بگرام ائیر بیس معاہدہ ممکن نہیں، ایک انچ زمین بھی امریکا کو نہیں دیں گے ۔ افغانستان کا سخت رد عمل
امریکی صدر ٹرمپ کی بگرام ائیر بیس واپس لینے کی دھمکی پر افغان وزارت خارجہ کا سخت رد عمل سامنے آ گیا
امریکی صدر کے بیان کے جواب میں افغان وزیر خارجہ امیر خان متقی نے کہا کہ ہم اپنی سرزمین پر کسی غیر ملکی فوج کو آنے کی اجازت نہیں دے سکتے، امریکا افغانستان کو تسلیم کرے تب بھی ایک انچ زمین امریکا کے حوالے نہیں کریں گے۔
قبل ازیں افغان حکومت کے نائب ترجمان حمد اللہ فطرت نے کہا کہ افغانستان کیلئے اپنی خودمختاری اور سرزمین اہم ہے، دو طرفہ مذاکرات میں امریکا پر واضح کردیا۔ کہا دوحہ معاہدے میں طے ہوا تھا کہ امریکا دوبارہ ہمارے اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں کرے گا۔
افغان ترجمان کا کہنا تھا کہ تمام ممالک سے متوازن معاشی مفاد پر مشتمل دو طرفہ تعلقات چاہتے ہیں، واشنگٹن کو ماضی کی ناکامیوں اور تجربوں کو دہرانے کے بجائے حقیقت پسندانہ رویہ اپنایا چاہئے۔
افغانستان نے اگر بگرام ائیر بیس واپس نہ دی تو سنگین نتائج ہوں گے ، صدر ٹرمپ کی دھمکی
دوسری جانب بگرام ایئر بیس واپس لینے کے امریکی صدر کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے سربراہ افغان وزارت دفاع فصیح الدین فطرت نے کہا کہ بگرام ائیر بیس پر کوئی معاہدہ ممکن نہیں ہے۔
سربراہ افغان وزارت دفاع فصیح الدین فطرت نے کہا کہ کچھ لوگ سیاسی ڈیل سے بگرام ائیر بیس واپس لینا چاہتے ہیں، افغانستان کی ایک انچ زمین پر بھی معاہدہ ممکن نہیں، افغانستان کی زمین پر کسی معاہدے کی ہمیں ضرورت نہیں ہے۔
واضع رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کئی بار کہہ چکے ہیں کہ امریکا کو افغانستان کی ببگرام ائیر بیس نہیں چھوڑنی چاہئے تھی ، ہم بگرام ائیر بیس واپس لیں گے اور اس حوالے سے بات چیت جاری ہے۔ امریکی صدر نے دھمکی دی تھی کہ اگر افغانستان نے بگرام ائیر بیس امریکا کو واپس نہ دی تو اسے سنگین نتائج بھگتنا ہوں گے۔
