عالمی ثالثی عدالت کے سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے ضمنی فیصلہ میں پاکستان کے مؤقف کی تائید، بھارت کو سبکی کا سامنا
اسلام آباد :قانون کی حکمرانی اور بین الاقوامی معاہدوں کے تقدس کی توثیق کرتے ہوئے دی ہیگ میں مستقل ثالثی عدالت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کے تحت پاکستان کے مؤقف کے تائید میں جاری ضمنی فیصلہ سے بھارت عالمی سطح پر ایک بار پھر بے نقاب ہوا اور اسے سبکی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ضمنی فیصلہ میں کہا گیا ہے کہ بھارت مغربی دریاؤں پر اپنے پن بجلی منصوبوں میں طے شدہ حدود سے تجاوز نہیں کرسکتا۔ فیصلے نے بھارت پر دریائے سندھ، جہلم اور چناب کے بہاؤ کو ذخیرہ کرنے یا متاثر کرنے کی صلاحیت پرسخت پابندیوں کو واضح کیا ہے ۔ یہ دریا پاکستان کی زراعت، معیشت اور کروڑوں لوگوں کے روزگار کے لیے انتہائی اہمیت رکھتے ہیں۔
قانونی ماہرین کے مطابق یہ پاکستان کی واضح کامیابی ہے کیونکہ پاکستان نے ہمیشہ سندھ طاس معاہدے کے تنازعات کے حل کے طریقہ کار پر عمل کیا، جبکہ بھارت یکطرفہ اقدامات اور گریز کی پالیسی اپناتا رہا۔یہ پیش رفت اپریل 2025 میں پہلگام حملے کے بعد بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو معطل قرار دینے کے متنازع فیصلے کے تناظر میں سامنے آئی ہے حالانکہ معاہدے میں ایسی کسی شق کی گنجائش موجود نہیں۔پاکستان طویل عرصے سے بھارتی آبی منصوبوں پر تحفظات کا اظہار کرتا رہا ہے ۔ پاکستان کا یہی موقف رہا ہے کہ بھارت جان بوجھ کر زیریں علاقوں میں پانی کے بہاؤ کو متاثر کرنے کی کوشش کر رہا ہے جو معاہدے کی اُن شقوں کی خلاف ورزی ہے جن کے تحت صرف رن آف دی ریور نوعیت کے منصوبوں کی اجازت ہے اور بڑے پیمانے پر پانی ذخیرہ کرنے کی ممانعت ہے۔
پاکستان نے معاہدے میں موجود مضبوط تنازعاتی نظام کو بروئے کار لاتے ہوئے معاملہ پی سی اے میں اٹھای جس کے نتیجے میں زیادہ سے زیادہ پانی ذخیرہ کرنے کی حدود سے متعلق یہ ضمنی فیصلہ سامنے آیا۔ اس فیصلے نے بین الاقوامی قانونی اصولوں سے انحراف کے معاملے پر بھارت کی تنہائی کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔ایک سیکیورٹی تجزیہ کار کاکہنا ہے کہ اب ہر سنجیدہ قانونی فورم بھارت کو یہی پیغام دے رہا ہے کہ وہ بیرونِ ملک قانون پر مبنی عالمی نظام کی بات کرے اور اپنے رویّے میں معاہدوں کی خلاف ورزی کرے، یہ قابلِ قبول نہیں۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کا مسئلہ اب صرف پاکستان نہیں بلکہ وہ بڑھتا ہوا بین الاقوامی ریکارڈ ہے جو معاہدوں، ثالثی اور قانونی ضابطوں کے حوالے سے اس کے رویّے پر سوالات اٹھا رہا ہے۔تجزیہ کار کے مطابق جہاں پاکستان نے قانون، طریقہ کار اور معاہدے کے تقدس کا بھرپور احترام کیا وہیں بھارت نے گریز، دباؤ اور بین الاقوامی سطح پر سبکی کا راستہ اختیار کیا۔ انہوں نے مزید کہاکہ دنیا یہ سب دیکھ رہی ہے اور قانونی ریکارڈ مسلسل مضبوط ہو رہا ہے۔
