان اس بیان کا مؤثر جواب پہلے ہی دے چکا ہے، جبکہ کارگل کے حوالے سے پاکستان کا مؤقف واضح، مستقل اور ریکارڈ پر موجود ہے، اور یہ معاملہ اب تاریخ کا حصہ بن چکا ہے۔

ترجمان - دفتر خارجہ - طاہر اندرابی
Comments (0)
Add Comment