آئی ایم ایف مشن اسٹیٹ بینک کی بریفنگ سے مطمئن، پالیسی مذاکرات کل سے شروع ہوں گے
کراچی میں تین روزہ قیام مکمل، مشن آج اسلام آباد پہنچے گا، معاشی کارکردگی اور زرمبادلہ ذخائر پر تفصیلی بریفنگ
کراچی میں تین روزہ قیام کے دوران سندھ حکومت اور اسٹیٹ بینک حکام سے مذاکرات، زرمبادلہ ذخائر، درآمدات، مالیاتی پالیسی اور غیر ملکی سرمایہ کاری پر بریفنگ
اسلام آباد: عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی ٹیم نے پاکستان کے چوتھے جائزے کے سلسلے میں اسٹیٹ بینک حکام کی جانب سے دی گئی بریفنگ پر اطمینان کا اظہار کیا ہے، جبکہ آئی ایم ایف مشن باقاعدہ مذاکرات کے لیے آج کراچی سے اسلام آباد پہنچے گا اور پیر سے پاکستانی معاشی ٹیم کے ساتھ پالیسی سطح کے مذاکرات کا آغاز کرے گا۔
وزارت خزانہ کے ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف مشن گزشتہ تین روز سے کراچی میں موجود تھا، جہاں اس نے اسٹیٹ بینک حکام اور سندھ حکومت کے نمائندوں کے ساتھ مختلف امور پر مذاکرات کیے۔ سندھ حکومت کی جانب سے صوبائی مالیاتی کارکردگی اور وفاق کو سرپلس بجٹ فراہم کرنے کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
ذرائع کے مطابق سندھ حکومت نے آئی ایم ایف مشن کو بتایا کہ 30 جون تک صوبے کی ٹیکس آمدنی 593 ارب روپے رہی، جبکہ اسی مدت کے دوران نان ٹیکس آمدنی دوگنا ہو کر 80 ارب روپے سے تجاوز کر گئی۔
اس دوران اسٹیٹ بینک حکام نے بھی آئی ایم ایف مشن کو ملکی معاشی صورتحال اور مالیاتی شعبے کی کارکردگی پر تفصیلی بریفنگ دی، جس پر مشن نے اطمینان کا اظہار کیا۔
وزارت خزانہ کے ذرائع کے مطابق اسٹیٹ بینک حکام نے آئی ایم ایف مشن کو زرمبادلہ ذخائر، مانیٹری پالیسی، درآمدات، غیر ملکی زرمبادلہ کی صورتحال اور بیرونی شعبے سے متعلق اہم اشاریوں سے آگاہ کیا۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ پاکستان نے زرمبادلہ کے ذخائر 17 ارب ڈالر سے زائد رکھنے کا ہدف حاصل کرلیا ہے۔
اسٹیٹ بینک حکام نے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کی صورتحال اور براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں ہونے والے اضافے سے بھی آئی ایم ایف مشن کو آگاہ کیا۔
ذرائع کے مطابق کراچی میں ابتدائی مذاکرات اور بریفنگز مکمل ہونے کے بعد آئی ایم ایف مشن اب اسلام آباد میں حکومت کی معاشی ٹیم کے ساتھ پالیسی سطح کے مذاکرات کرے گا، جہاں پروگرام کے تحت طے شدہ اہداف، اصلاحات اور معاشی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا۔
حکام کے مطابق چوتھے جائزے کے مذاکرات میں مالیاتی نظم و ضبط، محصولات میں اضافہ، اخراجات پر قابو، زرمبادلہ کی صورتحال، توانائی کے شعبے سمیت دیگر معاشی امور کا جائزہ لیے جانے کا امکان ہے۔
