Newspulse - نیوز پلس
پاکستان، سیاست، کھیل، بزنس، تفریح، تعلیم، صحت، طرز زندگی ... کے بارے میں تازہ ترین خبریں

ٹرمپ کا آبنائے ہرمز کو جلد امریکی علاقہ قرار دینے کا اعلان، ایران پر مزید سخت پابندیوں کی تیاری

ٹرمپ کا آبنائے ہرمز کو جلد امریکی علاقہ قرار دینے کا اعلان، ایران پر مزید سخت پابندیوں کی تیاری

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا جلد آبنائے ہرمز کو امریکی علاقہ قرار دینے کا اعلان کرے گا، جبکہ واشنگٹن ایران کے خلاف معاشی دباؤ مزید بڑھانے کی تیاری کر رہا ہے۔ ٹرمپ کے اس بیان نے خطے میں پہلے سے جاری کشیدگی میں مزید اضافے کے خدشات پیدا کر دیے ہیں۔

ٹرمپ نے فاکس نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکا آبنائے ہرمز پر مؤثر کنٹرول رکھتا ہے اور تہران کے خلاف معاشی دباؤ میں مزید اضافہ کیا جائے گا۔ امریکی صدر کے مطابق ایران کو جنگ کے خاتمے اور اپنے طرزِ عمل میں تبدیلی پر مجبور کرنے کے لیے اقتصادی اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔

ٹرمپ نے کہا کہ آبنائے ہرمز کے حوالے سے بہت جلد ایک اہم اعلان کیا جائے گا اور وہ اس اہم آبی گزرگاہ کو امریکی علاقہ قرار دینے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ امریکی صدر نے اس سے قبل بھی دعویٰ کیا تھا کہ امریکا آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کنٹرول کر رہا ہے اور وہاں امریکی بحری ناکہ بندی مؤثر ہے۔

آبنائے ہرمز خلیج فارس اور خلیج عمان کو ملانے والی انتہائی اہم بحری گزرگاہ ہے، جس کے ذریعے عالمی توانائی کی ترسیل کا ایک بڑا حصہ ہوتا ہے۔ جنگ سے قبل دنیا کے تیل کی تقریباً پانچویں حصے کی ترسیل اس راستے سے ہوتی تھی، اسی لیے آبنائے ہرمز میں کسی بھی طویل رکاوٹ کے عالمی تیل کی قیمتوں، شپنگ اور توانائی کی فراہمی پر براہِ راست اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

موجودہ صورتحال میں آبنائے ہرمز سے گزرنے والی بحری ٹریفک میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔ برطانوی میری ٹائم سکیورٹی ادارے کے مطابق حالیہ عرصے میں اس راستے سے جہازوں کی آمدورفت معمول سے تقریباً 90 فیصد تک کم رہی ہے، جبکہ متعدد بحری جہازوں کو حملوں اور سکیورٹی خدشات کے باعث اپنے راستے تبدیل کرنا پڑے ہیں۔

دوسری جانب امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے کہا ہے کہ امریکا ایران کے خلاف آئندہ ہفتے کے آغاز میں ایسے سخت معاشی اقدامات اور پابندیاں عائد کرے گا جن کی اس سے پہلے مثال نہیں ملتی۔ بیسنٹ کے مطابق نئی حکمت عملی کا مقصد ایران کو مزید معاشی طور پر تنہا کرنا اور تہران پر مذاکرات کے لیے دباؤ بڑھانا ہے۔

بیسنٹ نے امریکی حکمت عملی کو معاشی دباؤ اور آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کے امتزاج سے تعبیر کیا۔ ان کے مطابق واشنگٹن ایران کی معاشی تنہائی میں اضافہ کرنے کے ساتھ ساتھ آبنائے ہرمز میں اپنی موجودگی اور بحری کارروائیوں کے ذریعے دباؤ برقرار رکھے گا۔

امریکی انتظامیہ کے بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب واشنگٹن اور تہران کے درمیان آبنائے ہرمز کے مستقبل اور جنگ بندی سے متعلق مذاکرات میں اہم اختلافات برقرار ہیں۔ ایران آبنائے پر اپنے اثر و رسوخ اور خودمختاری پر زور دے رہا ہے، جبکہ امریکا پانی کی گزرگاہ کو کھولنے اور بحری آمدورفت کو یقینی بنانے کے لیے دباؤ بڑھا رہا ہے۔

اس صورتحال نے خلیجی ممالک اور عالمی توانائی کی منڈیوں میں بھی تشویش پیدا کر دی ہے۔ آبنائے ہرمز میں کشیدگی بڑھنے کی صورت میں تیل اور گیس کی عالمی ترسیل متاثر ہونے، شپنگ اخراجات میں اضافے اور توانائی کی قیمتوں میں مزید اتار چڑھاؤ کا خدشہ ہے۔

رپورٹس کے مطابق آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی آمدورفت میں شدید کمی اور خطے میں حملوں کے واقعات نے عالمی شپنگ کمپنیوں کو بھی محتاط کر دیا ہے۔ متعدد جہازوں نے سکیورٹی خدشات کے باعث متبادل راستوں یا نسبتاً محفوظ سمجھے جانے والے راستوں کو ترجیح دینا شروع کر دی ہے۔

ایران کی جانب سے امریکی مؤقف کو مسترد کیا گیا ہے۔ ایرانی حکام نے آبنائے ہرمز پر امریکی دعووں کو غلط قرار دیتے ہوئے واشنگٹن پر طاقت کے ذریعے خطے کے اہم آبی راستے پر قبضے کی کوشش کا الزام عائد کیا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی آبنائے ہرمز سے متعلق امریکی مؤقف کو غلط اندازہ قرار دیا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اگر امریکا واقعی آبنائے ہرمز کو اپنے علاقے میں شامل کرنے کا باضابطہ اعلان کرتا ہے تو اس کے سفارتی، قانونی اور عسکری اثرات انتہائی سنگین ہو سکتے ہیں، کیونکہ یہ آبی گزرگاہ ایران، عمان اور خلیجی خطے کی ریاستوں کے درمیان واقع ایک بین الاقوامی سطح پر انتہائی اہم بحری راستہ ہے۔ ایسے کسی اعلان سے امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافہ اور جنگ بندی کی کوششوں کو شدید دھچکا لگنے کا خدشہ ہے۔

دریں اثنا، عالمی منڈیوں کی نظریں آئندہ دنوں میں امریکی پابندیوں کے اعلان اور آبنائے ہرمز میں بحری صورتحال پر مرکوز ہیں۔ واشنگٹن کی جانب سے مزید سخت معاشی اقدامات اور آبنائے پر امریکی کنٹرول کے دعوے نے ایران کے ساتھ جاری تنازع کو ایک نئے اور زیادہ حساس مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More