پاکستان نے متحدہ عرب امارات کا قرض مکمل طور پر ادا کر دیا
اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے ابوظبی فنڈ کو مکمل ادائیگی کر دی
پاکستان نے مالیاتی ذمہ داریوں کی ادائیگی کے حوالے سے ایک اہم سنگِ میل عبور کر لیا ہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے تصدیق کی ہے کہ پاکستان نے متحدہ عرب امارات کا تمام قرض مکمل طور پر ادا کر دیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق، حالیہ مرحلے میں ایک ارب ڈالر کی آخری قسط ابوظبی فنڈ کو ادا کی گئی، جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان واجب الادا تمام مالی ذمہ داریاں ختم ہو گئی ہیں۔ اس سے قبل بھی پاکستان گزشتہ ہفتے کے دوران 2.45 ارب ڈالر کی بڑی رقم واپس کر چکا تھا، یوں مجموعی طور پر 3.45 ارب ڈالر کے تمام ڈپازٹس مکمل طور پر ادا کر دیے گئے ہیں۔
اسٹیٹ بینک کے مطابق یہ ادائیگی پاکستان کی معیشت کے لیے ایک مثبت پیش رفت ہے، کیونکہ اس سے ملک کی مالی ساکھ میں بہتری آئے گی اور عالمی سطح پر اعتماد میں اضافہ ہوگا۔ اس کامیابی کو پاکستان کی اقتصادی نظم و ضبط اور قرضوں کی بروقت ادائیگی کے عزم کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
پس منظر کے طور پر، پاکستان نے 2018 میں متحدہ عرب امارات سے 2 ارب ڈالر کے ڈپازٹس حاصل کیے تھے تاکہ زرمبادلہ کے ذخائر کو سہارا دیا جا سکے۔ بعد ازاں 2023 میں مزید ایک ارب ڈالر کی مالی مدد حاصل کی گئی تھی۔ اس کے علاوہ تقریباً 45 کروڑ ڈالر کا ایک پرانا قرض بھی شامل تھا، جو تقریباً 30 سال قبل لیا گیا تھا۔
ماہرین کے مطابق اس قرض کی مکمل ادائیگی سے پاکستان کو مستقبل میں بین الاقوامی مالیاتی اداروں اور دوست ممالک سے مزید بہتر شرائط پر تعاون حاصل کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