ٹرمپ کی وزیراعظم شہباز شریف کے مؤقف کی تائید ، بھارت کے ساتھ تنازع پر پاکستان کا مؤقف عالمی سطح پر نمایاں
امریکی صدر نے وزیراعظم پاکستان کا مؤقف شیئر کردیا، بھارت کے خلاف پاکستانی بیانیے کو عالمی سطح پر تقویت
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وزیراعظم شہباز شریف کی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے کی گئی تقریر کا حصہ سوشل میڈیا پر شیئر کردیا، جس میں پاکستانی وزیراعظم نے بھارت کے ساتھ 2025 کی فوجی کشیدگی، امریکی صدر کی مداخلت اور مسئلہ کشمیر کے حل پر پاکستان کا مؤقف پیش کیا تھا۔ ٹرمپ کی جانب سے ویڈیو شیئر کیے جانے کو اسلام آباد نے اپنے مؤقف کی اہم بین الاقوامی تائید کے طور پر دیکھا ہے، تاہم بھارت نے ماضی کے تنازع میں امریکی ثالثی کے دعوے کو مسترد کیا ہے۔
نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا تھا کہ گزشتہ برس پاکستان کو بھارت کی جانب سے ’’بیرونی جارحیت‘‘ کا سامنا کرنا پڑا اور اسلام آباد نے اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت اپنے دفاع کا حق استعمال کیا۔ وزیراعظم کے مطابق پاکستان کی مسلح افواج نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں بھارتی حملے کا پیشہ ورانہ انداز میں جواب دیا۔وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان نے بھارتی کارروائی کا مقابلہ کرتے ہوئے اپنی دفاعی صلاحیت کا مظاہرہ کیا اور دشمن کو ایسا جواب دیا جسے وہ کبھی فراموش نہیں کرے گا۔ انہوں نے اس موقع پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مداخلت کو بھی خصوصی طور پر سراہا۔
شہباز شریف کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ کی بروقت مداخلت ایک ایسے فیصلہ کن مرحلے پر ہوئی جب دنیا کے دو ایٹمی ممالک ایک بڑی جنگ کے دہانے پر کھڑے تھے۔ وزیراعظم نے کہا کہ اگر اس موقع پر کشیدگی کم نہ کی جاتی تو خطے میں تباہی کا دائرہ بہت وسیع ہوسکتا تھا۔
وزیراعظم نے زور دیا کہ جنوبی ایشیا کو دوبارہ ایسی صورتحال سے بچانا عالمی برادری کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ ان کے مطابق خطے میں پائیدار امن اسی وقت ممکن ہے جب بنیادی تنازعات کو حل کرنے کے لیے سنجیدہ سفارتی کوششیں کی جائیں۔
شہباز شریف نے خصوصاً مسئلہ کشمیر کے منصفانہ اور پائیدار حل کو جنوبی ایشیا میں مستقل امن کے لیے ناگزیر قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کئی دہائیوں سے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق اپنے حقِ خودارادیت کے منتظر ہیں اور عالمی برادری کو اس مسئلے کے حل کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔
وزیراعظم نے اپنی تقریر میں سندھ طاس معاہدے کا معاملہ بھی بھرپور انداز میں اٹھایا اور کہا کہ پاکستان کے حصے کے پانی کو روکنے، محدود کرنے یا اس کا رخ موڑنے کی کوئی بھی کوشش ’’جنگی اقدام‘‘ تصور کی جائے گی۔ انہوں نے دریائے سندھ کے نظام کو پاکستان ہی نہیں بلکہ پورے خطے کے لیے زندگی کی شہ رگ قرار دیتے ہوئے کہا کہ پانی کو سیاسی دباؤ کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے وزیراعظم شہباز شریف کی تقریر کا 87 سیکنڈ کا ویڈیو کلپ شیئر کیا گیا۔ دستیاب رپورٹ کے مطابق ٹرمپ نے اس پوسٹ کے ساتھ کوئی اضافی تبصرہ نہیں کیا، تاہم ویڈیو میں شہباز شریف امریکی صدر کی قیادت اور بھارت پاکستان کشیدگی کے دوران ان کی بروقت مداخلت کو سراہتے دکھائی دیتے ہیں۔
یہ پیش رفت اس لیے بھی اہم ہے کہ ٹرمپ نے اس سے قبل اقوام متحدہ کی اپنی تقریر میں بھی پاکستان اور بھارت کے درمیان 2025 کی کشیدگی کو ان تنازعات میں شمار کیا تھا جن کے خاتمے میں انہوں نے اپنا کردار قرار دیا۔ انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف کو ’’بہترین شخص‘‘ قرار دیتے ہوئے پاکستان کی جانب سے اپنی مداخلت پر اظہارِ تشکر کا بھی حوالہ دیا تھا۔
تاہم بھارت اس معاملے پر مختلف مؤقف رکھتا ہے۔ نئی دہلی امریکی صدر کی جانب سے پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ بندی یا کشیدگی کم کرانے میں ثالثی کے دعوے کو مسترد کرتا رہا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ فوجی کارروائی روکنے کا فیصلہ دونوں ممالک کے فوجی حکام کے براہ راست رابطے کے بعد ہوا۔
وزیراعظم شہباز شریف کے اقوام متحدہ خطاب اور ٹرمپ کی جانب سے اس کے حصے کو دوبارہ شیئر کیے جانے سے پاکستان، بھارت اور امریکا کے درمیان 2025 کی کشیدگی کے حوالے سے مختلف بیانیوں کی اہمیت ایک بار پھر نمایاں ہوگئی ہے۔ پاکستان اسے سفارتی کامیابی اور اپنے مؤقف کی عالمی سطح پر پذیرائی کے تناظر میں پیش کر رہا ہے، جبکہ بھارت ان دعوؤں سے اختلاف کرتا ہے۔
تازہ پیش رفت نے ایک بار پھر واضح کردیا ہے کہ جنوبی ایشیا میں امن، مسئلہ کشمیر اور پاکستان بھارت تعلقات کا معاملہ عالمی سفارت کاری کے اہم موضوعات میں شامل ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے اقوام متحدہ میں واضح کیا کہ خطے کو دوبارہ جنگ کے دہانے پر پہنچنے سے روکنے کے لیے تصادم کے بجائے سفارت کاری اور دیرپا تنازعات کے حل کی ضرورت ہے۔
