Newspulse - نیوز پلس
پاکستان، سیاست، کھیل، بزنس، تفریح، تعلیم، صحت، طرز زندگی ... کے بارے میں تازہ ترین خبریں

مہنگائی نے ٹرمپ اور ریپبلکنز کو مشکل میں ڈال دیا

مہنگائی نے ٹرمپ اور ریپبلکنز کو مشکل میں ڈال دیا

امریکی ووٹرز نے معاشی مشکلات کا ذمہ دار حکومتی پالیسیوں کو قرار دے دیا

 

ایران جنگ، تجارتی محصولات اور صحت کی سہولتوں کے اخراجات میں کٹوتیاں ریپبلکنز کے لیے انتخابی چیلنج بن گئیں، 60 فیصد امریکی ووٹرز کی رائے میں ٹرمپ کی پالیسیوں نے معیشت کو مزید خراب کیا، ڈیموکریٹس نے حکومتی فیصلوں کے خلاف کروڑوں ڈالر کی انتخابی اشتہاری مہم شروع کر دی

 

واشنگٹن: (ویب ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی جماعت ریپبلکن پارٹی کو بڑھتی ہوئی مہنگائی اور عوامی معاشی مشکلات کے باعث سیاسی دباؤ کا سامنا ہے، جبکہ آئندہ وسط مدتی انتخابات سے قبل ڈیموکریٹک پارٹی نے ٹرمپ انتظامیہ کی اقتصادی پالیسیوں، ایران کے ساتھ جنگ اور تجارتی محصولات کو اپنی انتخابی مہم کا مرکزی موضوع بنا لیا ہے۔ امریکی ووٹرز کی بڑھتی ہوئی تعداد اب روزمرہ اخراجات میں اضافے کو محض عالمی معاشی حالات کا نتیجہ قرار دینے کے بجائے براہِ راست صدر ٹرمپ کے فیصلوں سے جوڑ رہی ہے، جس سے ریپبلکن امیدواروں کے لیے اپنی انتخابی پوزیشن کا دفاع مشکل ہوتا جا رہا ہے۔

امریکی سیاسی صورتِ حال پر مبنی تجزیے کے مطابق ریپبلکنز کے لیے سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ووٹرز کی ناراضی صرف معیشت کی مجموعی صورتِ حال تک محدود نہیں رہی، بلکہ وہ اس کے پیچھے حکومتی فیصلوں کو بھی ذمہ دار سمجھنے لگے ہیں۔ خصوصاً درآمدی اشیا پر عائد محصولات اور ایران جنگ کے باعث ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کو ایسے عوامل کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے جنہوں نے امریکی خاندانوں کے مالی مسائل میں مزید اضافہ کیا ہے۔

اس صورتِ حال نے ڈیموکریٹس کو ریپبلکن امیدواروں کے خلاف ایک واضح سیاسی مؤقف اختیار کرنے کا موقع فراہم کیا ہے۔ ڈیموکریٹس کا کہنا ہے کہ کانگریس میں ریپبلکن ارکان نے صدر ٹرمپ کی پالیسیوں کی مسلسل حمایت کی، حالانکہ ان پالیسیوں کے معاشی اثرات پر امریکی عوام میں تشویش بڑھ رہی ہے۔ یوں صدر کے فیصلوں کی حمایت اب صرف وائٹ ہاؤس کی کارکردگی کا معاملہ نہیں رہی بلکہ کانگریس کے ان ارکان کے لیے بھی انتخابی مسئلہ بن گئی ہے جنہوں نے ان اقدامات کے حق میں ووٹ دیا۔

60 فیصد امریکی ووٹرز ٹرمپ کی معاشی پالیسیوں سے ناخوش

امریکی عوام کی رائے جاننے کے لیے کیے گئے مختلف سروے ریپبلکنز کے لیے بڑھتے ہوئے سیاسی خطرے کی نشاندہی کرتے ہیں۔ وال اسٹریٹ جرنل کے تازہ سروے کے مطابق 60 فیصد رجسٹرڈ ووٹرز کا خیال ہے کہ صدر ٹرمپ کی پالیسیوں نے امریکی معیشت کو بہتر بنانے کے بجائے مزید خراب کیا، جبکہ صرف 25 فیصد ووٹرز نے کہا کہ ان اقدامات سے معاشی حالات میں بہتری آئی ہے۔

