فضائی آلودگی کوئی قدرتی آفت نہیں، بلکہ انسان کا پیدا کردہ ایک مسئلہ ہے، ڈاکٹرمصدق ملک
صاف اور صحت مند ماحول تک رسائی ہر شہری کا بنیادی حق ہے۔ وزیر برائے ماحولیاتی تبدیلی
وزیر برائے ماحولیاتی تبدیلی ڈاکٹر مصدق مسعود ملک نے صاف ہوا کو یقینی بنانے اور فضائی آلودگی کے خاتمے کے لیے مؤثر پالیسیاں وضع کرنے کی اہمیت پر زور دیا ہے۔ فضائی آلودگی کوئی قدرتی آفت نہیں، بلکہ انسان کی پیدا کردہ ایک ایسی مسئلہ ہے جس پر مؤثر طریقے سے قابو پایا جا سکتا ہے۔
ریڑھی بان، کسان اور دیگر بیرونی ماحول میں کام کرنے والے افراد بھی فضائی آلودگی سے متاثر ہوتے ہیں۔ فصلوں کی باقیات جلانے والے کسان بھی اس عمل کے نتیجے میں پیدا ہونے والی آلودگی سے محفوظ نہیں رہتے۔ فضائی آلودگی کو ایک ناگزیر قدرتی آفت کے بجائے پالیسی کا مسئلہ سمجھنے کی ضرورت ہے، کیونکہ صنعتی سرگرمیوں اور انسانی اقدامات نے اس بحران میں کردار ادا کیا ہے اور مؤثر پالیسی سازی کے ذریعے اس کا تدارک ممکن ہے۔ ڈاکٹر مصدق ملک
اسلام آباد (خاورعباس شاہ) تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا ہے کہ فضائی آلودگی اور اسموگ سے غریب اور کمزور طبقات سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں، جبکہ صاحبِ استطاعت افراد ایئر پیوریفائرز اور دیگر حفاظتی اقدامات کے ذریعے خود کو آلودہ فضا کے اثرات سے کسی حد تک محفوظ رکھ سکتے ہیں۔
پاکستان نیشنل کلین ایئر کانفرنس 2026 سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ فضائی آلودگی انسانی سرگرمیوں اور پالیسی فیصلوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والا بحران ہے، جس کے صحت اور معیشت پر مرتب ہونے والے منفی اثرات کا سب سے زیادہ بوجھ ان افراد کو اٹھانا پڑتا ہے جن کے پاس خود کو محفوظ رکھنے کے وسائل محدود ہیں۔
انہوں نے کہا کہ فضائی آلودگی کے باعث پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کے 6.5 فیصد کے مساوی معاشی نقصان کا سامنا ہے، جس میں بیماریوں، اسپتالوں میں علاج اور متاثرہ خاندانوں پر پڑنے والے مالی دباؤ جیسے عوامل شامل ہیں۔
ڈاکٹر مصدق ملک نے صحت عامہ پر فضائی آلودگی کے اثرات اجاگر کرتے ہوئے پھیپھڑوں کی دائمی بیماری کرونک آبسٹرکٹیو پلمونری ڈیزیز (سی او پی ڈی) کے مریضوں کا حوالہ دیا جنہیں آکسیجن اور ادویات کی ضرورت ہوتی ہے۔ انہوں نے یونیسیف کی ایک رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ فضائی آلودگی بچوں کے پھیپھڑوں کی صحت اور نشوونما کو متاثر کر رہی ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ فضائی آلودگی سے تحفظ کی صلاحیت ہر طبقے کے لیے یکساں نہیں۔ صاحبِ حیثیت خاندان اپنے گھروں میں ایئر پیوریفائرز نصب کر سکتے ہیں، تاہم آلودہ فضا میں اسکول جانے والے بچوں اور کھلے ماحول میں روزگار کمانے والے محنت کشوں کو براہ راست اس کے اثرات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ریڑھی بان، کسان اور دیگر بیرونی ماحول میں کام کرنے والے افراد بھی فضائی آلودگی سے متاثر ہوتے ہیں۔ فصلوں کی باقیات جلانے والے کسان بھی اس عمل کے نتیجے میں پیدا ہونے والی آلودگی سے محفوظ نہیں رہتے۔
ڈاکٹر مصدق ملک نے اس امر پر زور دیا کہ آلودگی پیدا کرنے والے بعض عوامل میں شامل افراد اور برادریاں بھی اس کے منفی اثرات بھگتتی ہیں، اس لیے ایسے عملی اقدامات کی ضرورت ہے جو ماحولیاتی مسائل کے ساتھ متاثرہ آبادیوں کے معاشی حالات اور روزگار کو بھی مدنظر رکھیں۔
انہوں نے کہا کہ فضائی آلودگی کو ایک ناگزیر قدرتی آفت کے بجائے پالیسی کا مسئلہ سمجھنے کی ضرورت ہے، کیونکہ صنعتی سرگرمیوں اور انسانی اقدامات نے اس بحران میں کردار ادا کیا ہے اور مؤثر پالیسی سازی کے ذریعے اس کا تدارک ممکن ہے۔
وفاقی وزیر نے دشوار گزار پہاڑی علاقوں میں شاہراہ قراقرم کی تعمیر اور ڈینگی پر قابو پانے کی کوششوں کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ عزم اور مؤثر اقدامات کے ذریعے پیچیدہ مسائل بھی حل کیے جا سکتے ہیں۔
چین کے تجربے کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بیجنگ اور شنگھائی کبھی دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں شمار ہوتے تھے، لیکن اب چین شمسی توانائی کی ٹیکنالوجی برآمد کرنے والے اہم ممالک میں شامل ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان بھی مؤثر پالیسیوں پر عمل درآمد، جدید ٹیکنالوجی اور ترقیاتی شراکت داروں کے تعاون سے فضائی آلودگی پر قابو پانے میں پیش رفت کر سکتا ہے۔
ڈاکٹر مصدق ملک نے کلین ایئر اسٹارٹ اپس کے لیے ایک کروڑ ڈالر کا فنڈ قائم کرنے کے منصوبے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے محدود وسائل کے باوجود اپنے وسائل سے یہ فنڈ قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جبکہ اس مقصد کے لیے ترقیاتی شراکت داروں سے بھی تعاون طلب کیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ فنڈ کے بورڈ کی منظوری اگلے روز متوقع ہے۔
وفاقی وزیر نے مجوزہ فنڈ کو آئندہ نسلوں کے لیے ایک ذمہ داری قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ محض گرانٹ یا قرض نہیں بلکہ مستقبل کی نسلوں کے تحفظ کے لیے ایک عزم ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت بیرونی شراکت داروں کے تعاون کے ساتھ یا اس کے بغیر بھی صاف ہوا کے لیے اقدامات جاری رکھے گی۔
انہوں نے موسمیاتی اقدامات میں عالمی بینک، ایشیائی ترقیاتی بینک، یونیسیف اور جرمن ترقیاتی ادارے جی آئی زیڈ سمیت ترقیاتی شراکت داروں کے کردار کو بھی سراہا۔
ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا کہ صاف ہوا کے حصول کے لیے محض نعروں اور اعلانات کے بجائے انجینئرنگ کے حل، مؤثر پالیسیوں اور مالی وسائل کی فراہمی پر توجہ دینا ہوگی۔
انہوں نے فضائی معیار بہتر بنانے، آلودگی کم کرنے اور عوامی صحت کے تحفظ کے لیے ترقیاتی شراکت داروں کے تعاون سے عملی اقدامات پر عمل درآمد کے حکومتی عزم کا اعادہ کیا۔
