آل راؤنڈرعرفات منہاس نے اہم اعزاز حاصل کرلیا
عرفات منہاس کی آل راؤنڈ کارکردگی، 59 رنز کے بعد 6 وکٹیں حاصل کرکے منفرد اعزاز اپنے نام کرلیا
راولپنڈی (نیوز پلس) راولپنڈی میں سہ ملکی ون ڈے سیریز کے دوسرے میچ میں پاکستان نے انگلینڈ کو 87 رنز سے شکست دے دی، جبکہ قومی ٹیم کے نوجوان آل راؤنڈر عرفات منہاس نے شاندار آل راؤنڈ کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نہ صرف پاکستان کی فتح میں کلیدی کردار ادا کیا بلکہ ون ڈے انٹرنیشنل کرکٹ میں ایک منفرد اعزاز بھی اپنے نام کرلیا۔
عرفات منہاس نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے مشکل صورت حال میں ذمہ دارانہ انداز اپنایا اور 59 رنز کی اہم اننگز کھیلی، جس کے بعد بولنگ میں بھی اپنی صلاحیتوں کا بھرپور مظاہرہ کرتے ہوئے 40 رنز کے عوض 6 انگلش کھلاڑیوں کو پویلین کی راہ دکھائی۔ ان کی اس غیر معمولی کارکردگی نے پاکستان کو میچ میں فیصلہ کن برتری دلانے میں اہم کردار ادا کیا۔

راولپنڈی میں کھیلے گئے میچ میں انگلینڈ نے ٹاس جیت کر پہلے بولنگ کرنے کا فیصلہ کیا۔ پاکستان نے مقررہ 50 اوورز میں 9 وکٹوں کے نقصان پر 302 رنز بنائے اور انگلینڈ کو جیت کے لیے 303 رنز کا ہدف دیا۔ جواب میں انگلش ٹیم پاکستانی بولرز کے سامنے زیادہ دیر مزاحمت نہ کرسکی اور 39ویں اوور میں 215 رنز بناکر آل آؤٹ ہوگئی۔ اس طرح پاکستان نے میچ 87 رنز سے جیت لیا۔
پاکستان کی جانب سے عرفات منہاس نے بیٹنگ اور بولنگ دونوں شعبوں میں اپنی افادیت ثابت کی۔ بیٹنگ کے دوران ان کی 59 رنز کی اننگز نے ٹیم کے مجموعے کو مستحکم کرنے میں مدد دی، جبکہ بولنگ میں 6 وکٹیں حاصل کرکے انہوں نے انگلینڈ کی بیٹنگ لائن کو تہس نہس کردیا۔ ان کی کارکردگی اس لحاظ سے بھی نمایاں رہی کہ انہوں نے ایک ہی میچ میں بیٹنگ اور بولنگ دونوں کے ذریعے ٹیم کی کامیابی میں براہ راست حصہ ڈالا۔
اس شاندار کارکردگی کے ساتھ عرفات منہاس ون ڈے انٹرنیشنل کرکٹ کی تاریخ میں نصف سنچری بنانے اور اسی میچ میں پانچ یا اس سے زیادہ وکٹیں حاصل کرنے والے تیسرے پاکستانی کھلاڑی بن گئے ہیں۔ اس سے قبل سابق کپتان شاہد آفریدی اور سابق آل راؤنڈر عبدالرزاق یہ کارنامہ انجام دے چکے ہیں۔
شاہد آفریدی کو یہ اعزاز حاصل کرنے والے پہلے پاکستانی کھلاڑی ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ انہوں نے 2000 میں لاہور میں انگلینڈ کے خلاف ایک ون ڈے میچ میں 61 رنز بنانے کے ساتھ 40 رنز دے کر 5 وکٹیں حاصل کی تھیں۔ آفریدی نے اپنے ون ڈے کیریئر میں تین مرتبہ ایک ہی میچ میں نصف سنچری بنانے کے ساتھ پانچ یا اس سے زیادہ وکٹیں حاصل کیں، جو عالمی کرکٹ میں اس نوعیت کی سب سے زیادہ مرتبہ درج کی جانے والی کارکردگی ہے۔
سابق پاکستانی آل راؤنڈر عبدالرزاق نے بھی 2000 میں بھارت کے خلاف ایک ون ڈے میچ میں 70 رنز کی اننگز کھیلنے کے ساتھ 5 وکٹیں حاصل کرکے یہ اعزاز اپنے نام کیا تھا۔ ان دونوں سابق کھلاڑیوں کے بعد عرفات منہاس کا اس فہرست میں شامل ہونا پاکستان کی آل راؤنڈ کرکٹ کی روایت میں ایک اہم اضافہ ہے۔
عرفات منہاس کی کارکردگی نے ایک مرتبہ پھر اس حقیقت کو اجاگر کیا ہے کہ محدود اوورز کی کرکٹ میں ایسے کھلاڑی کتنے اہم ہوتے ہیں جو بیٹنگ کے ذریعے بڑا مجموعہ بنانے میں مدد دینے کے ساتھ بولنگ میں بھی حریف ٹیم کے لیے مشکلات پیدا کرسکیں۔ انگلینڈ کے خلاف ان کی نصف سنچری اور چھ وکٹوں نے پاکستان کی فتح میں بنیادی کردار ادا کیا اور انہیں میچ کی نمایاں کارکردگیوں میں شامل کردیا۔
پاکستان کی اس کامیابی سے سہ ملکی سیریز میں قومی ٹیم کے اعتماد کو بھی تقویت ملی ہے، جبکہ عرفات منہاس نے اپنی آل راؤنڈ صلاحیتوں کا اظہار کرکے ون ڈے کرکٹ میں ایک یادگار کارکردگی ریکارڈ کرائی ہے۔