یہ اعداد و شمار اس لیے اہم ہیں کہ ٹرمپ نے انتخابی سیاست میں مہنگائی اور زندگی گزارنے کے بڑھتے ہوئے اخراجات کو کم کرنے کے وعدوں کو نمایاں کیا تھا۔ ان کے حامیوں کی ایک بڑی تعداد کو توقع تھی کہ ان کی حکومت معیشت کو مستحکم کرنے اور عام شہریوں کی قوتِ خرید بہتر بنانے میں کامیاب ہوگی۔ تاہم تازہ سروے ظاہر کرتے ہیں کہ عوام کے ایک بڑے حصے میں اب اس حوالے سے مایوسی پائی جاتی ہے۔

ایسوسی ایٹڈ پریس اور نورک کے ایک الگ سروے میں 67 فیصد ووٹرز نے معمول سے زیادہ قیمتوں کا ذمہ دار صدر ٹرمپ کی پالیسیوں کو قرار دیا، جبکہ 32 فیصد نے قیمتوں میں اضافے کی وجہ ایسے عوامل کو بتایا جو صدر کے براہِ راست اختیار میں نہیں ہیں۔

ان نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی عوام کے لیے مہنگائی اب محض معاشی اعداد و شمار یا ماہرین کی بحث کا موضوع نہیں رہی، بلکہ یہ ایک ایسا سیاسی معاملہ بن چکی ہے جو ووٹرز کے انتخابی فیصلوں پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔ جب شہری اشیائے خورونوش، ایندھن اور دیگر ضروریات کے اخراجات میں اضافہ محسوس کرتے ہیں تو ان کی توجہ اس بات پر بھی جاتی ہے کہ حکومت نے ان مسائل سے نمٹنے کے لیے کیا اقدامات کیے ہیں۔

سی این این اور ایس ایس آر ایس کے سروے میں بھی اسی رجحان کی عکاسی ہوئی۔ اوہائیو میں 76 فیصد کے مقابلے میں صرف 7 فیصد ممکنہ ووٹرز کا کہنا تھا کہ ٹرمپ کی پالیسیوں نے اخراجات کم کیے ہیں، جبکہ ان کے خیال میں ان پالیسیوں سے اخراجات میں اضافہ ہوا۔ آئیووا میں بھی 74 فیصد ووٹرز نے کہا کہ صدر کی پالیسیوں نے ان کے اخراجات بڑھائے، جبکہ صرف 6 فیصد نے اخراجات میں کمی کا مؤقف اختیار کیا۔

ان دونوں ریاستوں کے اعداد و شمار ریپبلکنز کے لیے خصوصی اہمیت رکھتے ہیں، کیونکہ اوہائیو اور آئیووا میں انتخابی مقابلے قومی سیاست اور کانگریس کی نشستوں کے نتائج پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ اگر مہنگائی کے معاملے پر عوامی بے اطمینانی برقرار رہتی ہے تو ریپبلکن امیدواروں کو اپنے ووٹرز کو مطمئن کرنے کے لیے مزید وضاحتیں دینا پڑ سکتی ہیں۔

ٹرمپ کے روایتی حامیوں میں بھی بے چینی

ریپبلکن پارٹی کے لیے تشویش کی ایک اہم وجہ یہ ہے کہ صدر ٹرمپ کی اقتصادی پالیسیوں پر تحفظات صرف ڈیموکریٹک ووٹرز تک محدود نہیں رہے۔ سروے میں ٹرمپ کے انتخابی اتحاد سے وابستہ بعض اہم طبقات میں بھی مہنگائی اور حکومتی اقدامات کے حوالے سے منفی رائے سامنے آئی ہے۔

