Newspulse - نیوز پلس
پاکستان، سیاست، کھیل، بزنس، تفریح، تعلیم، صحت، طرز زندگی ... کے بارے میں تازہ ترین خبریں

پاکستان کی خارجہ پالیسی خودمختار مساوات، عدم مداخلت، حق خودارادیت اور تنازعات کے پرامن حل کے اصولوں پر مبنی ہے، اسحاق ڈار

پاکستان کی خارجہ پالیسی خودمختار مساوات، عدم مداخلت، حق خودارادیت اور تنازعات کے پرامن حل کے اصولوں پر مبنی ہے، اسحاق ڈار

پاکستان اپنے بانی قائداعظم محمد علی جناح کے وژن کی روشنی میں اقوام متحدہ کے چارٹر کے اصولوں اور مقاصد سے وابستہ ہے ، نائب وزیراعظم

اسلام آباد: (نیوز پلس) نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نےتمام انسانوں کے لیے امن، ترقی اور انسانی وقار کو یقینی بنانے کےلیےپاکستان کےکثیرالجہتی تعاون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے اس وژن سے اپنی دیرینہ وابستگی کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی خودمختار مساوات، عدم مداخلت، حق خودارادیت اور تنازعات کے پرامن حل کے اصولوں پر مبنی ہے، ہم نے ہمیشہ تصادم کے بجائے سفارت کاری، تنہائی کے بجائے روابط اور تقسیم کے بجائے شراکت داری کو ترجیح دی ہے۔

پاکستان - اقوام متحدہ

ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو اقوام متحدہ کے دن کی مناسبت سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ اس تقریب میں شرکت کرنا میرے لیے باعث اعزاز ہے، یہ دن اقوام متحدہ کے چارٹر کے نفاذ کی 81 ویں سالگرہ کی مناسبت سے منایا جا رہا ہے، اس تقریب کے انعقاد اور پاکستان کے ساتھ مسلسل شراکت داری پر اقوام متحدہ کی ریذیڈنٹ کوآرڈینیٹر اور اقوام متحدہ کی کنٹری ٹیم کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔

انہوں نے کہا کہ مجھے گزشتہ سال بھی اقوام متحدہ کے قیام کی 80 ویں سالگرہ کی تقریب میں شرکت کا موقع ملا تھا اور میں خوش قسمت ہوں کہ اس سال بھی آپ سب اور اقوام متحدہ کی ٹیم کے ساتھ اس کی 81 ویں سالگرہ منا رہا ہوں۔

ان کا کہنا تھا کہ اس سال کی تقریب پاکستان کے لیے خصوصی اہمیت کی حامل ہے، رواں ماہ کے آغاز میں ہمیں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کی میزبانی کا اعزاز حاصل ہوا جنہوں نے 6 سے 8 اکتوبر تک پاکستان کا دورہ کیا، ان کا یہ دورہ ایسے وقت میں ہوا جب دنیا کو گہرے عالمی چیلنجز کا سامنا ہے، یہ دورہ اقوام متحدہ کے چارٹر سے ہماری مشترکہ وابستگی کی بھی توثیق کرتا ہے۔نائب وزیراعظم نے کہا کہ آج دنیا کو بڑھتے ہوئے تنازعات،  بڑھتی  ہوئی معاشی ناہمواری اور کمزور ہوتےہوئے باہمی اعتماد کا سامنا ہے، مسلح تنازعات بے پناہ انسانی مصائب کا سبب بن رہے ہیں، جغرافیائی و سیاسی رقابتیں شدت اختیار کر رہی ہیں جبکہ غذائی عدم تحفظ اور موسمیاتی تبدیلی عالمی جنوب کے ممالک کی ترقی کو متاثر کر رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر اور فلسطین سمیت دیرینہ تنازعات ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ حق خودارادیت اور انصاف کے وعدے اب بھی لاکھوں افراد کے لیے پورے نہیں ہوئے، اقوام متحدہ کے چارٹر میں تمام انسانوں کے لیے معیار زندگی بہتر بنانے کا وعدہ کیا گیا تھا، لیکن عالمی مالیاتی اور تجارتی نظام کی خامیاں عالمی جنوب کے ممالک کی ترقی میں رکاوٹ بن رہی ہیں اور ان کے قرضوں میں اضافے کا باعث بن رہی ہیں۔کثیرالجہتی تعاون کی وہ روح جو 1945ء سے دنیا کی رہنمائی کرتی آ رہی ہے، بڑھتے ہوئے دبائو کا شکار ہے، جب عالمی تعاون کمزور پڑتا ہے تو امن اور ترقی کے امکانات بھی محدود ہو جاتے ہیں۔

