کوہاٹ: پولیس لائنز کے قریب خودکش حملہ، 21 افراد شہید، 103زخمی، 7 دہشت گرد ہلاک

کوہاٹ: پولیس لائنز کے قریب خودکش حملہ، 21 افراد شہید،  103زخمی، 7 دہشت گرد ہلاک

کوہاٹ: بارود سے بھری گاڑی پولیس لائنز کے گیٹ سے ٹکرا دی گئی، دوسرا خودکش حملہ آور اسپیشل برانچ کے قریب دھماکے سے ہلاک، 15 پولیس اہلکار اور 6 شہری شہید، 103 زخمی اسپتال منتقل، 5 مریضوں کی لیپروٹومی، 4 زخمی پشاور ریفر، پولیس اور سی ٹی ڈی کی کارروائی میں 7 دہشت گرد مارے گئے

کوہاٹ: خیبر پختونخوا کے ضلع کوہاٹ میں پرانی پولیس لائنز کے قریب خودکش حملے اور دہشت گردوں کے خلاف فائرنگ کے تبادلے میں 15 پولیس اہلکاروں سمیت 21 افراد شہید جبکہ متعدد افراد زخمی ہوگئے، جبکہ پولیس اور کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کی کارروائی میں 7 دہشت گرد بھی مارے گئے۔ حملہ جمعے کی نماز کے دوران کیا گیا جس کے باعث پولیس لائنز کے اندر موجود مسجد اور اطراف کی عمارتوں کو شدید نقصان پہنچا۔

خیبر پختونخوا کے انسپکٹر جنرل پولیس ذوالفقار حمید کے مطابق دہشت گردوں نے کوہاٹ کی پرانی پولیس لائنز کو نشانہ بنایا۔ ابتدائی طور پر بارود سے بھری ایک گاڑی پولیس لائنز کے گیٹ سے ٹکرائی گئی، جس کے نتیجے میں زوردار دھماکا ہوا۔ دھماکے کے بعد ایک اور خودکش حملہ آور نے اسپیشل برانچ کی عمارت کے قریب خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔

آئی جی پولیس کے مطابق حملے میں 15 پولیس اہلکار اور 6 شہری شہید ہوئے۔ دھماکے کے بعد 7 مسلح دہشت گرد پولیس لائنز کے احاطے میں داخل ہونے کی کوشش میں آگے بڑھے، تاہم پولیس اور سی ٹی ڈی اہلکاروں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے دہشت گردوں کا مقابلہ کیا۔

پولیس حکام کے مطابق فائرنگ کے تبادلے کے دوران ابتدائی طور پر دہشت گردوں کے ایک سنائپر کو ہلاک کیا گیا۔ بعد ازاں پولیس اور سی ٹی ڈی نے مشترکہ کارروائی جاری رکھتے ہوئے تمام حملہ آوروں کو ہلاک کردیا۔ آئی جی خیبر پختونخوا کے مطابق خودکش حملہ آوروں سمیت مجموعی طور پر 7 دہشت گرد مارے گئے اور پولیس لائنز میں کلیئرنس آپریشن مکمل کرلیا گیا۔

حکام کے مطابق دھماکے اور فائرنگ کے نتیجے میں 103 زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا گیا۔ ان میں سے 34 زخمی تاحال زیر علاج ہیں، جبکہ 5 شدید زخمیوں کی لیپروٹومی کی گئی۔ تشویشناک حالت میں موجود 4 زخمیوں کو مزید علاج کے لیے پشاور منتقل کردیا گیا۔

دھماکے کے فوراً بعد کوہاٹ کے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹرز اسپتال میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی اور ڈاکٹرز، نرسنگ اسٹاف اور دیگر طبی عملے کو فوری طور پر طلب کیا گیا۔ زخمیوں میں پولیس اہلکاروں کے علاوہ شہری بھی شامل ہیں۔

ریسکیو 1122 کے مطابق اطلاع ملتے ہی امدادی ٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں۔ امدادی کارروائیوں میں 14 ایمبولینسز، ریسکیو اور ریکوری گاڑیوں سمیت 40 سے زائد اہلکاروں نے حصہ لیا۔ ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر نور الامین نے ریسکیو آپریشن کی نگرانی کی، جبکہ زخمیوں کو فوری طور پر ڈی ایچ کیو اسپتال منتقل کیا گیا۔

دھماکے کے باعث پولیس لائنز کے اطراف میں ملبہ پھیل گیا جبکہ مسجد کے بیرونی حصے اور قریبی عمارتوں کو بھی نقصان پہنچا۔ پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے کر آمدورفت محدود کردی۔ کوہاٹ ہنگو روڈ کو ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کردیا گیا اور شہریوں کو متبادل راستے اختیار کرنے کی ہدایت کی گئی۔

پولیس حکام کے مطابق حملے کے بعد علاقے میں سرچ اور کلیئرنس کارروائی مکمل کرلی گئی ہے جبکہ سیکیورٹی مزید سخت کردی گئی ہے۔ پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے میں شواہد بھی اکٹھے کیے۔

آئی جی خیبر پختونخوا ذوالفقار حمید نے کہا کہ خیبر پختونخوا پولیس دہشت گردی کے خلاف آہنی دیوار بن کر کھڑی ہے اور اس طرح کے بزدلانہ حملے پولیس کے عزم اور حوصلے کو متزلزل نہیں کرسکتے۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی۔

صدر مملکت آصف علی زرداری نے کوہاٹ دھماکے کی شدید مذمت کرتے ہوئے قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ فتنہ الخوارج اور بیرونی پشت پناہی میں سرگرم دہشت گردوں کا مکمل خاتمہ قومی سلامتی کے لیے ناگزیر ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے بھی کوہاٹ کی پرانی پولیس لائنز میں ہونے والے دھماکے کی شدید مذمت کی اور شہید ہونے والے افراد کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ وزیراعظم نے زخمیوں کو فوری اور بہترین طبی امداد فراہم کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے ان کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی۔

وزیراعظم نے متعلقہ حکام سے دھماکے کی نوعیت اور وجوہات کے بارے میں رپورٹ بھی طلب کرلی اور امدادی کارروائیوں کو تیز کرنے کی ہدایت کی۔

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے بھی کوہاٹ اولڈ پولیس لائنز میں دھماکے کا نوٹس لیتے ہوئے پولیس حکام سے واقعے کی رپورٹ طلب کی۔ انہوں نے واقعے کو انتہائی افسوسناک اور ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے ہدایت کی کہ زخمیوں کو فوری طبی امداد کی فراہمی کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں۔

وزیراعلیٰ نے ہسپتالوں میں زخمیوں کے فوری علاج اور ضروری طبی سہولیات کی دستیابی یقینی بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ شدید زخمیوں کو ضرورت کے مطابق دیگر اسپتالوں میں منتقل کرنے کے انتظامات بھی کیے جائیں۔

کوہاٹ میں ہونے والا یہ حملہ ایک ایسے وقت میں پیش آیا جب پولیس لائنز میں جمعے کی نماز کے لیے بڑی تعداد میں پولیس اہلکار اور دیگر افراد موجود تھے۔ حملے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سیکیورٹی اقدامات مزید سخت کردیے، جبکہ واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔

کوہاٹ - پولیس لائنز
Comments (0)
Add Comment