Newspulse - نیوز پلس
پاکستان، سیاست، کھیل، بزنس، تفریح، تعلیم، صحت، طرز زندگی ... کے بارے میں تازہ ترین خبریں

یورپی یونین کے سفیر کی پاکستان ٹیکسٹائل کونسل کی قیادت سے ملاقات، جی ایس پی پلس کے تسلسل اور دوطرفہ تجارتی تعلقات پر تبادلہ خیال

یورپی یونین کے سفیر کی پاکستان ٹیکسٹائل کونسل کی قیادت سے ملاقات، جی ایس پی پلس کے تسلسل اور دوطرفہ تجارتی تعلقات پر تبادلہ خیال

جی ایس پی پلس مراعات کے تسلسل کے لیے پاکستان کو بین الاقوامی ذمہ داریوں پر مؤثر عمل درآمد یقینی بنانا ہوگا، یورپی سفیر

نئے فریم ورک میں انسانی حقوق، مزدوروں کے حقوق اور قانون کی حکمرانی میں قابل تصدیق بہتری پر توجہ ہوگی، یورپی سفیر ریمونڈاس کاروبلس کی پاکستان ٹیکسٹائل کونسل سے ملاقات؛ یورپی یونین اور بھارت کے آزاد تجارتی معاہدے سے پاکستانی برآمد کنندگان پر مسابقتی دباؤ بڑھنے کا خدشہ

کراچی: (نیوز پلس) یورپی یونین کے سفیر ریمونڈاس کاروبلس نے کہا ہے کہ پاکستان کے لیے جی ایس پی پلس (GSP+) تجارتی مراعات کا تسلسل یقینی بنانے کے لیے بین الاقوامی ذمہ داریوں پر مؤثر عمل درآمد ضروری ہے، جبکہ نئے جی ایس پی پلس فریم ورک کے تحت انسانی حقوق، مزدوروں کے حقوق اور قانون کی حکمرانی کے شعبوں میں واضح اور قابل تصدیق پیش رفت کو خصوصی اہمیت دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ نئے فریم ورک میں محض قانون سازی اور بین الاقوامی کنونشنز کی توثیق کے بجائے ان پر عملی طور پر عمل درآمد کو زیادہ اہمیت حاصل ہوگی۔

کراچی میں پاکستان ٹیکسٹائل کونسل (پی ٹی سی) کی قیادت سے ملاقات کے دوران یورپی یونین کے سفیر نے جی ایس پی پلس اسکیم، پاکستان اور یورپی یونین کے تجارتی تعلقات، برآمدات کے فروغ اور نئے ضوابط سے متعلق امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ ملاقات میں پاکستان کی برآمدی صنعت کو درپیش چیلنجز، عالمی منڈی میں مسابقت، انسانی و مزدور حقوق، ماحولیاتی ذمہ داریوں اور تجارتی مراعات کے تسلسل کے لیے درکار اقدامات پر بھی گفتگو ہوئی۔

یورپی سفیر نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کو جی ایس پی پلس سے حاصل ہونے والی ترجیحی تجارتی رسائی برقرار رکھنے کے لیے متعلقہ بین الاقوامی کنونشنز اور ذمہ داریوں پر عملی پیش رفت دکھانا ہوگی۔ انہوں نے بتایا کہ یورپی کمیشن جی ایس پی پلس پر عمل درآمد اور مقررہ مدت پر مشتمل عملی منصوبے کی تیاری کے سلسلے میں پاکستان کے ساتھ روابط مزید مضبوط کرے گا، تاکہ متعلقہ ذمہ داریوں پر پیش رفت اور ان کے نفاذ کو مؤثر انداز میں آگے بڑھایا جا سکے۔

ملاقات کے دوران اس امر کو بھی اجاگر کیا گیا کہ یورپی یونین پاکستان کی سب سے بڑی برآمدی منڈی ہے، جہاں پاکستانی برآمدات میں ٹیکسٹائل اور ملبوسات کا حصہ تقریباً 70 سے 76 فیصد ہے۔ اس تناظر میں جی ایس پی پلس کے تحت حاصل ترجیحی رسائی پاکستان کی ٹیکسٹائل صنعت، برآمدی آمدن، روزگار کے مواقع اور صنعتی ترقی کے لیے بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔

پاکستان ٹیکسٹائل کونسل کے چیئرمین فواد انور نے کہا کہ جی ایس پی پلس مراعات کا تسلسل پاکستان کی برآمدات بڑھانے، روزگار کے تحفظ، ٹیکس محصولات میں اضافے اور صنعتی مسابقت برقرار رکھنے کے لیے ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ یورپی منڈی میں ترجیحی رسائی پاکستانی ٹیکسٹائل اور ملبوسات کی صنعت کو عالمی سطح پر مسابقت کے قابل بنانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے، اس لیے اس سہولت کے تحفظ کے لیے حکومت اور نجی شعبے کے درمیان مؤثر رابطہ کاری ضروری ہے۔

