Newspulse - نیوز پلس
پاکستان، سیاست، کھیل، بزنس، تفریح، تعلیم، صحت، طرز زندگی ... کے بارے میں تازہ ترین خبریں

دہشت گردوں کے خلاف کارروائی نہ ہوئی تو افغانستان کو بھی نتائج بھگتنا ہوں گے، اسحاق ڈار

دہشت گردوں کے خلاف کارروائی نہ ہوئی تو افغانستان کو بھی نتائج بھگتنا ہوں گے، اسحاق ڈار

پاکستان کا مطالبہ صرف اپنی سرزمین کے تحفظ تک محدود ہے، افغان حکام وعدوں پر عمل کریں، نائب وزیراعظم

نائب وزیراعظم و وزیر خراجہ نے کہا ہے کہ  پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 90 ہزار سے زائد جانوں کی قربانیاں دیں، عالمی برادری ہماری قربانیوں کا اعتراف کرے

اسلام آباد: (نیوز پلس) نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان کا افغانستان سے صرف ایک ہی مطالبہ ہے کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہونے دی جائے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر افغان طالبان دہشت گرد گروہوں کے خلاف مؤثر کارروائی نہیں کرتے تو ایک دن انہیں خود بھی اس کے نتائج بھگتنا پڑیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ افغان سرزمین سے پاکستان پر ہونے والے حملے کسی صورت قابل قبول نہیں اور ان کا سلسلہ فوری طور پر بند ہونا چاہیے۔

اسلام آباد میں ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ دہشت گردی اس وقت پاکستان سمیت پورے خطے اور عالمی برادری کے لیے سب سے بڑے چیلنجز میں سے ایک ہے۔ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے مثال قربانیاں دی ہیں اور اس جدوجہد کے دوران ملک کو انسانی جانوں کے ضیاع کے ساتھ ساتھ معیشت، امن و استحکام اور عالمی ساکھ کے حوالے سے بھی بھاری نقصانات برداشت کرنا پڑے ہیں۔ عالمی برادری کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیوں کا اعتراف کرنا چاہیے۔

نائب وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہمت، بہادری اور ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا ہے۔ اس جنگ میں 90 ہزار سے زائد پاکستانی اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر چکے ہیں، جن میں سکیورٹی اہلکاروں کے علاوہ عام شہری بھی شامل ہیں۔ دہشت گردی کے باعث ملک کے مختلف علاقوں میں معمولات زندگی متاثر ہوئے، معاشی سرگرمیوں کو نقصان پہنچا اور پاکستان کو طویل عرصے تک سکیورٹی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں حکومت نے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے نئے خطوط پر کام کیا ہے اور اس مقصد کے لیے قومی سطح پر مربوط حکمت عملی اپنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے دہشت گردوں کے خلاف دن رات کارروائیاں کر رہے ہیں، جبکہ دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے وفاقی حکومت، صوبائی حکومتوں اور تمام متعلقہ اداروں کو مشترکہ طور پر اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ صرف کسی ایک ادارے یا صوبے کی ذمہ داری نہیں بلکہ یہ پورے ملک کا مشترکہ چیلنج ہے۔ اس خطرے سے نمٹنے کے لیے قومی سطح پر یکجہتی، اداروں کے درمیان مؤثر رابطے اور پالیسیوں پر مستقل عمل درآمد ضروری ہے۔ ان کے مطابق دہشت گردی کی بنیادی وجوہات کا خاتمہ کیے بغیر پائیدار امن کا قیام ممکن نہیں۔

نائب وزیراعظم نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی دہشت گردی کے خاتمے کے لیے کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کی ہدایات پر دہشت گردوں کے خلاف روزانہ کی بنیاد پر آپریشن کیے جا رہے ہیں۔ سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ملک میں امن و امان کی بحالی اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مصروف عمل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے پُرعزم ہے اور اس ضمن میں کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی۔

افغانستان کو دہشت گرد گروہوں کے خلاف وعدے پورے کرنے چاہییں

اسحاق ڈار نے افغانستان کی صورت حال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان افغان حکام پر مسلسل زور دیتا رہا ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو کسی دوسرے ملک کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہونے دیں۔ پاکستان نے اس مسئلے کے حل کے لیے مذاکرات اور سفارتی رابطوں کا راستہ بھی اختیار کیا اور دہشت گردی کے معاملے پر بات چیت کے لیے افغانستان کے دورے بھی کیے۔

انہوں نے کہا کہ اگست 2025 میں کابل میں پاکستان، چین اور افغانستان کے درمیان سہ فریقی اجلاس منعقد ہوا تھا، جس میں خطے کے امن و استحکام اور باہمی تعاون سمیت اہم امور پر بات چیت کی گئی۔ تاہم، ان کے بقول، دہشت گردی کے معاملے پر افغان حکام کی جانب سے کیے گئے وعدے پورے نہیں کیے گئے، جس کے باعث پاکستان کے سکیورٹی تحفظات برقرار ہیں۔

نائب وزیراعظم نے کہا کہ افغانستان میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور دیگر دہشت گرد گروہوں کی موجودگی خطے کے امن کے لیے خطرہ ہے۔ پاکستان کو سرحد پار سے دہشت گردوں کی دراندازی اور حملوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جن میں سکیورٹی اہلکاروں اور عام شہریوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ افغان حکام ان گروہوں کے خلاف مؤثر اقدامات کریں اور اپنی سرزمین سے پاکستان کے خلاف کارروائیوں کا راستہ روکیں۔

اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ پاکستان کا افغانستان سے کوئی غیر ضروری مطالبہ نہیں، بلکہ اس کی بنیادی توقع یہ ہے کہ افغان سرزمین سے پاکستان میں دہشت گردی نہ کی جائے۔ انہوں نے افغان طالبان پر زور دیا کہ وہ دہشت گردوں کو اسلحے سمیت ہر قسم کی امداد کی فراہمی فوری طور پر بند کریں اور ایسے عناصر کے خلاف عملی اقدامات کریں جو سرحد پار حملوں میں ملوث ہیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ افغان سرزمین سے پاکستان پر حملوں کا سلسلہ بند ہونا چاہیے اور نہتے پاکستانی شہریوں کو نشانہ بنانے کے واقعات ناقابل قبول ہیں۔ ان کے مطابق دہشت گردی کے مسئلے پر افغان حکومت کی جانب سے سنجیدہ اور مؤثر اقدامات نہ صرف پاکستان بلکہ خود افغانستان اور پورے خطے کے مفاد میں ہیں۔

جعفر ایکسپریس ہائی جیکنگ منصوبے کا بھی ذکر

نائب وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کو دہشت گردی کے ایسے واقعات کا سامنا رہا ہے جن کے اثرات ملک کے امن، معیشت اور عوامی زندگی پر مرتب ہوئے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ جعفر ایکسپریس کو ہائی جیک کرنے کا منصوبہ بھی افغان سرزمین پر بنایا گیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے خلاف دہشت گرد کارروائیوں کی منصوبہ بندی اور معاونت کے لیے افغان سرزمین کا استعمال ایک سنگین معاملہ ہے، جسے کسی صورت نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ دہشت گردی نے پاکستان کے عالمی تشخص اور ساکھ کو بھی نقصان پہنچایا ہے، حالانکہ پاکستان خود دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بھاری قیمت ادا کر چکا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ عالمی برادری پاکستان کے سکیورٹی خدشات کو سنجیدگی سے لے اور دہشت گردی کے خلاف مشترکہ کوششوں میں تعاون کرے۔

انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے تمام صوبوں اور متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے وژن عزمِ استحکام کی منظوری دی۔ اس حکمت عملی کا مقصد دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے ساتھ ان بنیادی عوامل کا تدارک کرنا ہے جو شدت پسندی اور دہشت گردی کو فروغ دیتے ہیں۔ ان کے مطابق اس مقصد کے حصول کے لیے ہر ادارے کو اپنی ذمہ داری ادا کرنا ہوگی اور وفاق و صوبوں کے درمیان مؤثر تعاون ناگزیر ہے۔

دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تمام صوبوں کا کردار اہم ہے

اسحاق ڈار نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف مؤثر حکمت عملی کے لیے صرف سکیورٹی آپریشنز کافی نہیں، بلکہ تمام متعلقہ اداروں کو مربوط انداز میں کام کرنا ہوگا۔ وفاقی حکومت، صوبائی انتظامیہ، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور دیگر متعلقہ فریقوں کے درمیان تعاون کے ذریعے دہشت گردی کے نیٹ ورکس اور ان کی معاونت کے ذرائع کا خاتمہ کیا جا سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف اپنی کارروائیوں اور اس سلسلے میں درپیش چیلنجز سے عالمی برادری کو آگاہ کرتا رہا ہے۔ پاکستان کا مؤقف ہے کہ خطے میں پائیدار امن کے لیے دہشت گرد گروہوں کو سرحد پار کارروائیوں سے روکنا اور ان کی مالی و عسکری معاونت کا خاتمہ ضروری ہے۔

نائب وزیراعظم نے کہا کہ دہشت گردی کا خطرہ کسی ایک ملک تک محدود نہیں رہتا، اس لیے علاقائی ممالک کو بھی اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے ذمہ دارانہ کردار ادا کرنا چاہیے۔ افغانستان میں سرگرم دہشت گرد گروہوں کے خلاف کارروائی کرنا خود افغان حکومت کے اپنے مفاد میں ہے، کیونکہ دہشت گردی کا پھیلاؤ بالآخر پورے خطے کے امن اور استحکام کو متاثر کرتا ہے۔

بھارت پر پاکستان میں دہشت گردی کی پشت پناہی کا الزام

اسحاق ڈار نے بھارت کے حوالے سے کہا کہ دنیا جانتی ہے کہ کلبھوشن یادیو پاکستان میں دہشت گردی کی سرگرمیوں میں ملوث تھا۔ انہوں نے بھارت پر پاکستان میں دہشت گردی کی پشت پناہی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو بیرونی معاونت سے ہونے والی دہشت گردی کے چیلنج کا بھی سامنا ہے۔

نائب وزیراعظم نے اپنے خطاب میں ایک بار پھر واضح کیا کہ پاکستان دہشت گردی کے مکمل خاتمے اور ملک میں پائیدار امن کے قیام کے لیے پُرعزم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ افغان طالبان کو دہشت گرد گروہوں کے خلاف اپنے وعدوں پر عمل کرنا ہوگا اور افغان سرزمین سے پاکستان کے خلاف حملوں کا خاتمہ یقینی بنانا ہوگا۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر افغان حکام دہشت گردوں کے خلاف مؤثر کارروائی نہیں کرتے تو اس کے منفی نتائج خود افغانستان کو بھی بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔ اسحاق ڈار کے مطابق خطے میں امن و استحکام کا تقاضا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف دعووں کے بجائے عملی اقدامات کیے جائیں اور تمام ممالک ایک دوسرے کی سلامتی کے احترام کو یقینی بنائیں۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.

Security Question:5 × 4 = ?

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More