ایران پر پابندیوں کی امریکی کوشش ناکام، روس اور چین نے ایران پر پابندیوں کی قرارداد ویٹو کردی
امریکی مسودے کے حق میں 11 ووٹ آئے، پاکستان اور صومالیہ نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا
نیویارک: اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ایران پر عائد پابندیوں کی نگرانی کرنے والے ماہرین کے پینل کی مدت میں ایک سال کی توسیع سے متعلق امریکی قرارداد روس اور چین کے ویٹو کے باعث مسترد ہوگئی۔
15 رکنی سلامتی کونسل میں امریکی مسودۂ قرارداد کے حق میں 11 ارکان نے ووٹ دیا، جبکہ پاکستان اور صومالیہ نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا۔ روس اور چین، جو سلامتی کونسل کے مستقل ارکان ہیں، نے قرارداد کے خلاف ووٹ دے کر اسے ویٹو کردیا۔
امریکی قرارداد کا مقصد ایران پر عائد اقوام متحدہ کی پابندیوں کی نگرانی کرنے والے ماہرین کے پینل کے مینڈیٹ میں مزید ایک سال کی توسیع کرنا تھا۔ یہ پینل ایران سے متعلق پابندیوں کی خلاف ورزیوں کی نشاندہی اور سلامتی کونسل کو رپورٹ فراہم کرتا ہے۔
سلامتی کونسل کے اجلاس سے قبل ہی روس اور چین نے مسودے کی مخالفت واضح کردی تھی۔ دونوں ممالک نے ایران کے خلاف اقوام متحدہ کی پابندیاں بحال کرنے کے لیے استعمال کیے گئے نام نہاد ’’اسنیپ بیک میکانزم‘‘ کی قانونی حیثیت پر بھی شدید اعتراضات اٹھائے تھے۔
روس اور چین کا مؤقف ہے کہ 2015 کے ایران جوہری معاہدے، جسے جوائنٹ کمپری ہینسو پلان آف ایکشن (JCPOA) کہا جاتا ہے، اور اس سے متعلق سلامتی کونسل کی قرارداد 2231 کی مقررہ مدت 18 اکتوبر 2025 کو ختم ہوچکی ہے، اس لیے پابندیوں کی بحالی کے لیے اسنیپ بیک میکانزم کے استعمال کی قانونی اور طریقہ کار سے متعلق بنیاد باقی نہیں رہی۔
دوسری جانب امریکا، برطانیہ، فرانس اور بعض دیگر ممالک کا مؤقف ہے کہ 2025 میں اسنیپ بیک طریقہ کار کے تحت ایران پر اقوام متحدہ کی پابندیاں دوبارہ نافذ ہوچکی ہیں اور ان کی نگرانی کے لیے متعلقہ اداروں اور ماہرین کے پینل کا برقرار رہنا ضروری ہے۔
اسنیپ بیک میکانزم 2015 کے جوہری معاہدے کے تحت اس مقصد کے لیے بنایا گیا تھا کہ اگر معاہدے کا کوئی فریق ایران کی جانب سے معاہدے کی اہم شقوں کی خلاف ورزی کی نشاندہی کرے تو اقوام متحدہ کی سابقہ پابندیاں دوبارہ نافذ کی جاسکیں۔
روس اور چین کی جانب سے قرارداد کو ویٹو کیے جانے کے بعد ایران پر اقوام متحدہ کی پابندیوں کی نگرانی کے مستقبل اور سلامتی کونسل میں ایران کے جوہری معاملے پر پہلے سے موجود اختلافات مزید نمایاں ہوگئے ہیں۔
