پاکستان سندھ طاس معاہدے سےمتعلق اپنے مؤقف پر قائم ہے، اگر بھارت نے ایسا کوئی اقدام کیا تو پاکستان کے پاس تمام آپشنز موجود ہیں ۔ ترجمان دفتر خارجہ
پاکستان خطے میں تنازعات کے پرامن حل کیلئے اپنی سفارتی کوششیں جاری رکھے گا، طاہر حسین اندرابی
گزشتہ دو ہفتے پاکستان کی سفارتی سرگرمیوں کے انتہائی اہم اور مصروف ترین رہے، وزیراعظم و نائب وزیراعظم نے امن، استحکام اور اقتصادی تعاون کے فروغ کیلئے انتہائی فعال کردار ادا کیا؛ ترجمان کی میڈیا بریفنگ
اسلام آباد: (خاور عباس شاہ) ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی کی جانب سے ہفتہ وار بریفنگ میں بتایا گیا ہے کہ سندھ طاس معاہدے کے تحت پانی کو روکنا عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے اور اگر بھارت نے ایسا کوئی اقدام کیا تو پاکستان کے پاس تمام آپشنز موجود ہیں ۔
ہفتہ وار میڈیا بریفنگ میں ترجمان نے مزید کہا کہ پاکستان سندھ طاس معاہدے سےمتعلق اپنے مؤقف پر قائم ہے، معاہدے کے تحت پانی کی روانی میں رکاوٹ ڈالنا بین الاقوامی قوانین اور معاہدوں کی خلاف ورزی تصور ہو گا۔
ترجمان نے واضح کیا کہ ایسی کسی بھی صورتحال میں پاکستان اپنے قومی مفادات کے تحفظ کے لیے تمام دستیاب آپشنز استعمال کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔
ابراہم معاہدے سے متعلق بات کرتے ہوئے ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ اس حوالے سے پاکستان کا مؤقف واضح اور دوٹوک ہے اور اس حوالے سے پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کا حامی ہے اور فلسطینی عوام کے حق خودارادیت کی حمایت جاری رکھے گا۔
ترجمان نے مزید بتایا کہ اس وقت 10 پاکستانی شہری صومالی قزاقوں کے قبضے میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اس معاملے پر صومالی حکومت کے ساتھ رابطے میں ہے اور یرغمال پاکستانیوں کی بحفاظت واپسی کے لیے کوششیں جاری ہیں۔
دفتر خارجہ کے ترجمان نے مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی، وزیراعظم اور نائب وزیراعظم کے حالیہ عالمی دوروں، پاک امریکہ تعلقات، بھارت کے ساتھ آبی تنازعہ اور مسئلہ کشمیر پر پاکستان کا جامع اور دوٹوک مؤقف پیش کیا ہے۔ اسلام آباد میں ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے بتایا کہ گزشتہ دو ہفتے پاکستان کی سفارتی سرگرمیوں کے حوالے سے انتہائی اہم اور مصروف ترین رہے ہیں، اس دوران وزیراعظم شہباز شریف اور نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے عالمی سطح پر امن، استحکام اور اقتصادی تعاون کے فروغ کے لیے انتہائی فعال کردار ادا کیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے عوامی جمہوریہ چین کی دعوت پر وہاں کا سرکاری دورہ کیا، جہاں ان کی چینی صدر اور وزیراعظم کے ساتھ انتہائی اہم ملاقاتیں ہوئیں، وزیراعظم نے ہانگژو میں منعقدہ پاک-چین بزنس ٹو بزنس کانفرنس میں بھی شرکت کی، جس کا مقصد دونوں ممالک کے مابین اقتصادی اور تجارتی تعاون کو مزید فروغ دینا تھا، خطے کی نازک صورتحال کے پیشِ نظر وزیراعظم شہباز شریف کو ایرانی صدر کی جانب سے ایک ٹیلیفون کال موصول ہوئی، جس میں علاقائی صورتحال پر گفتگو کی گئی، وزیراعظم نے بحرین، کویت اور ملائیشیا کی اعلیٰ قیادت کے ساتھ بھی رابطے قائم کر کے خطے میں استحکام کے لیے مشترکہ کوششوں پر تبادلہ خیال کیا ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار بیجنگ کا دورہ مکمل کرنے کے بعد نیویارک پہنچے، جہاں انہوں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اہم اجلاس میں شرکت کی اور مختلف ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں کیں، انہوں نے نیویارک میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل سے بھی خصوصی ملاقات کی، نیویارک کے بعد اسحاق ڈار نے واشنگٹن ڈی سی میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے ایک اہم ملاقات کی، ملاقات میں پاک امریکہ تعلقات، انسدادِ دہشتگردی اور علاقائی سلامتی جیسے امور پر تفصیلی گفتگو ہوئی، امریکی وزیر خارجہ نے ایران امریکہ شدید کشیدگی میں امن کے فروغ اور سفارتی رابطوں کیلئے پاکستان کے مثبت کردار اور کوششوں کو سراہا۔
طاہر اندرابی نے بتایا کہ یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ برائے امور خارجہ اور نائب صدر کایا کالاس کا حالیہ دورہِ پاکستان غیر معمولی اہمیت کا حامل تھا، اس دورے کے دوران پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان اسٹریٹجک ڈائیلاگ کے آٹھویں دور کا انعقاد ہوا، جس کی مشترکہ صدارت نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور کایا کالاس نے کی، یورپی یونین کی اعلیٰ قیادت نے پاکستانی سیاسی قیادت سے ملاقاتوں میں دوطرفہ تجارت، علاقائی سلامتی اور عالمی امور پر تفصیلی بات چیت کی۔
میڈیا کے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان اسرائیل کی جانب سے کی جانے والی تمام بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتا ہے، پاکستان فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت اور فلسطینی کاز کی مسلسل اور غیر مشروط حمایت جاری رکھے گا جب کہ جموں و کشمیر بھی ایک بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ تنازعہ ہے، پاکستان اس مسئلے کو ہر عالمی فورم پر مسلسل اجاگر کر رہا ہے، پاکستان اس دیرینہ مسئلے کے پرامن حل کے لیے عالمی برادری کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے اور مقبوضہ جموں و کشمیر میں ہونے والی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر آواز اٹھاتا رہے گا۔
ترجمان خارجہ نے واضح کیا کہ پاکستان کے پانی کو کنٹرول کرنے یا اسے روکنے کی کسی بھی بھارتی کوشش کو ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا اور پاکستان اپنے قومی مفادات کے تحفظ کا مکمل حق محفوظ رکھتا ہے، تمام فریقین بین الاقوامی معاہدوں کے احترام اور سندھ طاس معاہدے پر مکمل عملدرآمد یقینی بنائیں، کیوں کہ بھارت پانی کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے، جو نہ صرف سندھ طاس معاہدے کی روح کے خلاف ہے بلکہ پورے خطے کے امن و استحکام کے لیے شدید نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے، پاکستان نے بھارتی اقدامات کے باوجود ہمیشہ تحمل کا مظاہرہ کیا ہے، لیکن پاکستان سندھ طاس معاہدے کے تحت مغربی دریاؤں کے پانی کا جائز اور قانونی حق دار ہے۔
