فضائی آلودگی کوئی قدرتی آفت نہیں، بلکہ انسان کا پیدا کردہ ایک مسئلہ ہے، ڈاکٹرمصدق ملک
صاف اور صحت مند ماحول تک رسائی ہر شہری کا بنیادی حق ہے۔ وزیر برائے ماحولیاتی تبدیلی
وزیر برائے ماحولیاتی تبدیلی ڈاکٹر مصدق مسعود ملک نے صاف ہوا کو یقینی بنانے اور فضائی آلودگی کے خاتمے کے لیے مؤثر پالیسیاں وضع کرنے کی اہمیت پر زور دیا ہے۔ فضائی آلودگی کوئی قدرتی آفت نہیں، بلکہ انسان کی پیدا کردہ ایک ایسی مسئلہ ہے جس پر مؤثر طریقے سے قابو پایا جا سکتا ہے۔
اسلام آباد: (نمائندہ خصوصی) تفصیلات کے مطابق ’پاکستان نیشنل کلین ایئر کانفرنس‘ سے خطاب کرتے ہوئے وزیر برائے ماحولیاتی تبدیلی ڈاکٹر مصدق مسعود ملک نے صاف ہوا کو یقینی بنانے اور فضائی آلودگی کے خاتمے کے لیے مؤثر پالیسیاں وضع کرنے کی اہمیت پر زور دییتے ہوئے کہا ہے کہ صاف ہوا کا حصول اب محض ایک ترجیح نہیں بلکہ زندگی کی بنیادی ضرورت بن چکا ہے، جبکہ موسمیاتی تبدیلی اور فضائی آلودگی پاکستان کے لیے سنگین چیلنجز کی صورت اختیار کر چکی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فضائی آلودگی کے بڑھتے ہوئے اثرات انسانی صحت، زراعت، معیشت اور روزمرہ زندگی کو متاثر کر رہے ہیں، اس لیے ماحولیاتی تحفظ کے لیے فوری، مؤثر اور اجتماعی اقدامات ناگزیر ہیں۔
ڈکٹر مصدق ملک نے نشاندہی کی کہ معاشرے پر آلودگی کا معاشی بوجھ مجموعی قومی پیداوار کے 6.5 فیصد کے برابر ہے۔ مصدق مسعود ملک نے اعلان کیا کہ حکومت نے ’کلین ایئر فنڈ‘ (صاف ہوا کے لیے مختص فنڈ) کے قیام کی خاطر اپنے وسائل سے ایک کروڑ (10 ملین) ڈالر مختص کیے ہیں۔ وفاقی وزیر نے وزیر نے اس بات پر زور دیا کہ صاف اور صحت مند ماحول تک رسائی ہر شہری کا بنیادی حق ہے۔
اپنے خطاب میں مصدق ملک کا کہنا تھا تھا کہ جس میں ملک میں فضائی آلودگی کی بڑھتی ہوئی سطح، بالخصوص لاہور اور دیگر شہری علاقوں میں سموگ کے مسئلے اور اس کے مختلف شعبوں پر مرتب ہونے والے اثرات کو اجاگر کیا گیا۔ کانفرنس میں صاف ہوا کی اہمیت، ماحولیاتی آلودگی کے اسباب اور اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے مربوط حکمت عملی اختیار کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔
کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹرمصدق ملک نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی عصر حاضر کے بڑے بحرانوں میں شامل ہو چکی ہے، جس کے اثرات محض ماحول تک محدود نہیں رہے بلکہ انسانی زندگی، زرعی پیداوار اور قومی معیشت پر بھی براہ راست مرتب ہو رہے ہیں۔ ان کے مطابق فضائی آلودگی کی شدت میں اضافہ عوامی صحت کے لیے تشویش ناک ہے اور اس کے تدارک کے لیے مسئلے کی وجوہات کو سمجھتے ہوئے عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔
