چین کی جانب سے ایران کی کسی بھی قسم کی مدد ناقابل قبول ہے، ٹرمپ کا چینی صدر کو دوٹوک پیغام
امریکا نے بیجنگ کو کئی ہفتے قبل اپنے تحفظات سے آگاہ کردیا تھا، چینی صدر سے ملاقات میں بھی امریکی صدر نے واضح مؤقف دہرایا: امریکی سفیر
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چینی صدر شی جن پنگ سے وائٹ ہاؤس میں ہونے والی ملاقات کے دوران واضح کیا ہے کہ ایران کو چین کی جانب سے کسی بھی قسم کی براہ راست یا بالواسطہ مدد امریکا کے لیے ناقابل قبول ہے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق چین میں امریکی سفیر ڈیوڈ پرڈیو نے امریکی ٹی وی چینل سی این بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن نے بیجنگ کو کئی ہفتے قبل ہی ایران کے حوالے سے اپنے تحفظات سے آگاہ کردیا تھا۔
ڈیوڈ پرڈیو کے مطابق امریکا نے چین پر واضح کیا ہے کہ ایران کو کسی بھی نوعیت کی معاونت، خواہ وہ انٹیلی جنس معلومات کی فراہمی ہو، فوجی پرزہ جات ہوں یا دیگر فوجی سازوسامان، واشنگٹن کے لیے قابل قبول نہیں ہوگی۔
امریکی سفیر نے بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ وائٹ ہاؤس میں ہونے والی ملاقات کے دوران بھی یہی مؤقف دوٹوک انداز میں دہرایا اور بیجنگ کو ایران کے ساتھ تعاون کے حوالے سے امریکی خدشات سے آگاہ کیا۔
پرڈیو کے مطابق واشنگٹن کی تشویش صرف براہ راست فوجی امداد تک محدود نہیں بلکہ ایران کو بالواسطہ طور پر فراہم کی جانے والی ممکنہ معاونت بھی امریکی حکام کی نظر میں اہم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا ایران کو فراہم کیے جانے والے انٹیلی جنس، پرزہ جات اور فوجی سازوسامان سمیت مختلف شعبوں میں ہونے والے ممکنہ تعاون کو قریب سے دیکھ رہا ہے۔
امریکی صدر کی جانب سے یہ پیغام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب واشنگٹن اور بیجنگ کے درمیان عالمی اور علاقائی امور پر اختلافات موجود ہیں، جبکہ ایران سے متعلق امریکی پالیسی بھی خطے میں جاری کشیدگی کے باعث انتہائی اہمیت اختیار کرچکی ہے۔
چین اور ایران کے درمیان طویل عرصے سے اقتصادی، توانائی اور سفارتی روابط موجود ہیں، جبکہ بیجنگ متعدد مواقع پر ایران کے ساتھ اپنے تعلقات کو برقرار رکھنے کا عندیہ دے چکا ہے۔ دوسری جانب امریکا ایران پر دباؤ برقرار رکھنے کے لیے اپنے اتحادیوں اور دیگر ممالک سے بھی تعاون کا مطالبہ کرتا رہا ہے۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ایران کو ایسی کسی بھی معاونت کی فراہمی جس سے اس کی دفاعی یا فوجی صلاحیتوں میں اضافہ ہو، خطے میں واشنگٹن کے مفادات اور اس کی پالیسی کے لیے باعث تشویش ہوگی۔
چینی صدر کے ساتھ ملاقات میں ٹرمپ کی جانب سے یہ معاملہ اٹھائے جانے سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران سے متعلق پالیسی امریکا اور چین کے درمیان اعلیٰ سطح کے مذاکرات میں بھی ایک اہم موضوع بن چکی ہے۔
امریکی سفیر ڈیوڈ پرڈیو نے واضح کیا کہ واشنگٹن نے اس معاملے پر اپنا مؤقف بیجنگ تک پہلے ہی پہنچا دیا تھا اور صدر ٹرمپ نے حالیہ ملاقات میں اسے ایک مرتبہ پھر براہ راست چینی قیادت کے سامنے رکھ دیا ہے۔