معرکہ حق کی کامیابی کو ایک سال مکمل ، شہرشہر جشن کا سماں ، ملک بھر میں ریلیوں اور تقاریب کا انعقاد
ملک بھر میں “معرکۂ حق” کی پہلی سالگرہ جوش و خروش، ریلیوں اور تقریبات کے ساتھ منائی جا رہی ہے۔ لاہور، کراچی، راولپنڈی، فیصل آباد، ملتان، ساہیوال، نارووال، سکھر، چاغی، آزاد کشمیر اور خیبرپختونخوا سمیت مختلف شہروں میں شہریوں، تاجروں، طلبہ، سیاسی و مذہبی جماعتوں اور سرکاری اداروں کی جانب سے پاک فوج کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔ مختلف مقامات پر ریلیاں نکالی گئیں، دعائیہ تقاریب منعقد ہوئیں اور قومی یکجہتی کا اظہار کیا گیا، جبکہ مرکزی تقریب کل صبح جی ایچ کیو راولپنڈی میں منعقد ہوگی۔
لاہور میں نولکھا چرچ کے مقام پر “معرکۂ حق یومِ تشکر کانفرنس” کا انعقاد کیا گیا جہاں چیئرمین مرکزی رویت ہلال کمیٹی مولانا عبدالخبیر آزاد نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک کا کوئی حصہ ایسا نہیں جہاں “معرکۂ حق” کی کامیابی کا جشن نہ منایا جا رہا ہو۔ انہوں نے بھارت کو “جھوٹا اور مکار ملک” قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان پر بے بنیاد الزامات لگا کر حملہ کیا گیا لیکن فیلڈ مارشل کی قیادت میں دشمن کو بھرپور جواب دیا گیا۔ دوسری جانب پاکستان مرکزی مسلم لیگ کی جانب سے “معرکۂ حق کارواں ریلی” نکالی گئی جس میں کارکنوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ یہ ریلی ناصر باغ سے شروع ہو کر چیئرنگ کراس پر اختتام پذیر ہوئی۔
گجرات میں ق لیگ کے رہنما اور رکن قومی اسمبلی چوہدری حسین الٰہی نے وفد کے ہمراہ بھارتی جارحیت میں شہید ہونے والے چار شہریوں کی قبروں پر حاضری دی۔ انہوں نے شہداء کی قبروں پر پھول چڑھائے اور فاتحہ خوانی کی۔ یہ شہری سرحدی علاقوں میں بھارتی ڈرون حملوں کے دوران جان کی بازی ہار گئے تھے۔
کراچی میں “معرکۂ حق” کی پہلی سالگرہ کے موقع پر پیپلز پارٹی کی جانب سے سی ویو پر بڑی تقریب کے انعقاد کی تیاریاں مکمل کر لی گئیں۔ نشانِ پاکستان پر ہونے والی اس تقریب کے لیے سخت سیکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں۔ تقریب میں میوزک، آتش بازی، لیزر لائٹ شو اور دیگر تفریحی پروگرام شامل کیے گئے، جبکہ خواتین کے لیے الگ انتظامات بھی کیے گئے ہیں۔ پیپلز پارٹی کارکنان کی بڑی تعداد تقریب میں شرکت کے لیے پہنچنا شروع ہو گئی۔
خیرپور کی سینٹرل جیل میں قیدیوں نے بھی “معرکۂ حق” کی کامیابی کا جشن منایا۔ حیدرآباد پولیس ہیڈکوارٹر میں منعقدہ تقریب میں طلبہ نے ٹیبلوز پیش کر کے قومی ہیروز کو خراجِ تحسین پیش کیا۔
راولپنڈی میں مختلف تنظیموں اور تاجروں کی جانب سے کئی ریلیاں نکالی گئیں۔ کینٹ کی تاجر برادری نے مال روڈ سے بینک روڈ اسپتال تک ریلی نکالی جس میں مرکزی تنظیم تاجران کینٹ کے صدر زاہد بختاوری سمیت دیگر رہنماؤں نے شرکت کی۔ شرکاء قومی پرچم اٹھائے ہوئے تھے اور پاک فوج و فیلڈ مارشل کے حق میں نعرے لگا رہے تھے۔ ایک اور ریلی لیاقت باغ سے شروع ہو کر چاندنی چوک مری روڈ پر اختتام پذیر ہوئی جس کی قیادت تاجر رہنما شرجیل میمن نے کی۔ شرکاء نے بھارت کو “منہ توڑ جواب” دینے پر افواجِ پاکستان کو خراجِ تحسین پیش کیا۔
