اسرائیلی اور امریکی حملے میں ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای شہید
حملے میں بیٹا ، بہو ،سمیت دیگر اعلیٰ عہدیدار بھی شہید
ایرانی سرکاری میڈیا نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای ہفتے کے روز ہونے والے مبینہ امریکی اور اسرائیلی حملوں میں شہید ہوگئے۔ رپورٹ کے مطابق حملہ ان کے دفتر پر کیا گیا جہاں وہ موجود تھے۔
سرکاری نشریاتی ادارے کے مطابق سپریم لیڈر کی شہدات پر پر ملک بھر میں سات روزہ تعطیل اور چالیس روزہ سوگ کا اعلان کیا گیا ہے۔ آیت اللہ خامنہ ای 1989 سے ایران کے سپریم لیڈر تھے اور وہ آیت اللہ روح اللہ خمینی کے انتقال کے بعد اس منصب پر فائز ہوئے تھے۔
ایرانی میڈیا کا مزید کہنا ہے کہ ان حملوں میں سپریم لیڈر کے اہلِ خانہ، بشمول بیٹی، نواسے، داماد اور بہو کے بھی جاں بحق ہونے کی اطلاعات ہیں۔
اس سے قبل اسرائیلی میڈیا نے دعویٰ کیا تھا کہ ایرانی سپریم لیڈر اپنے ساتھیوں کے ہمراہ ایک زیرِ زمین بنکر میں موجود تھے اور ان کے کمپاؤنڈ پر متعدد بم گرائے گئے۔ بعض اسرائیلی رپورٹس میں کہا گیا کہ بڑی تعداد میں اعلیٰ حکام بھی ہلاک ہوئے۔
اسرائیلی وزیرِاعظم بینجمن نیتن یاہو نے ایک ویڈیو بیان میں کہا کہ ایسے اشارے مل رہے ہیں کہ ایرانی سپریم لیڈر اب زندہ نہیں رہے۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈر اور سینئر جوہری حکام بھی مارے گئے ہیں اور ایران کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی۔
خبر رساں اداروں کے مطابق حالیہ حملوں میں ایران کے وزیر دفاع امیر ناصر زادہ اور پاسدارانِ انقلاب کے سربراہ محمد پاکپور کی ہلاکت کی بھی اطلاعات ہیں۔
واضح رہے کہ ان دعوؤں کے بارے میں بین الاقوامی سطح پر آزاد ذرائع سے تصدیق کی تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