Newspulse - نیوز پلس
پاکستان، سیاست، کھیل، بزنس، تفریح، تعلیم، صحت، طرز زندگی ... کے بارے میں تازہ ترین خبریں

63 فیصد امریکیوں نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمیتوں میں اضافے کا ذمہ دار ٹرمپ کو ٹھہرا دیا

63 فیصد امریکیوں نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمیتوں میں اضافے کا ذمہ دار ٹرمپ کو ٹھہرا دیا

Marist کی جانب سے کیے گئے مشترکہ سروے میں انکشاف ہوا ہے کہ تقریباً 81 فیصد امریکی شہری پیٹرولیم قیمتوں میں اضافے کے باعث مالی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔

واشنگٹن: امریکا میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اور غیرمعمولی اضافے نے عوام کی بڑی تعداد کو شدید مالی دباؤ میں مبتلا کر دیا ہے۔ ایک تازہ عوامی سروے کے مطابق، امریکی شہریوں کی اکثریت کا کہنا ہے کہ بڑھتی ہوئی ایندھن قیمتوں نے ان کے گھریلو اخراجات اور روزمرہ زندگی کو بری طرح متاثر کیا ہے، جبکہ زیادہ تر افراد اس صورتحال کا ذمہ دار صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو قرار دے رہے ہیں۔

این آر پی، پی بی ایس نیوز اور Marist کی جانب سے کیے گئے مشترکہ سروے میں انکشاف ہوا ہے کہ تقریباً 81 فیصد امریکی شہری پیٹرولیم قیمتوں میں اضافے کے باعث مالی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ سروے میں شامل افراد کا کہنا تھا کہ ایندھن کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ نہ صرف سفر کے اخراجات بڑھا رہا ہے بلکہ اس کے اثرات خوراک، ٹرانسپورٹ اور دیگر ضروری اشیاء کی قیمتوں پر بھی پڑ رہے ہیں، جس سے گھریلو بجٹ شدید متاثر ہوا ہے۔

سروے کے نتائج کے مطابق، ہر 10 میں سے 8 امریکیوں نے اعتراف کیا کہ پیٹرولیم قیمتوں میں اضافے نے ان کی زندگی پر نمایاں اثر ڈالا ہے۔ دوسری جانب صرف 19 فیصد افراد نے کہا کہ انہیں ایندھن مہنگا ہونے سے کوئی خاص فرق محسوس نہیں ہوا۔

یہ سروے 27 اپریل سے 30 اپریل کے درمیان کیا گیا، جس میں عوام سے موجودہ معاشی صورتحال اور پیٹرولیم بحران سے متعلق سوالات پوچھے گئے۔ نتائج کے مطابق 63 فیصد امریکی شہریوں نے پیٹرولیم قیمتوں میں اضافے کا براہِ راست ذمہ دار صدر ٹرمپ کو قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومتی پالیسیوں، عالمی کشیدگی اور توانائی سے متعلق فیصلوں نے قیمتوں میں اضافے کو مزید بڑھایا۔

تاہم سروے میں شامل 37 فیصد افراد نے اس رائے سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ عالمی حالات، بین الاقوامی منڈی میں اتار چڑھاؤ اور دیگر عوامل بھی قیمتوں میں اضافے کی بڑی وجوہات ہیں، اس لیے صرف صدر ٹرمپ کو مکمل طور پر ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکا میں جمعرات کے روز گیسولین کی اوسط قیمت بڑھ کر 4 ڈالر 56 سینٹ فی گیلن تک پہنچ گئی، جو ایران جنگ شروع ہونے سے قبل تقریباً 2 ڈالر 98 سینٹ فی گیلن تھی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی سیاسی کشیدگی، خام تیل کی سپلائی میں خدشات اور بڑھتی ہوئی طلب نے ایندھن کی قیمتوں میں ریکارڈ اضافے کو جنم دیا ہے۔

معاشی ماہرین کے مطابق اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو آنے والے مہینوں میں امریکی عوام کو مزید مہنگائی اور مالی دباؤ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More