’’آپ کا جسم، آپ کی زندگی‘‘، حریم فاروق کا معاشرتی دباؤ کے خلاف دوٹوک پیغام
اداکارہ نے خواتین پر خوبصورتی کے مخصوص معیار مسلط کرنے پر تنقید کرتے ہوئے خود کو قبول کرنے اور دوسروں کا احترام کرنے پر زور دے دیا
اسلام آباد : پاکستانی اداکارہ و پروڈیوسر حریم فاروق نے جسمانی خدوخال اور ظاہری شخصیت سے متعلق معاشرتی تنقید پر دوٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ انسان کی اصل قدر اس کے جسم یا ظاہری شکل سے نہیں بلکہ اس کے کردار، سوچ، روح اور دوسروں کے ساتھ برتاؤ سے ہوتی ہے۔
حریم فاروق نے اپنے پیغام میں کہا کہ کسی انسان کی شخصیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ وہ مشکلات کا کس طرح سامنا کرتا ہے، دوسروں کے ساتھ کیسا برتاؤ کرتا ہے، اپنی جڑوں اور اقدار سے کس حد تک جڑا رہتا ہے اور دوسروں کی کامیابیوں کو کس طرح سراہتا اور خوشی مناتا ہے۔
اداکارہ نے کہا کہ انسانی جسم وقت کے ساتھ قدرتی طور پر تبدیل ہوتا رہتا ہے اور حمل، ہارمونز میں تبدیلی، بیماری، ذہنی دباؤ، صدمے، غم اور زندگی کی مشکلات جسم میں تبدیلیوں کا سبب بن سکتی ہیں۔

حریم فاروق کے مطابق معاشرہ خصوصاً خواتین پر خوبصورتی کے مخصوص اور پدرشاہی معیار مسلط کرکے ان قدرتی تبدیلیوں کو مزید دباؤ کا باعث بنا دیتا ہے، جس کے نتیجے میں لوگوں کو ایک خاص جسامت، شکل اور ظاہری معیار پر پورا اترنے کے لیے مجبور کیا جاتا ہے۔
انہوں نے لوگوں پر زور دیا کہ وہ اپنے جسم کو قبول کریں، اسے اپنائیں اور اس کی قدر کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ جسم انسان کو زندگی کے اچھے، برے، غیر معمولی اور ناقابلِ برداشت حالات سے گزار کر یہاں تک پہنچاتا ہے، اس لیے اس کے ساتھ سختی کے بجائے شکرگزاری اور نرمی کا رویہ اختیار کرنا چاہیے۔
حریم فاروق نے کہا کہ صحت مند زندگی کی جانب سفر ضرور جاری رکھنا چاہیے، تاہم اس دوران اپنے جسم سے نفرت کرنے کے بجائے شکرگزاری کو اپنا ساتھی بنانا چاہیے۔

اداکارہ نے واضح کیا کہ کسی بھی شخص کے جسم کو ’’عوامی بحث، تنقید کا موضوع یا تبصرے کی دعوت‘‘ نہیں بنانا چاہیے۔ ان کے مطابق کسی انسان پر دنیا کو وضاحت دینے، معذرت کرنے یا معاشرے کے مقرر کردہ معیار کے مطابق خود کو ثابت کرنے کی کوئی ذمہ داری نہیں۔
حریم فاروق نے کہا کہ ہر فرد کو اپنی مرضی کے مطابق لباس پہننے، عمر بڑھنے، جسم میں تبدیلی آنے، صحت یاب ہونے اور معاشرے میں اپنی جگہ بنانے کی آزادی حاصل ہونی چاہیے، اسے کسی دوسرے شخص کے معیار پر نہیں پرکھا جانا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ مختلف ہونا کوئی خامی نہیں اور انفرادیت کوئی ایسا مسئلہ نہیں جسے حل کرنے کی ضرورت ہو۔
حریم فاروق نے لوگوں پر زور دیا کہ وہ اپنے الفاظ، نظروں، مفروضوں اور خاموشی کے ذریعے دوسروں کو جانچنے کے رجحان کو چیلنج کریں اور تنقید کے بجائے احترام، یکسانیت کے بجائے آزادی اور کنٹرول کے بجائے ہمدردی کو ترجیح دیں۔
اپنے پیغام کے اختتام پر حریم فاروق نے کہا کہ ’’آپ کا جسم آپ کا ہے، آپ کی زندگی آپ کی ہے‘‘، اس لیے ہر شخص کو بلاخوف اپنی اصل شخصیت کے ساتھ زندگی گزارنی چاہیے اور دوسروں کو بھی ایسا ہی کرنے کی جگہ دینی چاہیے۔
اداکارہ نے کہا کہ ہر انسان اپنی فطری حالت میں خوبصورت ہے۔