وفاقی وزیر نے سموگ کی سنگینی کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ آلودہ فضا میں موجود مضر صحت ذرات اور زہریلے مادے انسانی صحت کے لیے خطرات پیدا کرتے ہیں۔ سموگ کی شدت کے باعث بچوں اور بزرگوں سمیت حساس طبقات کو سانس لینے میں دشواری اور صحت کے دیگر مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ صاف ہوا کی فراہمی کو عوامی صحت اور محفوظ زندگی کے بنیادی تقاضوں میں شامل کرنا ضروری ہے۔
کانفرنس میں شریک افراد نے فضائی آلودگی میں اضافے کی مختلف وجوہات کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ فصلوں کی باقیات جلانے، گاڑیوں سے خارج ہونے والے دھوئیں، بے ہنگم تعمیراتی سرگرمیوں، گردوغبار اور درختوں کی کٹائی جیسے عوامل نے فضائی معیار کو متاثر کیا ہے۔ ان عوامل پر قابو پانے کے لیے متعلقہ اداروں، مقامی انتظامیہ، صنعتوں، ٹرانسپورٹ کے شعبے اور شہریوں کو مشترکہ ذمہ داری ادا کرنا ہوگی۔
شرکاء کے مطابق فضائی آلودگی کا مسئلہ صرف بڑے شہروں تک محدود نہیں بلکہ اس کے اثرات زرعی سرگرمیوں، قدرتی ماحول اور معاشی سرگرمیوں پر بھی مرتب ہوتے ہیں۔ آلودہ فضا جہاں انسانی صحت کے لیے خطرات بڑھاتی ہے، وہیں ماحولیاتی نظام پر دباؤ میں اضافے اور زرعی پیداوار کو متاثر کرنے کا سبب بھی بن سکتی ہے۔ اس لیے صاف ہوا کے لیے اقدامات کو وسیع تر ماحولیاتی اور معاشی منصوبہ بندی کا حصہ بنانے کی ضرورت ہے۔
کانفرنس میں اس امر پر بھی زور دیا گیا کہ ماحولیاتی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے محض اعلانات اور مباحث کافی نہیں، بلکہ قابل عمل پالیسیوں، مؤثر نگرانی اور مسلسل اقدامات کی ضرورت ہے۔ گاڑیوں اور صنعتی اخراج کو کنٹرول کرنے، فصلوں کی باقیات جلانے کے متبادل طریقوں کو فروغ دینے، تعمیراتی مقامات پر گردوغبار کم کرنے اور شجرکاری و سبز علاقوں کے تحفظ جیسے اقدامات فضائی آلودگی میں کمی لانے میں معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔
شرکاء نے کہا کہ صاف ہوا کی فراہمی کے لیے عوامی آگاہی بھی بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ شہریوں کو ماحولیاتی تحفظ کے حوالے سے ذمہ دارانہ طرز عمل اپنانے، درختوں کے تحفظ، آلودگی پھیلانے والے عوامل میں کمی اور متعلقہ ہدایات پر عمل درآمد کی ترغیب دینے کی ضرورت ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ حکومتی اداروں کے درمیان مؤثر رابطہ اور ماحولیاتی قوانین پر عمل درآمد بھی ضروری ہے تاکہ پالیسیوں کے نتائج عملی طور پر سامنے آ سکیں۔
کانفرنس کے اختتام پر آنے والی نسلوں کے لیے محفوظ، سرسبز اور صحت مند ماحول یقینی بنانے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ شرکاء کا کہنا تھا کہ صاف ہوا محض ماحولیاتی معاملہ نہیں بلکہ انسانی صحت، معیار زندگی اور پائیدار ترقی سے جڑا ہوا بنیادی مسئلہ ہے۔ پاکستان میں فضائی آلودگی پر قابو پانے کے لیے حکومت، متعلقہ اداروں، نجی شعبے اور عوام کو مشترکہ کوششیں کرنا ہوں گی تاکہ موجودہ اور آئندہ نسلوں کو صاف اور صحت مند ماحول فراہم کیا جا سکے۔
