Newspulse - نیوز پلس
پاکستان، سیاست، کھیل، بزنس، تفریح، تعلیم، صحت، طرز زندگی ... کے بارے میں تازہ ترین خبریں

مکہ معاہدہ خالصتاً دفاعی ہے، کسی ملک کے خلاف نہیں: ڈی جی آئی ایس پی آر

مکہ معاہدہ خالصتاً دفاعی ہے، کسی ملک کے خلاف نہیں: ڈی جی آئی ایس پی آر

ایران امریکا تنازع کے حل کیلئے مذاکرات ہی واحد راستہ، پاکستان کا کوئی ذاتی مفاد نہیں: لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف

راولپنڈی: (نیوز پلس) پاکستان کی مسلح افواج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے کہا ہے کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ خالصتاً دفاعی نوعیت کا ہے، اس میں جارحیت، مداخلت یا کسی دوسرے ملک کے خلاف کارروائی کا کوئی عنصر شامل نہیں۔

العربیہ کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے کہا کہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کا بنیادی مقصد تینوں ممالک کے درمیان اجتماعی دفاع اور باہمی دفاعی تعاون کو مضبوط بنانا ہے۔ معاہدہ کسی ملک، اتحاد یا گروپ کے خلاف نہیں اور اس کا مقصد خطے میں امن، استحکام اور سلامتی کو فروغ دینا ہے۔

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے واضح کیا کہ معاہدے میں نہ جارحانہ عزائم ہیں، نہ کسی ملک کے معاملات میں مداخلت کا ارادہ اور نہ ہی کوئی علاقائی توسیع پسندی۔ ان کے مطابق تینوں ممالک کی اپنی اپنی عالمی اور علاقائی شراکت داریاں موجود ہیں اور مکہ معاہدہ ان تعلقات کے ساتھ متصادم نہیں بلکہ باہمی دفاع اور اجتماعی مزاحمت کی صلاحیت کو مضبوط بنانے کے لیے ایک تکمیلی انتظام ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر معاہدے کے کسی رکن ملک پر حملہ ہوتا ہے تو اس صورت میں ردعمل اور آئندہ کا لائحہ عمل تینوں ممالک کی قیادت باہمی مشاورت سے طے کرے گی۔ معاہدے کے عملی اور حساس دفاعی پہلوؤں کی تمام تفصیلات عوامی سطح پر بیان نہیں کی جا سکتیں، تاہم بنیادی مقصد مشترکہ دفاع اور رکن ممالک کی سلامتی کو یقینی بنانا ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان تعلقات کسی حالیہ پیش رفت کا نتیجہ نہیں بلکہ کئی دہائیوں پر محیط تاریخی اور گہرے روابط پر قائم ہیں۔ مکہ معاہدہ ان دیرینہ تعلقات کو مزید باضابطہ دفاعی تعاون میں تبدیل کرنے کی کوشش ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے دیگر اہم شراکت داروں کے ساتھ تعلقات بھی اس معاہدے سے متاثر نہیں ہوں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ مکہ دفاعی معاہدے میں مستقبل میں ایسے نئے شراکت داروں کی شمولیت کی گنجائش موجود ہے جو علاقائی امن، استحکام اور سلامتی کے لیے کام کرنے پر آمادہ ہوں اور عدم جارحیت و عدم مداخلت کے اصولوں کی پاسداری کریں۔

پاکستان کی ایران، امریکا سے تعلقات کے باعث ثالثی کی پوزیشن

ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے کہا کہ پاکستان کے امریکا اور ایران دونوں کے ساتھ دیرینہ تعلقات ہیں، یہی وجہ ہے کہ پاکستان کو دونوں فریقوں کے درمیان بات چیت اور سفارتی کوششوں کے لیے ایک منفرد پوزیشن حاصل ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اس تنازع میں کسی ذاتی مفاد یا اپنے کسی مقصد کے حصول کے لیے کردار ادا نہیں کر رہا بلکہ اس کی بنیادی ترجیح خطے میں امن قائم کرنا اور تنازع کو مزید پھیلنے سے روکنا ہے۔ ان کے مطابق پاکستان سمجھتا ہے کہ اختلافات اور تنازعات کا مستقل حل طاقت کے استعمال کے بجائے مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے ہی ممکن ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ تنازع کو فضائی، زمینی یا بحری محاذوں تک پھیلانے کے بجائے اس کے مزید پھیلاؤ کو روکنا ضروری ہے۔ خطے میں موجود تمام فریقوں کو پرامن اور مذاکراتی حل کی طرف بڑھنا چاہیے تاکہ کشیدگی میں کمی لائی جا سکے اور مزید ممالک اس تنازع کی لپیٹ میں آنے سے محفوظ رہیں۔

انہوں نے کہا کہ جو ممالک ثالثی یا سفارتی کوششوں میں کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہیں، انہیں غیر جانبدارانہ انداز میں اپنا کردار جاری رکھنا چاہیے۔ پاکستان بھی بات چیت اور سفارت کاری کے ذریعے کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کی حمایت کرتا رہے گا۔

افغانستان سے دہشت گردی، ہر ضروری اقدام کا عزم

افغانستان سے ہونے والے دہشت گرد حملوں کے حوالے سے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستان اپنی سرزمین، شہریوں اور قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے ہر ضروری اقدام کرے گا۔ انہوں نے اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہر ریاست کو اپنے دفاع کا بنیادی حق حاصل ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنے شہریوں کی جان، عزت اور مال کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کرے گا۔ پاکستان گزشتہ دو دہائیوں سے دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے اور ملک بھر میں دہشت گرد عناصر کے خلاف انٹیلی جنس بنیادوں پر کارروائیاں مسلسل جاری ہیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق رواں سال پاکستان میں 42 ہزار سے زائد انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے جا چکے ہیں، جبکہ افغانستان سے جنم لینے والی دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں بھی جاری ہیں۔ ان کے مطابق ان کارروائیوں کا مقصد دہشت گرد نیٹ ورکس، ان کے سہولت کاروں اور حملوں کی منصوبہ بندی کرنے والے عناصر کا خاتمہ اور شہریوں کو محفوظ بنانا ہے۔

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے بتایا کہ رواں سال اب تک 2 ہزار 100 سے زائد دہشت گرد ہلاک کیے جا چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستانی شہریوں، فوجی جوانوں اور پولیس اہلکاروں نے قیمتی جانوں کی قربانیاں دی ہیں اور یہ قربانیاں ملک کے امن و سلامتی کے لیے دی جا رہی ہیں۔

انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کسی قسم کا سمجھوتہ یا درمیانی راستہ اختیار نہیں کیا جائے گا۔ ریاست شہریوں کے تحفظ اور ملک میں امن کے قیام کے لیے دہشت گرد عناصر کے خلاف کارروائیاں جاری رکھے گی۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے اس امر پر زور دیا کہ پاکستان کی دفاعی اور سفارتی پالیسی کا بنیادی مقصد قومی سلامتی کے تحفظ کے ساتھ خطے میں امن و استحکام کو فروغ دینا ہے۔ ان کے مطابق پاکستان کسی تنازع کو مزید پھیلتا ہوا نہیں دیکھنا چاہتا اور اختلافات کے حل کے لیے مذاکرات، سفارت کاری اور پرامن ذرائع کو ترجیح دیتا ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.

Security Question:2 + 8 = ?

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More