جوابی کاروائی ہمارا حق ہے بھارت نے تحقیقات کی پیشکش نہ مان کر جارحیت کا راستہ اختیار کیا ، ترجمان دفتر خارجہ
بھارتی جنگی جنون سے خطے کا امن خطرے میں ہے ، ترجمان
اسلام آباد: ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان کی جانب بھارت کو تحقیقات کی پیشکش نہ مان کر جارحیت کا راستہ اختیار کیا جس پر جوابی کرنا پاکستان کا حق ہے۔
اسلام آباد میں پریس بریفنگ کے دوران ترجمان دفتر خارجہ شفقت علی خان نے کہا کہ پاکستان نے پہلگام پر حملہ نہیں کیا لیکن بھارت نے پاکستان پر حملہ کردیا۔ کیا محض سوشل میڈیا پوسٹس کی بنیاد پر کسی ملک کو دوسرے ملک پر حملے کی اجازت دی جاتی ہے؟ پاکستان اپنے دفاع میں تمام اقدامات کا حق رکھتا ہے۔
ترجمان دفترخارجہ نے کہا کہ بھارت نے پاکستان کی سالمیت کو چیلنج کیا، پاکستان بھارت کی جارحیت کی مذمت کرتاہے، بھارت نے بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزیاں کیں، بھارتی جنگی جنون سے خطے کا امن خطرے میں ہے۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ بھارت کی جانب سے پاکستان کے متعدد شہروں میں ڈرون حملے کیے گئے ۔کیا کوئی ملک کسی بھی ملک کو شوشل میڈیا بیانات کے اوپر کسی ملک پر حملہ کرنے کی اجازت دیتا ہے ؟۔ ہم دنیا سے مطالبہ کرتے ہیں کہ بھارت کو اس معاملے پر جواب دہ ٹھہرائے۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی مذمت کرتے ہیں۔ بھارت یکطرفہ سندھ طاس معاہدے کو معطل نہیں کر سکتا۔ ہم بھارت کے سیکرٹری خارجہ کے بیانات کو بھی مسترد کرتے ہیں۔
دفتر خارجہ کے ترجمان شفقت علی خان کا کہنا تھا کہ پاکستان اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق بھارتی جارحیت کے خلاف جوابی کارروائی کا حق رکھتا ہے ۔ وزیر اعظم نے مکمل انکوائری کا کہا لیکن بھارت نے جارحیت کا راستہ لیا ۔ ممبئی اور پٹھان کوٹ کی تحقیقات بھارت کی وجہ سے نہیں کی جا سکیں۔ کلبھوشن یادیو بھارت کی انتہا پسندی کی مثال ہے ۔ ہندو انتہا پسندی میں 40 پاکستانی شہید ہوئے ۔
ان کا کہنا تھا کہ بھارت کا دہشتگردوں کے انفراسٹر کچر کوتباہ کرنے کا دعویٰ جھوٹاہے، بھارت نےحملوں میں معصوم بچوں اورخواتین کونشانہ بنایا، بھارت کا دوسرے ممالک میں قاتل اسکواڈ کا سب کو علم ہے۔ سندھ طاس معاہدہ معطل کرنا ثبوت ہے کہ بھارت عالمی معاہدوں کو اہمیت نہیں دیتا۔
شفقت علی خان نے کہا کہ ممبئی حملوں اور پٹھان کوٹ مقدمے کا فیصلہ بھارت کےباعث مکمل نہیں ہوسکا، سمجھوتہ ایکسپریس میں 40پاکستانیوں کے قاتلوں کو انصاف کے کہٹرے میں نہیں لایا گیا، بھارت کو اس کے جرائم پرذمہ دار ٹھہرائے جانے کا مطالبہ کرتے ہیں، بھارت دہشتگردی کا شکار ہونے کا ڈرامہ کررہا ہے۔ بھارت مسلسل چھوٹے ہمسایہ ممالک کو دیوار سے لگانے کی کوشش میں مصروف ہے۔
