بھارت: ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کے حامی ہزاروں نوجوانوں کا مودی حکومت کے خلاف پارلیمنٹ طرف ماارچ، پولیس کا لاٹھی چارج
مظاہرین کو پارلیمنٹ کی طرف بڑھنے سے روکنے کے لیے پولیس اور پیراملٹری فورسز کی بھاری نفری تعینات کی گئی تھی اور علاقے میں سخت رکاوٹیں کھڑی کی گئی تھیں۔
بھارت میں ‘کاکروچ جنتا پارٹی‘ کی تحریک شدت اختیار کر گئی، پارلیمنٹ مارچ روکنے کے لیے پولیس کا لاٹھی چارج، ہزاروں طلبہ سڑکوں پر
نئی دہلی: بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں پیر کو پارلیمنٹ کی جانب مارچ کرنے والے ہزاروں طلبہ اور نوجوان مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے پولیس نے سخت کارروائی کی، جبکہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز میں مظاہرین پر لاٹھی چارج کے مناظر سامنے آئے ہیں۔ حکام نے طاقت کے استعمال کی تردید کی ہے، تاہم یہ احتجاج وزیراعظم نریندر مودی کی تیسری مدتِ حکومت کے دوران اب تک کا سب سے بڑا عوامی چیلنج قرار دیا جا رہا ہے۔
پارلیمنٹ کے مون سون سیشن کے پہلے روز مرکزی احتجاجی مقام جنتر منتر پر رات بھر ہزاروں افراد جمع رہے۔ مظاہرین کی بڑی تعداد معروف سماجی کارکن سونم وانگ چک کو پولیس کی جانب سے ہفتے کے روز زبردستی اسپتال منتقل کیے جانے کے خلاف سراپا احتجاج تھی۔
پارلیمنٹ کی جانب مارچ روکنے کے لیے دہلی پولیس اور نیم فوجی دستوں کی بھاری نفری تعینات کی گئی، جبکہ علاقے کو خار دار رکاوٹوں اور بیریکیڈز کے ذریعے مکمل طور پر سیل کر دیا گیا۔
سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیوز میں پولیس اہلکاروں کو بعض مظاہرین پر لاٹھیاں برساتے دیکھا جا سکتا ہے، تاہم دہلی پولیس نے ان دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ احتجاج سے "انتہائی پیشہ ورانہ انداز” میں نمٹا جا رہا ہے اور کسی قسم کا غیر ضروری تشدد استعمال نہیں کیا گیا۔
دہلی کے ڈپٹی کمشنر آف پولیس سچن شرما نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ پولیس نے کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کے رہنماؤں سے متعدد ملاقاتیں کی ہیں، تاہم اب تک کسی سمجھوتے پر اتفاق نہیں ہو سکا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاجی مقام اپنی گنجائش سے بھر چکا ہے اور مزید افراد کی آمد کسی ناخوشگوار صورتحال کو جنم دے سکتی ہے۔ ان کے مطابق پیر کی صبح احتجاج میں تقریباً 10 ہزار افراد شریک تھے۔
بارش کے باوجود مظاہرین نے پرامن انداز میں احتجاج جاری رکھا اور بھارتی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اور وزیراعظم نریندر مودی کے استعفے کے حق میں نعرے لگائے۔
کاکروچ جنتا پارٹی کے چیف ترجمان سورو داس نے اے این آئی نیوز ایجنسی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انتظامیہ حکومت کے ساتھ مذاکرات کی کوشش کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا، "حکومت نے مذاکرات میں کافی تاخیر کی، لیکن ہمارے دروازے اب بھی کھلے ہیں اور ہم بامعنی بات چیت کے لیے تیار ہیں۔”
یہ تحریک رواں سال مئی میں اس وقت شروع ہوئی تھی جب میڈیکل کے قومی داخلہ امتحان (NEET) کے پرچے لیک ہونے کا انکشاف ہوا، جس سے 20 لاکھ سے زائد امیدوار متاثر ہوئے اور کئی طلبہ کو دوبارہ امتحان دینا پڑا۔ اس واقعے نے پورے ملک میں تعلیمی نظام کی شفافیت پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے۔
اتر پردیش کے شہر میرٹھ سے تعلق رکھنے والے 21 سالہ طالب علم آدی ناتھن نے کہا کہ وہ امتحانی نظام میں بدعنوانی کے خلاف آواز اٹھانے کے لیے احتجاج میں شریک ہوئے ہیں۔
انہوں نے کہا، "ہم مزید پیپر لیکس برداشت نہیں کریں گے۔ حکومت کو اس نظام کی ناکامی کی ذمہ داری قبول کرنا ہوگی۔”
22 سالہ طالب علم محمد تبریز کا کہنا تھا کہ نوجوان کرپشن کے خاتمے اور امتحانات میں شفافیت چاہتے ہیں۔
انہوں نے کہا، "ہم چاہتے ہیں کہ مقابلہ جاتی امتحانات میں ہونے والی دھاندلی اور پیپر لیک کا سلسلہ ہمیشہ کے لیے ختم کیا جائے، اسی مقصد کے لیے ہم سڑکوں پر نکلے ہیں۔”
تحریک کے بانی ابھیجیت دپکے اور ان کے ساتھی گزشتہ ماہ سے بھارتی وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر دھرنا دے رہے ہیں، جبکہ 28 جون کو معروف سماجی کارکن سونم وانگ چک نے غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال شروع کر دی تھی۔
اسپتال سے اپنے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) اکاؤنٹ پر جاری ایک ہاتھ سے لکھی گئی تحریر میں سونم وانگ چک نے اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کے لیے چند شرائط پیش کیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر حکومت تعلیمی نظام کی ناکامی اور پیپر لیکس کی ذمہ داری قبول کرے، یا مظاہرین کو پارلیمنٹ تک مارچ کی اجازت دے کر ارکان پارلیمنٹ اس مسئلے کو ایوان میں اٹھانے کی یقین دہانی کرائیں تو وہ اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے پر غور کریں گے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر صحت اجازت نہ دے تو مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنما اسپتال آ کر ان سے ملاقات کریں اور طلبہ کے مطالبات پارلیمنٹ میں اٹھانے کی یقین دہانی کرائیں۔
سیاسی مبصرین کے مطابق کاکروچ جنتا پارٹی کی تیزی سے مقبول ہوتی تحریک بھارت میں نوجوانوں کی بڑھتی ہوئی بے روزگاری، تعلیمی نظام پر عدم اعتماد اور مسلسل سامنے آنے والے پیپر لیک اسکینڈلز کے خلاف شدید عوامی غم و غصے کی عکاسی کر رہی ہے، جس نے مودی حکومت کے لیے ایک نیا سیاسی امتحان کھڑا کر دیا ہے۔
