آخری سانس تک ایران کی خودمختاری کا دفاع کریں گے، ایرانی آرمی چیف
ایسے حالات میں بیداری اور دشمن کے مقاصد کی درست سمجھ بوجھ ہی کامیابی کی کنجی ہے۔ آرمی کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج کی گریجویشن تقریب سے خطاب
مہر خبررساں ایجنسی کے مطابق، فوجی اکیڈمی کی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی مسلح افواج کے سربراہ امیر حاتمی نے کہا کہ موجودہ تیزی سے بدلتے حالات میں مسلح افواج کا کردار نہایت اہم اور فیصلہ کن ہو چکا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ہائبرڈ جنگ اور اسٹریٹجک دباؤ جیسے چیلنجز کا مؤثر مقابلہ کرنے کے لیے مکمل تیاری ضروری ہے۔
آرمی کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج کی گریجویشن تقریب سے خطاب میں انہوں نے واضح کیا کہ ایران اپنی آزادی، علاقائی سالمیت اور سیاسی نظام کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے اور اس مشن کو ہر صورت جاری رکھا جائے گا۔
جنرل حاتمی نے فارغ التحصیل افسران کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ ملک اس وقت ایک پیچیدہ اور مسلسل بدلتے ہوئے سیکیورٹی ماحول سے دوچار ہے۔ ان کے مطابق حالیہ برسوں میں ملک اور نظام کو کمزور کرنے کی متعدد دشمنانہ کوششیں ناکام بنائی جا چکی ہیں، جس سے مسلح افواج کی ذمہ داریاں مزید بڑھ گئی ہیں۔
انہوں نے دشمن کی ناقابلِ شکست ہونے کی دعویداری کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ تاریخ اس کے برعکس مثالوں سے بھری پڑی ہے۔ انہوں نے ویتنام، افغانستان اور عراق کی جنگوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بیرونی طاقتیں اکثر دھونس اور دھمکی کے ساتھ میدان میں اترتی ہیں، لیکن انجام کار ناکامی کا سامنا کرتی ہیں۔
آرمی چیف نے موجودہ خطرات کو ایک وسیع ہائبرڈ جنگ کا حصہ قرار دیا، جو سیاسی، معاشی، سماجی، عسکری، نفسیاتی اور ادراکی محاذوں پر بیک وقت جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایسے حالات میں بیداری اور دشمن کے مقاصد کی درست سمجھ بوجھ ہی کامیابی کی کنجی ہے۔ ان کے بقول مزاحمت درست شعور اور اسٹریٹجک بصیرت پر قائم ہوتی ہے، جبکہ قیادت کی ہدایات اور مشن سے آگاہی قومی طاقت کو برقرار رکھنے میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔
جنرل حاتمی نے اسٹریٹجک ایٹریشن کی حکمت عملی کا ذکر کرتے ہوئے خبردار کیا کہ مخالفین مسلسل دباؤ کے ذریعے ایران کو بتدریج کمزور کرنا چاہتے ہیں، تاہم وہ اپنے عزائم میں کامیاب نہیں ہوں گے۔
خطاب کے اختتام پر انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ مسلح افواج ملک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے دفاع کے لیے آخری دم تک ڈٹی رہیں گی۔