ایسوسی ایٹڈ پریس اور نورک کے سروے کے مطابق محنت کش سفید فام ووٹرز کی اکثریت نے قیمتوں میں اضافے کا سبب ٹرمپ کی پالیسیوں کو قرار دیا، نہ کہ صرف ان عوامل کو جو صدر کے اختیار سے باہر ہیں۔ دوسری جانب اوہائیو اور آئیووا میں خود کو ریپبلکن قرار دینے والے تقریباً نصف ممکنہ ووٹرز نے بھی تسلیم کیا کہ ٹرمپ کی پالیسیوں سے زندگی گزارنے کے اخراجات بڑھ رہے ہیں۔

یہ رجحان ریپبلکن امیدواروں کے لیے اس لیے مشکل پیدا کرتا ہے کہ انتخابی کامیابی کے لیے انہیں اپنے روایتی حامیوں کو متحد رکھنا بھی ضروری ہے۔ اگر معاشی مسائل پر ناراضی بڑھتی ہے تو بعض ووٹرز پارٹی کی حمایت جاری رکھنے کے باوجود اس کی پالیسیوں سے اختلاف کر سکتے ہیں، جبکہ کچھ ووٹرز ووٹ ڈالنے سے گریز یا متبادل امیدواروں کی حمایت کا فیصلہ بھی کر سکتے ہیں۔

تجربہ کار ڈیموکریٹک پولسٹر سیلندا لیک کے مطابق صدر کی کارکردگی کے حوالے سے منفی رائے کا دائرہ غیر معمولی طور پر وسیع ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کے سیاسی تجربے میں کسی صدر کی ناکامی کا ایسا وسیع تاثر کم ہی دیکھنے میں آیا ہے۔ ان کے مطابق یہ تاثر 2018 میں ٹرمپ کی سیاسی مشکلات یا 2006 میں سابق صدر جارج ڈبلیو بش کے دور کی صورتِ حال سے بھی زیادہ نمایاں ہے۔

ایران جنگ اور ٹیرف پالیسی ریپبلکنز کے گلے پڑ گئیں

ریپبلکنز کی موجودہ مشکلات کا ایک اہم پہلو ایران جنگ اور تجارتی محصولات کے حوالے سے کانگریس میں ہونے والی ووٹنگ ہے۔ ڈیموکریٹس ان ووٹوں کو یہ ثابت کرنے کے لیے استعمال کر رہے ہیں کہ ریپبلکن ارکان نے صدر ٹرمپ کی ان پالیسیوں کی حمایت کی جنہیں اب بہت سے امریکی شہری اپنے معاشی مسائل میں اضافے کا سبب سمجھتے ہیں۔

تجزیے کے مطابق امریکی ایوانِ نمائندگان میں ریپبلکن ارکان کم از کم پانچ مرتبہ ٹرمپ کی ٹیرف پالیسی کی حمایت کر چکے ہیں۔ صدر کو ٹیرف عائد کرنے کے اختیار سے محروم کرنے کی ڈیموکریٹک کوششوں کی حمایت کرنے والے ریپبلکن ارکان کی تعداد کسی بھی موقع پر چھ سے زیادہ نہیں رہی۔

اسی طرح ایوانِ نمائندگان میں ایران جنگ کی حمایت میں سات مرتبہ ووٹنگ ہوئی، جبکہ کسی بھی موقع پر ٹرمپ کے مؤقف کی مخالفت کرنے والے ریپبلکن ارکان کی تعداد سات سے زیادہ نہیں رہی۔

امریکی سینیٹ میں بھی صورتِ حال ملتی جلتی رہی۔ سینیٹرز نے ٹرمپ کی ٹیرف پالیسی کی حمایت میں آٹھ مرتبہ ووٹ دیا، جبکہ ایران جنگ کی حمایت میں 14 مرتبہ ووٹنگ ہوئی۔ جنگ کے حق میں ابتدائی چھ ووٹوں میں کینٹکی کے ریپبلکن سینیٹر رینڈ پال کے سوا تمام ریپبلکن سینیٹرز نے حمایت کی۔