پاکستان - اقوام متحدہ

انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنے بانی قائداعظم محمد علی جناح کے وژن کی روشنی میں اقوام متحدہ کے چارٹر کے اصولوں اور مقاصد سے وابستہ ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی خودمختار مساوات، عدم مداخلت، حق خودارادیت اور تنازعات کے پرامن حل کے اصولوں پر مبنی ہے، ہم نے ہمیشہ تصادم کے بجائے سفارت کاری، تنہائی کے بجائے روابط اور تقسیم کے بجائے شراکت داری کو ترجیح دی ہے، ہم ایسے کثیرالجہتی نظام پر یقین رکھتے ہیں جو جامع، نمائندہ اور اصلاح شدہ ہو، ترقی پذیر ممالک کو ان فیصلوں میں زیادہ موثر آواز ملنی چاہیے جو ان پر اثرانداز ہوتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ستمبر 1947ء میں اقوام متحدہ میں شمولیت کے بعد سے پاکستان اس ادارے کے کاموں کا مستقل اور پرعزم حامی رہا ہے، بین الاقوامی امن مشنز، انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد، ترقیاتی تعاون اور بین الاقوامی قانون کے فروغ میں ہماری خدمات اس عزم کی عکاسی کرتی ہیں۔پاکستان اقوام متحدہ کے امن مشنز میں فوجی دستے فراہم کرنے والے نمایاں ممالک میں شامل ہے اور اقوام متحدہ کے قدیم ترین امن مشنز میں سے ایک اقوام متحدہ کے فوجی مبصر گروپ برائے بھارت و پاکستان کی میزبانی بھی کرتا ہے۔ہمارے خطے کو درپیش چیلنجز کے پیش نظر ضروری ہے کہ جموں و کشمیر کے تنازعے کے منصفانہ اور پرامن حل کے ساتھ ساتھ اقوام متحدہ کے فوجی مبصر گروپ برائے بھارت و پاکستان کے کردار کو مزید مضبوط بنایا جائے، یہ حل اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق ہونا چاہیے۔

سینیٹر اسحاق ڈار نے کہا کہ جموں و کشمیر کا تنازع اقوام متحدہ کے نامکمل ایجنڈے کا حصہ ہے، کشمیری عوام کے حق خودارادیت کو فراموش نہیں کیا جانا چاہیے اور نہ ہی اسے جغرافیائی و سیاسی مفادات کے تابع کیا جانا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اس وقت اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا منتخب رکن ہے، اس مدت کے دوران ہم نے بین الاقوامی امن و سلامتی کے لیے اہم کردار ادا کیا ہے جس میں بالخصوص مکالمے، سفارت کاری اور تنازعات کے پرامن حل پر زور دیا گیا ہے۔گزشتہ سال اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی صدارت کے دوران تنازعات کے پرامن حل کے طریقہ کار کو مضبوط بنانے سے متعلق سلامتی کونسل کی قرارداد 2708 کی متفقہ منظوری پاکستان کے اسی نقطہ نظر کی عکاسی کرتی ہے۔انہوں نے کہا کہ امن و سلامتی کو ترقی سے الگ نہیں کیا جا سکتا، پائیدار ترقی کا ایجنڈا 2030 غربت کے خاتمے اور عدم مساوات میں کمی کے لیے عالمی عزم کا تعین کرتا ہے تاہم اس حوالے سے پیش رفت اب بھی غیر مساوی ہے۔پاکستان ایک منصفانہ مالیاتی نظام کا بھی مطالبہ کرتا ہے جو مالی وسائل کی دستیابی میں اضافہ کرے، قرضوں کے پائیدار انتظام میں معاونت فراہم کرے اور ترقی پذیر ممالک کو اپنے عوام پر سرمایہ کاری کے مواقع دے۔

نائب وزیراعظم  نے کہا کہ پاکستان اقوام متحدہ کے 80 ویں سالگرہ کے موقع پر گزشتہ سال شروع کیے گئے یو این 80 اقدام کی حمایت کرتا ہے جس کا مقصد اقوام متحدہ کو زیادہ موثر اور عوامی ضروریات کے حوالے سے زیادہ جوابدہ بنانا ہے تاہم عالمی عدم استحکام میں اضافے کے اس دور میں بین الاقوامی امن و سلامتی برقرار رکھنے کا اقوام متحدہ کا بنیادی فریضہ اولین اہمیت کا حامل رہنا چاہیے۔اسی طرح ترقی پذیر ممالک کے خصوصاً پائیدار ترقی کے ایجنڈا 2030 کے اہداف کے حصول کے حوالے سے ترجیحات اور بنیادی مفادات کو مرکزی اہمیت دی جانی چاہیے۔ انہوں نے پاکستان میں اقوام متحدہ کے مختلف اداروں کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ صحت، تعلیم، غذائی تحفظ، آفات سے نمٹنے اور ادارہ جاتی ترقی سمیت مختلف شعبوں میں ان کی کاوشیں ظاہر کرتی ہیں کہ کثیرالجہتی تعاون لوگوں کی زندگیوں میں حقیقی اور نمایاں تبدیلی لا سکتا ہے، ہم نے ابھی ایک دستاویزی فلم دیکھی ہے جس میں ان تمام سرگرمیوں اور خدمات کی وضاحت کی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کثیرالجہتی تعاون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے اس وژن سے اپنی دیرینہ وابستگی کا اعادہ کرتا ہے جس کا مقصد تمام انسانوں کے لیے امن، ترقی اور انسانی وقار کو یقینی بنانا ہے۔ریذیڈنٹ کوآرڈینیٹر اقوام متحدہ پرنیلا آئرن سائیڈ نے اپنے خطاب میں اقوام متحدہ میں پاکستان کی علاقائی و عالمی امن وسلامتی اورترقی کے لیے کردار کو سراہا۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.

Security Question:14 − 7 = ?

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More