امریکا نے ایران کو وینزویلا بنانے کا سوچا لیکن ایسا نہیں ہوا ، مسعود پزشکیان

امریکا نے ایران کو وینزویلا بنانے کا سوچا لیکن ایسا نہیں ہوا ، مسعود پزشکیان

ایران معاشی، عسکری اور سکیورٹی جنگ میں ہے، عوام مشکلات کے باوجود مضبوط ہیں:  ایرانی صدر

ایرانی صدر نے کہا کہ دشمن نے ایران کو وینزویلا بنانے کا منصوبہ بنایا تھا ، تاہم ایسا نہیں ہوسکا، جنگی مشکلات کا سامنا کرنے والے عوام کے متفقہ مؤقف کے نتیجے میں مفاہمتی یادداشت تک پہنچنے میں مدد ملی۔

تہران: ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایران اس وقت مکمل معاشی، عسکری اور سکیورٹی جنگ کا سامنا کر رہا ہے، تاہم ملک ان مشکل حالات کے باوجود مضبوطی سے اپنے موقف پر قائم ہے اور عوام کو خدمات کی فراہمی کے لیے حکومت اپنی تمام تر کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔

ٹیلی ویژن خطاب میں مسعود پزشکیان نے کہا کہ ایران کو غیر مساوی اور غیر قانونی جنگی حالات کا سامنا ہے، جس کے باوجود حکومت عوامی مسائل حل کرنے اور ملک کے امور چلانے کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری کر رہی ہے۔

ایرانی صدر نے کہا کہ دشمن نے ایران کو وینزویلا جیسے حالات سے دوچار کرنے کا منصوبہ بنایا تھا، تاہم وہ اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہوسکا۔ انہوں نے کہا کہ جنگی مشکلات کا سامنا کرنے والے ایرانی عوام کے متفقہ موقف نے مفاہمتی یادداشت تک پہنچنے میں اہم کردار ادا کیا۔

مسعود پزشکیان کے مطابق ماہرین نے اس مفاہمت کی یادداشت کو مصلحت، عزت اور دانائی پر مبنی قرار دیا ہے۔ انہوں نے مفاہمت کی مخالفت کرنے والوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جو لوگ اس اقدام کی مخالفت کر رہے ہیں، وہ موجودہ حالات اور معاملات کو درست انداز میں نہیں سمجھ رہے۔

ایرانی صدر نے ملکی معیشت کی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ معیشت میں موجود نمایاں مسائل حکومت کے لیے باعثِ تشویش اور شرمندگی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو معاشی مشکلات سے نکالنے کے لیے حکومت کو مزید مؤثر اقدامات کرنا ہوں گے۔

پیزشکیان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نئی اور سخت پابندیوں کی دھمکیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ امریکی صدر آسانی سے یہ اعلان کرتے ہیں کہ امریکا ایران پر ’سب سے تباہ کن‘ یا ’بدترین‘ پابندیاں عائد کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ ایران کو ایک غیر مساوی جنگ کا سامنا ہے، لیکن اس کے باوجود ملک اپنی جگہ قائم ہے اور حکومت عوام کی خدمت جاری رکھے ہوئے ہے۔

ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ موجودہ صورتحال میں معاشی دباؤ، عسکری خطرات اور سکیورٹی چیلنجز ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں، اس لیے ملک کو درپیش مشکلات کا مقابلہ کرنے کے لیے قومی یکجہتی اور عوامی تعاون انتہائی اہم ہے۔

ایران اس وقت امریکی پابندیوں اور معاشی دباؤ کے ساتھ ساتھ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کا بھی سامنا کر رہا ہے۔ آبنائے ہرمز کے معاملے پر تہران اور واشنگٹن کے درمیان اختلافات برقرار ہیں، جبکہ ایران کی معیشت پہلے ہی پابندیوں، تجارتی رکاوٹوں اور علاقائی کشیدگی کے باعث دباؤ میں ہے۔

ایران -صدر-مسوعد پژشکیان
Comments (0)
Add Comment