ایران مخالف قرارداد کی حمایت سعودی عرب، اردن اور جاپان کو مہنگی پڑے گی، اسماعیل بقائی
ایران اور خلیجی ممالک کے درمیان مذاکرات خطے میں کشیدگی کم کرنے اور مسائل کے حل کی جانب اہم قدم ہیں۔ ترجمان ایرانی وزارت خارجہ
تہران: ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے سعودی عرب، اردن اور جاپان کو خبردار کیا ہے کہ ایران مخالف قرارداد کی حمایت کے سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں، خطے کے ممالک کو بیرونی مداخلت کے بغیر باہمی مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کرنے پر زور دیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق سرکاری ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے اسماعیل بقائی نے کہا کہ ایران اور خلیجی ممالک کے درمیان مذاکرات خطے میں کشیدگی کم کرنے اور مسائل کے حل کی جانب اہم قدم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ علاقائی تنازعات کا پائیدار حل بیرونی طاقتوں کی مداخلت میں نہیں بلکہ باہمی بات چیت اور سفارتی کوششوں میں مضمر ہے۔
ایرانی ترجمان نے مختلف ممالک کو مذاکرات کی میز پر لانے کو اہم سفارتی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ خطے میں امن و استحکام کے لیے بات چیت کا راستہ کھلا رہنا چاہیے۔
اسماعیل بقائی نے ایران کی موجودہ صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’ہم نہ تو جنگ اور نہ ہی امن کی کیفیت میں ہیں بلکہ اس وقت حالتِ جنگ سے گزر رہے ہیں۔‘‘ انہوں نے دوٹوک الفاظ میں واضح کیا کہ ایران کے خلاف سمندری پابندیاں اور ناکہ بندی جنگی اقدامات کے مترادف ہیں، اس لیے ایران کی جانب سے اٹھایا جانے والا ہر اقدام دفاعی نوعیت کا سمجھا جائے۔
انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ آبنائے ہرمز پر ایران کا مکمل کنٹرول برقرار ہے اور عالمی سطح پر ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کی ذمہ داری صرف امریکا پر عائد ہوتی ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے خبردار کیا کہ ایران کے خلاف اقدامات کرنے والے ممالک کو ان کے نتائج بھگتنا ہوں گے، کیونکہ موجودہ صورتحال میں تہران کے لیے تحمل کی گنجائش محدود ہوتی جا رہی ہے۔
اسماعیل بقائی کے بیان میں سعودی عرب، اردن اور جاپان کو ایران مخالف قرارداد کی حمایت پر واضح انتباہ دیا گیا، تاہم انہوں نے اس قرارداد کی نوعیت یا ممکنہ اقدامات کی مزید تفصیلات بیان نہیں کیں۔