حسن ابدال میں اسسٹنٹ کمشنر کی قیادت میں ریلی نکالی گئی جس میں اقلیتی برادری، طلبہ، ریسکیو اداروں اور شہریوں نے شرکت کی۔ شرکاء نے پاک فوج کے حق میں نعرے لگائے اور ملک کی سلامتی کے لیے دعائیں کیں۔ اسسٹنٹ کمشنر نے کہا کہ پاکستانی قوم کے حوصلے بلند ہیں اور ملک کا دفاع مضبوط ہاتھوں میں ہے۔
شکرگڑھ میں ضلعی انتظامیہ کی جانب سے “آپریشن بنیان مرصوص” کے حوالے سے ریلی نکالی گئی جس کی قیادت اسسٹنٹ کمشنر میاں عدنان نے کی۔ ریلی میں طلبہ، سرکاری افسران اور شہریوں کی بڑی تعداد شریک ہوئی۔ شرکاء نے افواجِ پاکستان کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے قومی سلامتی اور استحکام کے لیے نعرے لگائے۔
خیبرپختونخوا کے ضلع کرک میں بھی “معرکۂ حق ریلی” نکالی گئی جبکہ آزاد کشمیر کے مختلف شہروں مظفرآباد، میرپور اور بھمبر میں بھی تقریبات اور ریلیوں کا انعقاد کیا گیا۔ مظفرآباد کے آزادی چوک میں “پاکستان زندہ باد” اور “پاک فوج پائندہ باد” کے نعروں سے فضا گونج اٹھی۔
ساہیوال میں افواجِ پاکستان سے اظہارِ یکجہتی کے لیے بائیک ریلی نکالی گئی جس کی قیادت ڈپٹی کمشنر سمیع اللہ فاروق نے کی۔ ریلی ضلع کونسل ہال سے ہائی اسٹریٹ تک گئی، جہاں شرکاء نے قومی پرچم اٹھا رکھے تھے۔ ڈی سی نے کہا کہ “معرکۂ حق” میں کامیابی سیکیورٹی فورسز کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا ثبوت ہے۔ ڈی پی او عثمان ٹیپو نے کہا کہ عوام اور سیکیورٹی ادارے ملک دشمن عناصر کے خلاف متحد ہیں۔
نارووال میں بھی “معرکۂ حق بنیان مرصوص” کی پہلی سالگرہ کے موقع پر بائیک ریلی نکالی گئی جس کی قیادت اسسٹنٹ کمشنر سید وسیم عباس نے کی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی قوم اپنے شہداء کو کبھی فراموش نہیں کر سکتی۔ ریلی کے اختتام پر ملکی ترقی، سلامتی اور خوشحالی کے لیے خصوصی دعائیں کی گئیں۔
ٹنڈو محمد خان میں ضلعی پولیس کی جانب سے شہداء کو سلامی پیش کی گئی۔ ڈسٹرکٹ پولیس ہیڈکوارٹر میں قومی پرچم کو سلامی دینے کے بعد پولیس اہلکاروں نے پریس کلب تک پیدل مارچ اور ریلی نکالی۔ ریلی میں مرد و خواتین پولیس اہلکاروں نے بڑی تعداد میں شرکت کی اور “پاک فوج زندہ باد” کے نعرے لگائے۔
سکھر میں تاجروں نے سمال ٹریڈرز کے صدر جاوید میمن کی قیادت میں صرافہ بازار سے ریلی نکالی۔ شرکاء سبز ہلالی پرچم اٹھائے ہوئے تھے اور پاک فوج کے حق میں نعرے لگا رہے تھے۔ جاوید میمن نے کہا کہ پاک فوج نے بھارت کے “مذموم عزائم” ناکام بنا دیے اور پوری قوم افواجِ پاکستان کے ساتھ کھڑی ہے۔
بلوچستان کے ضلع چاغی میں مسلم لیگ (ن) کی جانب سے “معرکۂ حق کار ریلی” نکالی گئی۔ تحصیل یک مچ میں منعقدہ ریلی میں شہریوں نے بھرپور شرکت کی اور پاک فوج کے حق میں فلک شگاف نعرے لگائے۔ ریلی کے بعد یک مچ بازار میں ایک بڑا اجتماع بھی منعقد کیا گیا جہاں مقررین نے “آپریشن بنیان المرصوص” کی کامیابی اور پاک فوج کی بہادری کو سراہا۔ شرکاء نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ قوم اور فوج ایک صفحے پر ہیں اور کسی بھی جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔
