ایرانی فوج پہلے سے زیادہ طاقتور، دشمن کے لیے ’سرپرائزز‘ تیار ہیں: بریگیڈیئر جنرل شکارچی
فوجی ترجمان نے دعویٰ کیا کہ غیر متناسب جنگی حکمت عملی اور مقامی دفاعی ٹیکنالوجی نے ایران کی صلاحیتیں بڑھا دی ہیں
تہران: ایرانی مسلح افواج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل ابوالفضل شکارچی نے خبردار کیا ہے کہ ایران کے خلاف کسی بھی فوجی جارحیت کی صورت میں تہران پہلے سے زیادہ جدید فوجی ٹیکنالوجی اور غیر متناسب جنگی حکمت عملی کے ذریعے بھرپور جواب دے گا، جبکہ ان کا کہنا ہے کہ ایرانی افواج ماضی کے مقابلے میں کہیں زیادہ مضبوط اور بہتر دفاعی پوزیشن میں ہیں۔
ایرانی سرکاری میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بریگیڈیئر جنرل ابوالفضل شکارچی نے کہا کہ ایران نے گزشتہ عرصے کے دوران اپنی دفاعی حکمت عملی میں نمایاں تبدیلیاں کی ہیں اور مقامی سطح پر جدید دفاعی ٹیکنالوجی کی تیاری کے ساتھ ساتھ غیر متناسب جنگی صلاحیتوں کو مزید مضبوط کیا ہے۔
ایرانی فوج کے ترجمان نے دعویٰ کیا کہ مسلح افواج اس وقت ’’بہت اچھی حالت‘‘ میں ہیں اور کسی بھی ممکنہ دشمن کارروائی کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔ ان کے مطابق ایران نے اپنے دفاعی ڈھانچے کو اس انداز میں تیار کیا ہے کہ روایتی طور پر زیادہ طاقتور اور جدید ہتھیاروں سے لیس دشمن کے خلاف بھی مؤثر مزاحمت کی جاسکے۔
شکارچی نے خاص طور پر ایرانی میزائل اور ڈرون پروگرام کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایران کی میزائل اور ڈرون ٹیکنالوجی پہلے کے مقابلے میں زیادہ جدید اور طاقتور ہوچکی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایرانی افواج نے ممکنہ دشمن کارروائیوں کے مختلف منظرناموں کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی دفاعی تیاری مکمل کر رکھی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران نے ممکنہ جارحیت کی صورت میں بعض ’’سرپرائزز‘‘ بھی تیار کر رکھے ہیں، تاہم انہوں نے ان اقدامات یا نئی فوجی ٹیکنالوجی کی نوعیت کے بارے میں کوئی تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
ایرانی عہدیدار کے مطابق تہران کی غیر متناسب جنگی حکمت عملی کا بنیادی مقصد ایسے حالات میں دفاعی برتری حاصل کرنا ہے جہاں مخالف کے پاس بھاری، مہنگے اور جدید روایتی ہتھیار موجود ہوں۔ ان کے بقول ایران نسبتاً کم لاگت لیکن مؤثر، تیز رفتار اور مقامی طور پر تیار کردہ دفاعی نظام کے ذریعے اس فرق کو کم کرنے پر توجہ دے رہا ہے۔
بریگیڈیئر جنرل شکارچی نے کہا کہ مقامی دفاعی صنعت کی ترقی نے ایران کو بیرونی ذرائع پر انحصار کم کرنے اور اپنی فوجی ضروریات کے مطابق ہتھیار اور ٹیکنالوجی تیار کرنے میں مدد دی ہے۔ ان کے مطابق موجودہ دفاعی صلاحیتیں ایران کو کسی بھی ممکنہ فوجی دباؤ کا سامنا کرنے کے لیے پہلے سے بہتر پوزیشن میں رکھتی ہیں۔
ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی برقرار ہے اور خطے میں کسی بھی نئی فوجی کارروائی کے امکانات نے وسیع تر علاقائی سلامتی کے خدشات کو بڑھا دیا ہے۔ حالیہ کشیدگی کے تناظر میں ایران مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتا رہا ہے کہ کسی بھی حملے کی صورت میں وہ اپنی دفاعی اور جوابی کارروائی کی صلاحیت استعمال کرے گا۔
تاہم ایرانی فوج کے ترجمان نے اپنے تازہ بیان میں کسی مخصوص ہتھیار، میزائل نظام، ڈرون یا نئی فوجی ٹیکنالوجی کا نام نہیں لیا۔ اس لیے ان کے ’’سرپرائزز‘‘ سے متعلق دعوے کی نوعیت فی الحال واضح نہیں ہے۔
ایرانی حکام کی جانب سے ایسے بیانات عموماً ملک کی دفاعی تیاری، مقامی فوجی صنعت اور ممکنہ دشمنوں کے لیے بازدارندگی کے پیغام کے طور پر سامنے آتے ہیں۔ موجودہ صورتحال میں ایران کی میزائل اور ڈرون صلاحیتیں خطے میں اس کی دفاعی حکمت عملی کا ایک اہم حصہ سمجھی جاتی ہیں، جبکہ تہران کا اصرار ہے کہ اس کی عسکری صلاحیتیں بنیادی طور پر ملکی دفاع اور بیرونی جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لیے ہیں۔
