برطانوی پارلیمنٹ میں معاونت سے موت کا بل مسترد، 286 ارکان نے مخالفت کردی
لندن: برطانوی ارکان پارلیمنٹ نے انگلینڈ اور ویلز میں شدید اور لاعلاج بیماری میں مبتلا بالغ افراد کو اپنی زندگی ختم کرنے میں طبی معاونت فراہم کرنے کی اجازت دینے والا متنازع بل مسترد کردیا۔
ہاؤس آف کامنز میں جمعہ کو تقریباً چار گھنٹے جاری رہنے والی پرجوش بحث کے بعد ’’ٹرمینلی اِل ایڈلٹس (اینڈ آف لائف) بل‘‘ کے حق میں 270 جبکہ مخالفت میں 286 ووٹ آئے، یوں بل 16 ووٹوں کے فرق سے مسترد ہوگیا۔
یہ فیصلہ گزشتہ برس کے نتائج کے برعکس ہے جب تقریباً اسی نوعیت کے بل کو 23 ووٹوں کی اکثریت سے منظوری ملی تھی۔
مجوزہ قانون کے تحت انگلینڈ اور ویلز میں ایسے بالغ افراد کو، جن کے پاس زندگی کے صرف چھ ماہ یا اس سے کم رہ جانے کی تصدیق ہوتی، معاونت سے موت کا اختیار حاصل ہوسکتا تھا۔ تاہم اس کے لیے دو ڈاکٹروں اور ایک ماہر پینل کی منظوری لازمی قرار دی گئی تھی۔
جمعہ کی ووٹنگ کے ساتھ برطانوی پارلیمنٹ میں معاونت سے موت کے معاملے پر جاری تقریباً دو سالہ بحث کا موجودہ مرحلہ اختتام پذیر ہوگیا۔ ہاؤس آف کامنز اس سے قبل دو مرتبہ اس اقدام کی حمایت کرچکا تھا، تاہم یہ قانون سازی ایوانِ بالا، ہاؤس آف لارڈز، میں پیش رفت نہ کرسکی۔
بحث کے دوران ارکان پارلیمنٹ نے اس قانون کے حق اور مخالفت میں ذاتی تجربات، انسانی حقوق اور طبی و اخلاقی دلائل پیش کیے۔ برطانوی حکومت نے معاملے پر غیر جانب دار رہنے کا فیصلہ کیا، جس کے باعث ارکان کو جماعتی پالیسی کے بجائے اپنی صوابدید اور ضمیر کے مطابق ووٹ دینے کی اجازت تھی۔
برطانوی وزیر اعظم اینڈی برنہم نے بھی ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ بحث پر ’’غیر ضروری طور پر اثرانداز‘‘ نہیں ہونا چاہتے۔
حفاظتی اقدامات پر شدید تحفظات
بل کے مخالف ارکان نے اسے غیر محفوظ قرار دیتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا کہ کمزور اور بیمار افراد کو خاندان یا دیگر لوگوں کی جانب سے دباؤ کا سامنا ہوسکتا ہے، جبکہ معذور افراد کے تحفظ کے لیے مجوزہ حفاظتی اقدامات بھی ناکافی ہیں۔
انگلینڈ اور ویلز میں کیتھولک چرچ کے سربراہ آرچ بشپ رچرڈ موتھ نے بھی بل کی مخالفت کرتے ہوئے اسے اصولی طور پر غلط اور سنگین خامیوں کا حامل قرار دیا۔
چرچ آف انگلینڈ کی آرچ بشپ آف کینٹربری سارہ مولالی نے بھی مجوزہ قانون پر تحفظات کا اظہار کیا۔
رائل کالج آف سائیکاٹرسٹس نے بھی بل کے حوالے سے ’’سنگین خدشات‘‘ ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ذہنی بیماری میں مبتلا افراد کے تحفظ اور نگہداشت سے متعلق کئی اہم سوالات تاحال جواب طلب ہیں۔
واضح رہے کہ معاونت سے خودکشی یا معاونت سے موت بعض ممالک، جن میں بیلجیم، کینیڈا، نیدرلینڈز، اسپین اور سوئٹزرلینڈ شامل ہیں، میں مختلف شرائط کے تحت قانونی ہے، جبکہ امریکا کی بعض ریاستوں میں بھی اس کی اجازت موجود ہے۔