موسمیاتی تبدیلی پاکستان کیلئے تباہی کا نیا طوفان، 5 سیلابوں میں 6 ہزار افراد جاں بحق ہوئے، ڈاکٹر مصدق ملک
پاکستان میں موسمیاتی تبدیلی کے اثرات شدت اختیار کر رہے ہیں، غیر معمولی بارشیں اور سیلاب بڑے خطرات بن چکے ہیں، وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی
اسلام آباد: (نیوز پلس) وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا ہے کہ پاکستان میں حالیہ برسوں کے دوران آنے والی قدرتی آفات اور سیلابوں سے ہونے والی تباہی میں موسمیاتی تبدیلی کا کردار انتہائی اہم ہے، بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کے باعث گلیشیئرز تیزی سے پگھل رہے ہیں، جس کے نتیجے میں پانی کے بہاؤ میں اضافہ اور آبادیوں کو شدید خطرات لاحق ہو رہے ہیں۔
ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا کہ پاکستان کو موسمیاتی تبدیلی کے سنگین اثرات کا سامنا ہے اور ملک میں ہونے والی زیادہ تر تباہی کی بڑی وجوہات میں موسمیاتی تبدیلی بھی شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ پانچ بڑے سیلابوں کے دوران پاکستان میں تقریباً 6 ہزار افراد جاں بحق ہوچکے ہیں، جبکہ لاکھوں خاندان براہ راست متاثر ہوئے ہیں۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ درجہ حرارت میں مسلسل اضافے کے باعث شمالی علاقوں میں گلیشیئرز تیزی سے پگھل رہے ہیں۔ جب گلیشیئرز کے پگھلنے سے دریاؤں اور ندی نالوں میں پانی کی مقدار بڑھتی ہے تو پانی اپنے قدرتی راستوں اور حدود سے باہر نکل کر بستیوں، گھروں اور دیگر آبادیوں کو متاثر کرتا ہے۔
مصدق ملک کا کہنا تھا کہ سیلاب صرف انسانی جانوں کا نقصان نہیں کرتا بلکہ اس کے اثرات کئی برس تک برقرار رہتے ہیں۔ بڑی تعداد میں لوگ اپنے گھر، روزگار، زمینیں اور بنیادی سہولیات سے محروم ہوجاتے ہیں، جس سے ان کی معاشی اور سماجی زندگی شدید متاثر ہوتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ تقریباً 4 کروڑ افراد اپنے آبائی گھروں سے دربدر ہوچکے ہیں، یہ تعداد اتنی بڑی ہے کہ یورپ کے بیشتر ممالک کی مجموعی آبادی بھی اس کے مقابلے میں کم ہے۔ ان کے مطابق اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کا اپنے علاقوں سے بے گھر ہونا اس بحران کی شدت کو ظاہر کرتا ہے جس کا پاکستان کو موسمیاتی تبدیلی کے باعث سامنا ہے۔
وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی نے کہا کہ بے گھر ہونے والے افراد صرف اپنے گھر نہیں کھوتے بلکہ ان کے خاندانوں کا پورا معاشی نظام متاثر ہوتا ہے۔ بہت سے افراد اپنے بچوں اور والدین کی کفالت کے ذرائع سے محروم ہوجاتے ہیں، جبکہ سیلاب اور دیگر موسمیاتی آفات تعلیم، صحت، روزگار اور بنیادی ضروریات زندگی تک رسائی کو بھی متاثر کرتی ہیں۔
ڈاکٹر مصدق ملک نے زور دیا کہ پاکستان جیسے ملک کے لیے موسمیاتی تبدیلی ایک غیر معمولی چیلنج بن چکی ہے۔ بڑھتا ہوا درجہ حرارت، گلیشیئرز کا پگھلاؤ، غیر معمولی بارشیں اور شدید موسمی واقعات نہ صرف انسانی زندگی بلکہ ملکی معیشت، زراعت، انفراسٹرکچر اور آبادیوں کے مستقبل کے لیے بھی خطرہ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے خطرات سے نمٹنے کے لیے مؤثر اقدامات اور اجتماعی کوششوں کی ضرورت ہے۔ پاکستان میں موسمیاتی آفات کے بڑھتے ہوئے خطرات اس امر کے متقاضی ہیں کہ انسانی جانوں، آبادیوں اور قدرتی وسائل کے تحفظ کے لیے موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کو پالیسی سازی میں مرکزی اہمیت دی جائے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے، جبکہ اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے عالمی سطح پر بھی مؤثر اقدامات کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے لیے موسمیاتی تبدیلی محض ماحولیاتی مسئلہ نہیں بلکہ انسانی، معاشی اور سماجی بقا کا معاملہ بن چکی ہے۔
