سیکیورٹی فورسز کی خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں کارروائیاں، 18 دہشتگرد ہلاک
شمالی وزیرستان میں 13، مستونگ میں 5 دہشتگرد مارے گئے، اسلحہ و گولہ بارود برآمد، کلیئرنس آپریشن جاری
راولپنڈی: (نیوز پلس) سیکیورٹی فورسز نے خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں دہشتگردوں کے خلاف متعدد کارروائیاں کرتے ہوئے 18 دہشتگردوں کو ہلاک کردیا۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق خیبرپختونخوا میں فتنۃ الخوارج کے خلاف کارروائیاں عزمِ استحکام کے تحت کی گئیں، جبکہ بلوچستان میں فتنۃ الہندوستان کے خلاف آپریشن کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے خیبرپختونخوا کے ضلع شمالی وزیرستان اور ملحقہ علاقوں میں دہشتگردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا، جہاں کارروائی کے دوران 13 دہشتگرد ہلاک ہوگئے۔
دوسری جانب بلوچستان کے ضلع مستونگ میں فتنۃ الہندوستان کے خلاف الگ کارروائی کی گئی، جس میں 5 دہشتگرد مارے گئے۔ کارروائی کے دوران دہشتگردوں کے قبضے سے اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کیا گیا۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق دہشتگردوں کے خلاف کارروائی کے بعد علاقے میں کلیئرنس آپریشن شروع کردیا گیا تاکہ ممکنہ طور پر موجود دیگر دہشتگردوں کا خاتمہ کیا جاسکے اور علاقے کو مکمل طور پر محفوظ بنایا جائے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی فورسز دہشتگردی کے مکمل خاتمے کے لیے ملک بھر میں انٹیلی جنس کی بنیاد پر کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں، بالخصوص خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں دہشتگردوں کے نیٹ ورکس اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف کارروائیوں میں تیزی لائی گئی ہے۔
پاکستان میں حالیہ مہینوں کے دوران دہشتگرد حملوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار کانفلکٹ اینڈ سکیورٹی اسٹڈیز (PICSS) کے مرتب کردہ اعدادوشمار کے مطابق ستمبر 2026 میں ملک بھر میں 225 دہشتگرد حملے ریکارڈ کیے گئے، جبکہ اگست میں یہ تعداد 199 تھی۔ یوں ایک ماہ کے دوران دہشتگرد حملوں میں 13 فیصد اضافہ ہوا۔
رپورٹ کے مطابق دہشتگرد حملوں میں مسلسل تیسرے ماہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے باعث خیبرپختونخوا اور بلوچستان سمیت مختلف علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں مزید اہم ہوگئی ہیں۔
پاکستان طویل عرصے سے افغان حکام سے مطالبہ کرتا آیا ہے کہ افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشتگرد کارروائیوں کے لیے استعمال ہونے سے روکا جائے۔ اسلام آباد کا مؤقف ہے کہ افغان طالبان حکومت کو ان گروہوں کے خلاف مؤثر کارروائی کرنی چاہیے جو پاکستانی سکیورٹی فورسز اور شہریوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔
پاکستان اور افغانستان کے درمیان اس معاملے پر متعدد مذاکرات اور رابطے ہوچکے ہیں، تاہم افغان سرزمین سے مبینہ طور پر پاکستان کے خلاف سرگرم دہشتگرد گروہوں کا معاملہ دونوں ممالک کے درمیان بدستور اہم تنازع بنا ہوا ہے۔
حکام کے مطابق سیکیورٹی فورسز ملک میں امن و استحکام کے قیام اور دہشتگردی کے مکمل خاتمے کے لیے کارروائیاں جاری رکھیں گی۔