اس ضمنی فیصلے کے ساتھ پاکستان نے ایک بار پھر یہ ثابت کیا ہے کہ وہ سرحد پار معاملات کے پُرامن اور قانون پر مبنی حل کے لیے پرعزم ہے جبکہ بھارت عالمی بینک کی ثالثی میں طے پانے والے اُس معاہدے کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہا ہے جو چھ دہائیوں سے زیادہ عرصے سے قائم ہے۔
پاکستان کا سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے عالمی ثالثی عدالت کے فیصلے پر اطمینان کا اظہار
حکومت پاکستان نے بیان میں کہا کہ سندھ طاس معاہدے کے تحت جاری کارروائی میں رتلے ہائیڈرو الیکٹرک پلانٹ اور کشن گنگا ہائیڈرو الیکٹرک منصوبے کے ڈیزائن سے متعلق تنازعات کے ضمن میں 15مئی 2026کو ثالثی عدالت کی جانب سے جاری کردہ زیادہ سے زیادہ ذخیرہ آب سے متعلق ضمنی فیصلے پر بھرپور اطمینان کا اظہار کرتی ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ یہ فیصلہ پاکستان کے اس بنیادی مقف کی توثیق کرتا ہے کہ معاہدہ مغربی دریاں پر بھارت کی پانی کو کنٹرول کرنے کی صلاحیت پر ٹھوس اور حقیقی حدود عائد کرتا ہے، یہ حدود محض رسمی نوعیت کی نہیں بلکہ منصوبہ بندی اور ڈیزائن کے مرحلے پر ہی لاگو ہوتی ہے اور انہیں بعد میں آپریشنل احتیاط کی یقین دہانی کے ذریعے پورا نہیں کیا جا سکتا، کسی رن آف دی ریور منصوبے کے لیے ذخیرہ آب کا جواز حقیقی منصوبہ جاتی ضروریات، متوقع عملی آپریشن، مقام کی ہائیڈرولوجیکل اور ہائیڈرولک صورت حال، پاور سسٹم کی ضروریات اور معاہدے کے تحت مطلوب معلومات و وضاحت کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔حکومت نے کہا کہ 8اگست 2025کے عدالت کے جنرل ایشوز ایوارڈ کی بنیاد پر یہ ضمنی فیصلہ اس اصول کو عملی شکل دیتا ہے کہ نصب شدہ پیداواری صلاحیت اور متوقع لوڈ حقیقت پسندانہ، مضبوط بنیادوں پر مبنی اور قابل دفاع ہونے چاہیئں، نصب شدہ صلاحیت کا تعلق منصوبے کے حقیقی متوقع آپریشن، ہائیڈرولوجیکل اور ہائیڈرولک اعداد و شمار اور معاہدے کے تقاضوں سے ہونا لازم ہے، اسی طرح متوقع لوڈ کا تعلق بھی منصوبے کے حقیقی متوقع آپریشن اور اس پاور سسٹم کی متوقع ضروریات سے ہونا چاہیے جسے یہ منصوبہ بجلی فراہم کرنے کے لیے بنایا گیا ہے۔عالمی عدالت کے احکامات پر ردعمل میں بتایا گیا کہ یہ فیصلہ معاہدے سے متعلق ایک بنیادی تشویش کا ازالہ کرتا ہے، بھارت فرضی پیداواری صلاحیت، مصنوعی لوڈ کروز، غیر حقیقی پیکنگ مفروضوں یا پیراگراف 15کے تحت اخراج آب کی حدود کی محض زبانی یقین دہانی کے ذریعے ذخیرہ آب میں اضافہ جائز قرار نہیں دے سکتا، پیراگراف 15بدستور ایک آپریشنل پابندی ہے لیکن یہ مطلوبہ پانی کنٹرول صلاحیت کے ثبوت پر مبنی جواز کا متبادل نہیں بن سکتی، کسی بھی مختلف آپریشنل طریقہ کار کے لیے بھارت کو مخصوص معلومات اور بنیادی اعداد و شمار فراہم کرنا ہوں گے۔یہ فیصلہ پاکستان کے جائزہ لینے کے حقوق کو بھی مزید تقویت دیتا ہے،