ڈیموکریٹس اب ان ووٹوں کو انتخابی مہم میں نمایاں کرکے یہ مؤقف اختیار کر رہے ہیں کہ ریپبلکن ارکان نے صرف صدر کے سیاسی مؤقف کی تائید نہیں کی بلکہ ایسے فیصلوں کی بھی حمایت کی جن کے معاشی اثرات عام شہریوں کو برداشت کرنا پڑ سکتے ہیں۔

ایوانِ نمائندگان کے لیے ڈیموکریٹک امیدواروں کی حمایت کرنے والے سپر پی اے سی ہاؤس میجورٹی پی اے سی کے شعبۂ ابلاغ کے ڈائریکٹر سی جے وارنکے کے مطابق ڈیموکریٹس کو اب یہ دلیل دینے کا موقع ملا ہے کہ ریپبلکن ارکان کے فیصلوں نے شہریوں کی زندگی مہنگی کر دی ہے۔ ان کے مطابق گزشتہ کئی انتخابی ادوار میں ڈیموکریٹس اس نوعیت کی معاشی دلیل پیش کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے تھے۔

صحت کی سہولتوں میں کٹوتیاں بھی انتخابی تنازع بن گئیں

ٹرمپ کی اقتصادی پالیسیوں کے ساتھ ساتھ وفاقی صحت کے اخراجات اور غذائی امداد میں کمی بھی انتخابی بحث کا اہم حصہ بن گئی ہے۔ 2025 میں منظور کیے گئے ایک بڑے مالیاتی بل میں میڈیکیڈ اور وفاقی غذائی امداد کے اخراجات میں نمایاں کٹوتیوں کے ساتھ ٹیکسوں میں وسیع پیمانے پر کمی اور امیگریشن کے لیے وفاقی فنڈنگ میں بڑے اضافے کو شامل کیا گیا تھا۔

ریپبلکن ارکان نے اس بل کی منظوری کے عمل میں بڑے پیمانے پر حمایت کی، جسے اب ڈیموکریٹس صحت کی سہولتوں اور سماجی بہبود کے پروگراموں کے حوالے سے تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔

میڈیکیڈ امریکی نظامِ صحت کا ایک اہم سرکاری پروگرام ہے جو اہل کم آمدنی والے افراد اور خاندانوں کو طبی سہولتوں کی فراہمی میں مدد دیتا ہے۔ ڈیموکریٹس کا مؤقف ہے کہ اس پروگرام کے اخراجات میں کٹوتیوں سے صحت کی سہولتوں تک رسائی متاثر ہو سکتی ہے اور پہلے ہی مالی دباؤ کا سامنا کرنے والے خاندانوں کے اخراجات میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔

ڈیموکریٹک امیدوار اپنی انتخابی مہم میں ایران جنگ، ٹیرف اور صحت کے اخراجات کو ایک ہی وسیع معاشی مسئلے کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جب ایندھن اور روزمرہ استعمال کی اشیا مہنگی ہو رہی ہوں تو عوام کے لیے صحت کی سہولتوں اور دیگر بنیادی ضروریات کے اخراجات میں ممکنہ اضافے کی تشویش بھی اہم ہو جاتی ہے۔

سی این این کے تجزیے کے مطابق صحت کے شعبے سے متعلق اشتہارات پر ڈیموکریٹس نے نمایاں سرمایہ کاری کی ہے۔ میڈیکیڈ کا ذکر کرنے والے 600 سے زائد اشتہارات کے لیے 10 کروڑ 20 لاکھ ڈالر مختص کیے گئے، جبکہ ریپبلکنز نے میڈیکیڈ کا ذکر کرنے والے اشتہارات پر 2 کروڑ 20 لاکھ ڈالر خرچ کیے۔