فواد انور نے یورپی یونین اور بھارت کے درمیان آزاد تجارتی معاہدے کے ممکنہ اثرات کی جانب توجہ دلاتے ہوئے کہا کہ اس پیش رفت سے پاکستانی برآمد کنندگان پر مسابقتی دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ ان کے مطابق، جی ایس پی پلس کی سہولت برقرار رہنے کے باوجود بھارت کو یورپی منڈی میں حاصل ہونے والی تجارتی سہولتیں پاکستانی مصنوعات کے لیے نئے چیلنجز پیدا کر سکتی ہیں۔ انہوں نے اس صورت حال سے نمٹنے کے لیے پاکستان کی برآمدی مسابقت بہتر بنانے، پیداواری لاگت کم کرنے اور عالمی معیارات کے مطابق صنعتی کارکردگی بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔

پاکستان ٹیکسٹائل کونسل کے نمائندے انیس خواجہ نے کہا کہ یورپی یونین کی جائزہ رپورٹ میں انسانی حقوق، مزدوروں کے حقوق، ماحولیات اور گورننس کے شعبوں میں پاکستان کی پیش رفت کو تسلیم کیا گیا ہے۔ انہوں نے اس پیش رفت کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ جی ایس پی پلس کے مستقبل کے حوالے سے پاکستان کی کوششوں کو مزید مؤثر بنانے کے لیے متعلقہ شعبوں میں عملی اقدامات اور ان کے قابل تصدیق نتائج کو نمایاں کرنا ضروری ہے۔

زکی بشیر نے اس موقع پر کہا کہ ٹیکسٹائل کی برآمدی صنعت کی کارکردگی اور عالمی معیارات پر عمل درآمد کا جائزہ لیتے وقت اس شعبے کی مخصوص ضروریات اور عملی پیش رفت کو قومی سطح کے عمومی نتائج سے الگ دیکھنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکسٹائل صنعت پاکستان کی برآمدات میں کلیدی حیثیت رکھتی ہے، اس لیے اس کی بین الاقوامی مسابقت، پائیدار پیداواری طریقوں اور ضابطہ جاتی تقاضوں پر عمل درآمد کا جائزہ شعبے کے مخصوص حالات کو مدنظر رکھ کر لیا جانا چاہیے۔

پاکستان ٹیکسٹائل کونسل کے چیف ایگزیکٹو آفیسر محمد حسن شفقات نے یورپی یونین کے ڈیجیٹل پروڈکٹ پاسپورٹ اور سپلائی چین سے متعلق نئے ضوابط پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ان تقاضوں کے حوالے سے واضح رہنمائی اور متناسب نفاذ ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی برآمد کنندگان کے لیے نئے ضوابط کو سمجھنا، ان پر بروقت عمل درآمد کرنا اور یورپی منڈی میں اپنی مصنوعات کی رسائی برقرار رکھنا اہم ہوگا۔ اس مقصد کے لیے صنعت کو مناسب معلومات، وضاحت اور متعلقہ اداروں کے ساتھ مسلسل رابطے کی ضرورت ہے۔

ملاقات میں پاکستان ٹیکسٹائل کونسل نے جی ایس پی پلس کے تحفظ کے لیے مقررہ مدت پر مشتمل عملی منصوبے کی تیاری اور اس پر عمل درآمد کے سلسلے میں حکومتی اداروں کے ساتھ مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ کونسل کے مطابق، جی ایس پی پلس سے متعلق سفارشات وزیراعظم آفس، وزارتِ خارجہ اور وزارتِ تجارت کو پیش کی جائیں گی، تاکہ صنعت کے تحفظات اور تجاویز کو حکومتی سطح پر متعلقہ پالیسی سازی اور سفارتی رابطہ کاری کا حصہ بنایا جا سکے۔

اس سلسلے میں پاکستان ٹیکسٹائل کونسل کے چیئرمین جی ایس پی پلس کی دوبارہ درخواست کا جائزہ لینے والی حکومتی کمیٹی کے سامنے بھی صنعت کی سفارشات پیش کریں گے۔ کونسل کا مقصد یہ ہے کہ جی ایس پی پلس کے تسلسل کے لیے درکار اقدامات میں برآمدی صنعت کے عملی تجربات، کاروباری ضروریات اور عالمی منڈی کے بدلتے ہوئے تقاضوں کو مناسب اہمیت دی جائے۔

وزارتِ خارجہ کی درخواست پر پاکستان ٹیکسٹائل کونسل یورپی یونین اور بھارت کے آزاد تجارتی معاہدے کے ممکنہ معاشی اثرات کا جائزہ بھی تیار کر رہی ہے۔ اس جائزے میں پاکستانی برآمدات، ٹیکسٹائل اور ملبوسات کی صنعت، یورپی منڈی میں مسابقت اور تجارتی ترجیحات میں ممکنہ تبدیلیوں کے اثرات کا تجزیہ کیا جائے گا، تاکہ حکومت کو مستقبل کی تجارتی حکمت عملی مرتب کرنے میں مدد مل سکے۔

پاکستان ٹیکسٹائل کونسل نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ جی ایس پی پلس کے تحفظ، ٹیکسٹائل برآمدات کے فروغ اور عالمی منڈی میں پاکستان کی مسابقتی صلاحیت بہتر بنانے کے لیے حکومت اور یورپی یونین کے متعلقہ اداروں کے ساتھ تعاون جاری رکھے گی۔ کونسل کے مطابق، یورپی منڈی میں پاکستانی مصنوعات کی ترجیحی رسائی برقرار رکھنا نہ صرف برآمدی شعبے بلکہ روزگار، صنعتی سرگرمیوں اور ملکی معاشی ترقی کے لیے بھی اہم ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.

Security Question:6 − 1 = ?

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More