Newspulse - نیوز پلس
پاکستان، سیاست، کھیل، بزنس، تفریح، تعلیم، صحت، طرز زندگی ... کے بارے میں تازہ ترین خبریں

دہشت گردی کی جنگ سے پولیس کا دھیان سیاست کی طرف موڑنے کی اجازت نہیں دیں گے، سہیل آفریدی

دہشت گردی کی جنگ سے پولیس کا دھیان سیاست کی طرف موڑنے کی اجازت نہیں دیں گے، سہیل آفریدی 

پولیس شہداء پیکیج میں اضافہ، جدید آلات کیلئے بھی فنڈز دیے، پولیس دہشت گردی کے خلاف فرنٹ فٹ پر لڑ رہی ہے، وزیراعلیٰ کے پی کے

پشاور: وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ وفاق کی جانب سے پولیس کو سیاسی انتقام کے لیے استعمال کیا گیا تو صوبائی حکومت بھی اقدامات کرے گی، دہشت گردی کے خلاف جنگ سے پولیس کی توجہ ہٹا کر اسے کسی سیاسی جماعت کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی، پولیس کو غیر ضروری دباؤ کے سامنے انکار کرنا سیکھنا ہوگا۔

امن و امان کی صورتحال سے متعلق اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا کہ خیبرپختونخوا پولیس اور عوام گزشتہ 22 برس سے دہشت گردی کا مسلسل مقابلہ کر رہے ہیں اور اس جنگ میں پولیس اہلکاروں اور شہریوں نے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پولیس اور عوام کی قربانیوں کے نتیجے میں 2018ء سے 2022ء تک عمران خان کی حکومت کے دوران صوبے میں امن قائم ہوا، تاہم ان کے بقول 2022ء میں حکومت کی تبدیلی اور ریاست کی غلط پالیسیوں کے باعث خیبرپختونخوا میں ایک بار پھر دہشت گردی واپس آئی۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ صوبائی حکومت نے ہر فورم پر اس بات کی نشاندہی کی کہ دہشت گردوں کو دوبارہ آباد نہ کیا جائے، تاہم آج ریاست کی غلط پالیسیوں کے نتیجے میں فوجی جوان، پولیس اہلکار اور عام شہری اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر رہے ہیں۔

سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ جب تک صوبے میں امن قائم نہیں ہوگا، اس وقت تک ترقی اور خوشحالی کا خواب پورا نہیں ہوسکتا۔ انہوں نے کہا کہ 15 اکتوبر 2025ء کو حکومت سنبھالنے کے بعد پولیس کے لیے تاریخ میں بے مثال فنڈز فراہم کیے گئے اور گزشتہ مالی سال کے سالانہ بجٹ کے علاوہ پولیس کو 35 ارب روپے کے اضافی فنڈز دیے گئے۔

وزیراعلیٰ نے بتایا کہ رواں مالی سال پولیس کا بجٹ 80 ارب روپے سے بڑھا کر 190 ارب روپے کردیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا پولیس دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فرنٹ فٹ پر کردار ادا کر رہی ہے اور حکومت پولیس اہلکاروں کی قربانیوں سے پوری طرح آگاہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے عوام اور پولیس کی قربانیوں کی بدولت نہ صرف صوبے بلکہ اسلام آباد، راولپنڈی اور ملک کے دیگر حصوں میں بھی امن قائم ہے۔ حکومت نے پولیس شہداء پیکیج میں اضافہ کیا ہے جبکہ جدید آلات کی فراہمی کے لیے بھی فنڈز مختص کیے گئے ہیں۔

سہیل آفریدی نے ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا سے خیبرپختونخوا پولیس کے لیے تیار کی جانے والی بکتر بند گاڑیوں (اے پی سیز) کی عدم فراہمی پر بھی تحفظات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا فوج کے ماتحت ادارہ ہے اور خیبرپختونخوا حکومت گزشتہ سال سے ادائیگی کرچکی ہے، اس کے باوجود صوبے کی اے پی سیز تاحال فراہم نہیں کی گئیں۔

وزیراعلیٰ کے مطابق اسلام آباد کے لیے جدید اے پی سیز تیار کرکے فراہم کردی گئی ہیں، جبکہ خیبرپختونخوا پولیس کو اب تک یہ سہولت نہیں ملی۔ انہوں نے کہا کہ متعلقہ حکام سے کہا گیا ہے کہ اسلام آباد کو فراہم کی جانے والی اے پی سیز سیاسی سرگرمیوں کے خلاف استعمال ہونے کے بجائے خیبرپختونخوا پولیس کو دی جائیں، کیونکہ صوبے کی پولیس دہشت گردی کے خلاف فرنٹ لائن پر لڑ رہی ہے۔

سہیل آفریدی نے واضح کیا کہ خیبرپختونخوا پولیس کی بنیادی ذمہ داری صوبے میں امن و امان کا قیام اور دہشت گردی کا مقابلہ کرنا ہے، اسے سیاسی سرگرمیوں میں استعمال کرنے سے پولیس کی توجہ اس کے اصل مشن سے ہٹ سکتی ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.

Security Question:4 × 3 = ?

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More