ڈیموکریٹس کی اشتہاری مہم، ریپبلکنز کے لیے نیا دباؤ

ڈیموکریٹک پارٹی نے ٹرمپ کی پالیسیوں کو ریپبلکن امیدواروں سے جوڑنے کے لیے بڑے پیمانے پر اشتہاری مہم شروع کی ہے۔ ایڈ امپیکٹ کے اعداد و شمار پر مبنی سی این این کے تجزیے کے مطابق ستمبر کے اختتام تک ڈیموکریٹس نے ٹیرف کا ذکر کرنے والے اشتہارات پر 5 کروڑ 32 لاکھ ڈالر خرچ کیے، جبکہ ریپبلکنز کا خرچ 10 لاکھ ڈالر سے کم رہا۔

ایران جنگ سے متعلق اشتہارات میں ڈیموکریٹس نے 5 کروڑ 11 لاکھ ڈالر خرچ کیے، جبکہ ریپبلکن امیدواروں نے اس موضوع پر 22 لاکھ ڈالر خرچ کیے۔

ڈیموکریٹس کی اشتہاری حکمتِ عملی میں انفرادی امیدواروں کے ووٹنگ ریکارڈ کو بھی نمایاں کیا جا رہا ہے۔ بعض اشتہارات میں ریپبلکن امیدواروں کو صدر ٹرمپ کی پالیسیوں کا مکمل حامی قرار دے کر یہ پیغام دیا جا رہا ہے کہ ان کے انتخاب کا مطلب انہی پالیسیوں کی حمایت ہوگا۔

کولوراڈو سے ریپبلکن رکنِ ایوانِ نمائندگان گیب ایونز کے خلاف ایک اشتہار میں انہیں ٹرمپ کا نمایاں شاگرد قرار دیا گیا، کیونکہ اشتہار کے مطابق انہوں نے صدر کی ٹیرف پالیسی، وفاقی صحت کے اخراجات میں کٹوتیوں اور ایران جنگ سے متعلق اقدامات کی مکمل حمایت کی۔

شمال مشرقی پنسلوانیا میں ڈیموکریٹک امیدوار پیج کوگنیٹی نے ریپبلکن رکن روب بریسناہن پر تنقید کرتے ہوئے ٹرمپ کی پالیسیوں سے متعلق ذاتی مالی فائدے کے الزامات بھی اٹھائے ہیں، جنہیں انتخابی مہم میں نمایاں کیا گیا۔

جنوبی ٹیکساس میں ڈیموکریٹک امیدوار بوبی پلیدو نے ریپبلکن امیدوار مونیکا ڈی لا کروز کے خلاف اپنے اشتہار میں جنگ، ٹیرف اور امیگریشن کے لیے بڑھتی ہوئی وفاقی فنڈنگ کو مہنگائی اور عوامی مشکلات سے جوڑا ہے۔ پلیدو نے اپنے پیغام میں ڈیزل اور پٹرول کی بلند قیمتوں اور اشیائے خورونوش کے بڑھتے ہوئے بلوں کو اجاگر کیا۔

آئیووا میں سینیٹ کی نشست کے لیے ڈیموکریٹک امیدواروں نے بھی یہی حکمتِ عملی اپنائی ہے۔ ایک اشتہار میں ریپبلکن امیدوار ایشلے ہنسن کے ایران جنگ کی حمایت میں ووٹوں کو کسانوں کی مشکلات سے جوڑا گیا، جنہیں کھاد کی بڑھتی قیمتوں اور ڈیزل کے مہنگے ہونے کا سامنا ہے۔

ڈیموکریٹک پولسٹر سیلندا لیک کے مطابق ریپبلکن ارکان کی جانب سے بار بار ان پالیسیوں کی حمایت ان کے خلاف تنقید کو مزید مؤثر بناتی ہے۔ ان کے بقول ووٹرز شاید ہر قانون کی تفصیلات سے واقف نہ ہوں، لیکن انہیں یہ احساس ضرور ہو سکتا ہے کہ ان کی شکایات کے باوجود منتخب نمائندے بار بار انہی فیصلوں کی حمایت کر رہے ہیں۔