بھارت پر لازم ہے کہ وہ پاکستان کو معاہدے کی پاسداری کا جائزہ لینے کے لیے درکار کافی معلومات اور وضاحت فراہم کرے، اگر بھارت ایسا کرنے میں ناکام رہتا ہے تو وہ یہ ثابت کرنے کی اپنی ذمہ داری پوری نہیں کرتا کہ مجوزہ زیادہ سے زیادہ ذخیرہ آب اینیکسچر Dکے پیراگراف 8(c)کے مطابق ہے۔عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ جہاں کم از کم پانی کے بہا سے متعلق کوئی قابل اطلاق ذمہ داری موجود ہو اور وہ کسی اور طریقے سے پوری نہ ہو رہی ہو، وہاں فرم پاور کے لیے درکار ذخیرہ آب کے حساب میں اسے شامل کرنا لازم ہوگا، پیراگراف 15 کے تحت اخراج آب کی شرائط خود بخود ایسی ذمہ داری کو پورا نہیں کرتیں۔پاکستان عدالت کے اس سابقہ موقف کی بھی تائید کرتا ہے کہ ثالثی عدالت کے فیصلے فریقین پر حتمی اور لازمی حیثیت رکھتے ہیں اور معاہدے کی تشریح سے متعلق معاملات میں بعد کے معاہداتی فورمز کے لیے بھی رہنمائی اور قانونی اثر رکھتے ہیں، پاکستان معاہدے کے طریقہ کار اور قابل اطلاق رازداری کے انتظامات کے مطابق ان تشریحات کو نیوٹرل ایکسپرٹ کے عمل کے سامنے پیش کرے گا۔پاکستان سندھ طاس معاہدہ، اس کے تنازعات کے حل کے طریقہ کار اور پانی سے متعلق اختلافات کے پرامن حل کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کرتا ہے، پاکستان اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے پرعزم رہے گا اور اس امر کو یقینی بنانے کے لیے تمام قانونی اور سفارتی ذرائع بروئے کار لاتا رہے گا کہ مغربی دریاں پر قائم ہائیڈرو الیکٹرک منصوبے معاہدے کی حدود کے اندر رہتے ہوئے ڈیزائن اور چلائے جائیں۔یہ فیصلہ پاکستان کے معاہداتی موقف کو ایک مضبوط اسٹریٹجک بنیاد فراہم کرتا ہے، زیادہ سے زیادہ ذخیرہ آب حقیقت پسندانہ، شواہد پر مبنی، ہائیڈرولوجیکل بنیادوں سے ہم آہنگ، پاور سسٹم کے تقاضوں کے مطابق، معاہدے سے مطابقت رکھنے والا اور مصنوعی مفروضوں کے ذریعے غیر حقیقی طور پر بڑھائے جانے سے پاک ہونا چاہیے۔
واضح رہے کہ عالمی ثالثی عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ بھارت مغربی دریاں پر کسی بھی ہائیڈرو پاور منصوبے میں اپنی مرضی سے پانی ذخیرہ نہیں کر سکتا، بھارت کو آبی وسائل کا آپریشنل ڈیٹا پاکستان کو فراہم کرنا ہوگا۔ثالثی عدالت نے کہا ہے کہ بھارت کشن گنگا اور ریتلے منصوبوں سے متعلق تمام متعلقہ تکنیکی اور ہائیڈرولوجیکل معلومات پاکستان کے ساتھ شیئر کرے، بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو معطل یا غیر موثر قرار دینے کا بیانیہ غیر اخلاقی اور غیر قانونی ہے۔
