ایران کے خلاف معاشی جنگ سے امریکا کو کامیابی نہیں ملے گی، لیون پینیٹا
ایران نے آبنائے ہرمز پر دباؤ بڑھا کر امریکا کے لیے ایک اہم اقتصادی اور تزویراتی چیلنج پیدا کردیا ہے۔ سابق امریکی وزیر دفاع
سابق امریکی وزیر دفاع اور سابق سی آئی اے ڈائریکٹر لیون پینیٹا نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف معاشی جنگ کا مقصد اگر تہران کو اپنی شرائط تسلیم کرنے پر مجبور کرنا ہے تو اس حکمت عملی کے نتائج امریکا کی توقعات کے مطابق نہیں نکلیں گے۔
واشنگٹن: سابق امریکی وزیر دفاع اور سابق سی آئی اے ڈائریکٹر لیون پینیٹا نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف امریکا کی جانب سے جاری معاشی دباؤ اور پابندیوں کی حکمت عملی تہران کو شکست دینے یا ہتھیار ڈالنے پر مجبور کرنے میں کامیاب نہیں ہوگی۔ ان کے مطابق ایران نے آبنائے ہرمز پر دباؤ بڑھا کر امریکا کے لیے ایک اہم اقتصادی اور تزویراتی چیلنج پیدا کردیا ہے۔
لیون پینیٹا نے موجودہ صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے خلاف معاشی جنگ کا مقصد اگر تہران کو اپنی شرائط تسلیم کرنے پر مجبور کرنا ہے تو اس حکمت عملی کے نتائج امریکا کی توقعات کے مطابق نہیں نکلیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران برسوں سے امریکی پابندیوں کا سامنا کر رہا ہے اور موجودہ حالات میں مزید اقتصادی دباؤ بھی تہران کو فوری طور پر ہتھیار ڈالنے پر مجبور نہیں کرسکتا۔ پینیٹا اس سے قبل بھی ایران کے ساتھ جاری تنازع کو امریکا کے لیے طویل اور مشکل جنگ قرار دے چکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز کی صورتحال نے امریکا کے لیے مشکلات میں مزید اضافہ کردیا ہے۔ ایران کی جانب سے اس اہم آبی گزرگاہ پر دباؤ کے باعث عالمی توانائی کی ترسیل متاثر ہوئی ہے، جس کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں اور عالمی مارکیٹ میں سپلائی کے حوالے سے خدشات میں اضافہ ہوا ہے۔ حالیہ دنوں میں آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کی تعداد معمول کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم ہوئی ہے۔
پینیٹا کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی جانب سے ایران پر مزید اقتصادی پابندیاں عائد کرنے اور تہران پر دباؤ بڑھانے کی پالیسی کے باوجود ایران کے رویے میں بنیادی تبدیلی کا امکان کم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حکمت عملی امریکا کو ایسے تنازع میں مزید الجھا سکتی ہے جس سے نکلنے کے لیے کوئی واضح راستہ نظر نہیں آرہا۔
دوسری جانب امریکی فوج کے سابق افسر اور عسکری تجزیہ کار کرنل سیڈرک لیٹن نے بھی ایران کے خلاف امریکی اقتصادی اقدامات کے ممکنہ انسانی اثرات پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ سی این این سے گفتگو میں ان سے سوال کیا گیا کہ اگر ٹرمپ انتظامیہ ایران کے ساتھ کاروبار کرنے والے ممالک پر اقتصادی پابندیاں عائد کرتی ہے تو کیا اس میں ایران کو خوراک، طبی سامان اور دیگر بنیادی ضروریات فراہم کرنے والے ممالک بھی شامل ہوسکتے ہیں۔
سیڈرک لیٹن نے خبردار کیا کہ اگر اقتصادی دباؤ کے نتیجے میں ایران کو خوراک اور طبی سامان جیسی بنیادی انسانی ضروریات کی فراہمی میں جان بوجھ کر رکاوٹ ڈالی گئی تو اس اقدام کے سنگین قانونی اور انسانی نتائج ہوسکتے ہیں۔ انہوں نے ایسے اقدامات کو جنگی جرائم کے خدشات سے جوڑا، تاہم کسی مخصوص اقدام کو قانونی طور پر جنگی جرم قرار دینے کے لیے اس کے حالات، نیت اور بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت اثرات کا تفصیلی جائزہ ضروری ہوگا۔
ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی کے دوران واشنگٹن نے تہران پر اقتصادی دباؤ میں مزید اضافے کا اعلان کیا ہے۔ امریکی انتظامیہ کی جانب سے ایران کے ساتھ تجارت کرنے والے ممالک اور اداروں کو بھی پابندیوں کی دھمکی دی جارہی ہے۔ امریکی حکام کا مؤقف ہے کہ اقتصادی دباؤ کا مقصد ایران کو اپنے جوہری پروگرام، آبنائے ہرمز اور جنگ سے متعلق امریکی مطالبات تسلیم کرنے پر مجبور کرنا ہے۔
تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ ایران کے خلاف کئی دہائیوں سے جاری امریکی پابندیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ محض اقتصادی دباؤ سے تہران کو اپنی بنیادی پالیسی تبدیل کرنے پر مجبور کرنا آسان نہیں۔ موجودہ صورتحال میں آبنائے ہرمز کا معاملہ مزید اہمیت اختیار کرگیا ہے، کیونکہ یہ عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمندری راستہ ہے اور اس میں طویل رکاوٹ عالمی سطح پر تیل اور ایندھن کی قیمتوں کو متاثر کرسکتی ہے۔
ایران کی جانب سے بھی واضح کیا گیا ہے کہ اگر امریکا نے دباؤ اور پابندیوں میں مزید اضافہ کیا تو تہران اپنے ردعمل میں شدت پیدا کرسکتا ہے۔ حالیہ دنوں میں ایرانی حکام نے آبنائے ہرمز کے حوالے سے سخت موقف اپناتے ہوئے کہا ہے کہ سفارتی کوششیں ناکام ہونے کی صورت میں ایران مزید جارحانہ حکمت عملی اختیار کرسکتا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ صورتحال میں امریکا اور ایران دونوں کے لیے سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ اقتصادی اور عسکری دباؤ کو کسی ایسے سفارتی راستے میں تبدیل کیا جائے جس سے تنازع مزید پھیلنے سے روکا جاسکے۔ اگر آبنائے ہرمز میں کشیدگی برقرار رہی اور عالمی تجارت و توانائی کی ترسیل مزید متاثر ہوئی تو اس کے اثرات صرف امریکا اور ایران تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی معیشت، تیل کی قیمتوں اور خطے کے ممالک پر بھی مرتب ہوسکتے ہیں۔