ٹرمپ سے فاصلہ اختیار کرنا بھی آسان نہیں

ڈیموکریٹس کے بڑھتے ہوئے دباؤ کے جواب میں بعض ریپبلکن امیدواروں نے صدر ٹرمپ کی پالیسیوں سے اختلاف کرنا شروع کر دیا ہے۔ مشی گن سے ریپبلکن سینیٹ امیدوار مائیک راجرز نے ایران جنگ ختم کرنے اور کینیڈا کے ساتھ تجارتی تنازع کم کرنے کی حمایت کی ہے۔

آئیووا سے ریپبلکن سینیٹ امیدوار ایشلے ہنسن نے بھی جنگ ختم کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ریاست کے شہریوں کو پٹرول خریدنے اور اشیائے ضروریہ کے لیے زیادہ قیمت ادا کرنے کا بوجھ نہیں اٹھانا چاہیے۔

ریپبلکن رکنِ ایوانِ نمائندگان ماریا ایلویرا سالازار نے ایک اشتہار میں امیگریشن پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ہسپانوی نژاد امریکی شہری خود کو دھوکا کھایا ہوا محسوس کر رہے ہیں، کیونکہ ان کے خیال میں ٹرمپ انتظامیہ کی امیگریشن کارروائیاں بعض معاملات میں حد سے تجاوز کر گئی ہیں۔

ٹرمپ سے فاصلہ اختیار کرنے کی اس کوشش کا ایک اشارہ اشتہاری اخراجات سے بھی ملتا ہے۔ ملک بھر میں عام انتخابات کی مہم کے آغاز کے بعد یومِ مزدور کے موقع سے لے کر متعلقہ انتخابی مدت میں ریپبلکن اشتہارات میں ٹرمپ کا واضح ذکر کرنے پر صرف 1 کروڑ 30 لاکھ ڈالر خرچ کیے گئے، جبکہ ڈیموکریٹس نے ایسے اشتہارات پر 12 کروڑ 50 لاکھ ڈالر سے زیادہ خرچ کیے۔

تاہم ٹرمپ سے اختلاف کرنا ریپبلکن امیدواروں کے لیے خطرے سے خالی نہیں۔ صدر کی مقبولیت پر تنقید یا ان کی پالیسیوں سے کھلے عام اختلاف کرنے سے ان کے حامیوں کی انتخابی حمایت متاثر ہو سکتی ہے۔ دوسری جانب اگر امیدوار صدر کی حمایت جاری رکھتے ہیں تو انہیں مہنگائی اور جنگ کے حوالے سے عوامی ناراضی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

ریپبلکن حکمتِ عملی سے وابستہ سیاسی مشیر ڈیوڈ کوچل کے مطابق امیدواروں کو اس بات میں توازن پیدا کرنا ہوگا کہ وہ ٹرمپ سے کتنا فاصلہ اختیار کرتے ہیں، کیونکہ ایسا کرنے سے صدر کے سیاسی اتحاد میں شامل ووٹرز کی انتخابی شرکت متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

اس کے علاوہ ٹرمپ کی پالیسیوں پر دیرینہ حمایت کے بعد اچانک اختلاف کرنے والے امیدواروں کو غیر مخلص ہونے کے الزامات کا بھی سامنا ہے۔ ڈیموکریٹس ان کے سابقہ بیانات اور ووٹنگ ریکارڈ سامنے لا کر یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ اگر یہ پالیسیاں واقعی نقصان دہ ہیں تو ریپبلکن امیدواروں نے پہلے ان کی حمایت کیوں کی؟

ٹرمپ سے اختلاف یا ڈیموکریٹس پر حملے، ریپبلکنز کی نئی حکمتِ عملی

ریپبلکن امیدواروں کی بڑی تعداد نے اپنی انتخابی مہم کا رخ ان معاملات کی طرف موڑ دیا ہے جہاں ڈیموکریٹس کو سیاسی مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے۔ ان میں جنوبی سرحد کی سکیورٹی، غیر قانونی امیگریشن، جرائم، ٹیکسوں اور ٹرانس جینڈر پالیسیوں سے متعلق تنازعات شامل ہیں۔

سی این این کے مطابق ریپبلکن امیدواروں نے سرحدی معاملات کا ذکر کرنے والے اشتہارات پر 16 کروڑ 40 لاکھ ڈالر، امیگریشن سے متعلق اشتہارات پر 15 کروڑ 10 لاکھ ڈالر اور جرائم کے موضوع پر 6 کروڑ 60 لاکھ ڈالر خرچ کیے۔ ٹرانس جینڈر معاملات کا ذکر کرنے والے اشتہارات پر بھی 8 کروڑ 70 لاکھ ڈالر خرچ کیے گئے۔

ان اشتہارات میں ڈیموکریٹس پر الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ وہ غیر قانونی طور پر امریکا میں مقیم افراد کو سرکاری فوائد دینے کی حمایت کرتے ہیں اور جنوبی سرحد پر کنٹرول سخت کرنے کے لیے ٹرمپ کے اقدامات کی مخالفت کرتے ہیں۔ اسی طرح ٹرانس جینڈر معاملات کو بھی انتخابی بحث میں نمایاں کیا جا رہا ہے، کیونکہ 2024 کے صدارتی انتخابات میں ٹرمپ نے ان مسائل کو ڈیموکریٹس کے خلاف مؤثر انتخابی موضوع کے طور پر استعمال کیا تھا۔

ریپبلکنز کی کوشش ہے کہ ووٹرز کی توجہ صرف اس بات تک محدود نہ رہے کہ موجودہ حکومت نے معیشت کے لیے کیا کیا، بلکہ وہ اس بات پر بھی غور کریں کہ اگر ڈیموکریٹس کانگریس میں اکثریت حاصل کر لیتے ہیں تو ان کی پالیسیاں کیا ہوں گی۔

ٹیکسوں میں کمی ریپبلکنز کا سب سے بڑا انتخابی نعرہ

تمام انتخابی موضوعات میں ٹیکسوں کا معاملہ ریپبلکن پارٹی کے لیے سب سے اہم دکھائی دیتا ہے۔ سی این این کے تجزیے کے مطابق ستمبر کے اختتام تک ریپبلکن امیدواروں نے ٹیکس پالیسی کا ذکر کرنے والے اشتہارات پر 89 کروڑ ڈالر سے زیادہ خرچ کیے۔

ان اشتہارات میں ٹپس، اوور ٹائم اور سوشل سکیورٹی سے متعلق ٹیکسوں میں کمی کو ٹرمپ کے انتخابی وعدوں کی تکمیل کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ ریپبلکن امیدواروں کا مؤقف ہے کہ ان اقدامات سے امریکی شہری اپنی آمدنی کا زیادہ حصہ اپنے پاس رکھ سکیں گے اور زندگی گزارنے کے اخراجات میں کمی لانے میں مدد ملے گی۔

اوہائیو سے ریپبلکن سینیٹر جون ہسٹڈ کی انتخابی مہم کے ایک اشتہار میں ٹرمپ کی جانب سے ٹپس، اوور ٹائم اور سوشل سکیورٹی پر ٹیکسوں میں کمی کو نمایاں کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ حکومت شہریوں کو اپنی کمائی کا زیادہ حصہ اپنے پاس رکھنے کا موقع دے رہی ہے۔

ریپبلکن امیدواروں کی حکمتِ عملی یہ ہے کہ انتخابات کو ٹرمپ کی کارکردگی پر عوامی ریفرنڈم بننے سے روکا جائے اور ووٹرز کو دو جماعتوں کے مستقبل کے منصوبوں کے درمیان انتخاب کرنے پر آمادہ کیا جائے۔

ریپبلکن سیاسی مشیر ڈیوڈ کوچل کے مطابق کامیاب انتخابی مہم وہ ہوگی جو انتخابات کو صرف موجودہ صدر کی کارکردگی کے جائزے کے بجائے مستقبل کے انتخاب کے طور پر پیش کرے۔ ان کے مطابق دستیاب وقت میں ٹرمپ کی معاشی کارکردگی سے متعلق عوامی رائے کو مکمل طور پر تبدیل کرنا مشکل دکھائی دیتا ہے۔

کیا ریپبلکنز انتخابی نقصان سے بچ سکیں گے؟

امریکی سیاسی تجزیے کے مطابق ریپبلکن پارٹی کے لیے بعض ریاستوں میں اپنے ووٹرز کو متحد رکھنا اب بھی ممکن ہے۔ اوہائیو میں 29 فیصد اور آئیووا میں 31 فیصد ایسے ووٹرز، جو سمجھتے ہیں کہ ٹرمپ کی پالیسیوں نے قیمتیں بڑھائی ہیں، پھر بھی سینیٹ کے لیے ریپبلکن امیدواروں کو ووٹ دینے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ معاشی پالیسیوں پر ناراضی لازماً ہر ووٹر کو دوسری جماعت کی طرف منتقل نہیں کرتی۔ بعض شہری ٹرمپ کی پالیسیوں سے اختلاف کے باوجود ریپبلکن پارٹی کے دیگر مؤقف، امیگریشن، ٹیکسوں یا سماجی معاملات پر اس کی حمایت جاری رکھ سکتے ہیں۔

تاہم زیادہ سخت مقابلے والی ریاستوں میں ریپبلکنز کے لیے خطرہ بڑھ سکتا ہے، کیونکہ وہاں مہنگائی کا معاملہ غیر فیصلہ کن ووٹرز کو متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ڈیموکریٹک پارٹی کی کانگریسی انتخابی مہم کے سابق سربراہ ڈین سینا کے مطابق جب ووٹرز مہنگائی کو ریپبلکنز کی پالیسیوں سے جوڑ لیتے ہیں تو پھر ان کے لیے پارٹی کے دیگر انتخابی دلائل پر توجہ دینا مشکل ہو جاتا ہے۔

ریپبلکن پارٹی کے سابق رکنِ کانگریس اور نیشنل ریپبلکن کانگریشنل کمیٹی کے سابق سربراہ ٹام ڈیوس کے مطابق کانگریس میں ریپبلکن ارکان نے شاید صدر کو اپنی پالیسیوں پر عمل درآمد کے لیے زیادہ گنجائش دینے کی خاطر ان کی حمایت کی، کیونکہ انہیں محسوس ہوتا تھا کہ ان کا سیاسی مستقبل صدر سے وابستہ ہے۔ تاہم جب حکومت کی معاشی کارکردگی پر دباؤ بڑھتا ہے تو صدر سے الگ اپنی سیاسی شناخت قائم کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔

مجموعی طور پر امریکی سیاست میں مہنگائی، ایران جنگ، تجارتی محصولات اور صحت کی سہولتوں کے اخراجات اب ایک دوسرے سے جڑے ہوئے انتخابی موضوعات بن چکے ہیں۔ ڈیموکریٹس ان معاملات کو بنیاد بنا کر ریپبلکن امیدواروں کو صدر ٹرمپ کی پالیسیوں کا ذمہ دار قرار دے رہے ہیں، جبکہ ریپبلکنز ٹیکسوں میں کمی، سرحدی سکیورٹی اور امیگریشن جیسے موضوعات کے ذریعے انتخابی بحث کا رخ تبدیل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکنز کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ آیا وہ ووٹرز کو موجودہ معاشی مشکلات سے آگے دیکھنے اور اپنی آئندہ پالیسیوں پر اعتماد کرنے کے لیے قائل کر سکتے ہیں یا نہیں۔ تاہم سروے میں سامنے آنے والی رائے اور کانگریس میں ووٹنگ کا ریکارڈ ظاہر کرتا ہے کہ ٹرمپ کی معاشی پالیسیوں سے جڑی عوامی ناراضی ریپبلکن پارٹی کے لیے ایک بڑا انتخابی چیلنج بن چکی ہے۔

 

بشکریہ: سی این این

Leave A Reply

Your email address will not be published.

Security Question:11 + 10 = ?

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More