پاکستان نے اسلامی دنیا کو خود انحصاری اور اتحاد کا راستہ دکھایا، وزیر دفاع

پاکستان نے اسلامی دنیا کو خود انحصاری اور اتحاد کا راستہ دکھایا، وزیر دفاع

فیلڈ مارشل کی قیادت میں سفارتی کامیابیوں کا سلسلہ جاری ہے، پاکستان نے اسلامی دنیا کو نئی راہ دکھائی، بیرونی فوجی اڈے کسی ملک کے حقیقی محافظ نہیں ہوتے۔

معرکہ حق میں پانچ گنا بڑے دشمن کو شکست دی، جنگ میں کسی قسم کا ابہام باقی نہیں رہا، شہدا نے اپنے خون سے وطن کا دفاع کیا، پاکستان کو عالمی اور سفارتی سطح پر نمایاں مقام حاصل ہوا، سمندر پار فوجی اڈے کسی ملک کی حفاظت نہیں بلکہ اسرائیل کے مفادات کے لیے بنائے گئے، وزیر دفاع کا سیالکوٹ میں تقریب سے خطاب

سیالکوٹ: وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ پاکستان نے معرکہ حق میں اپنے سے پانچ گنا بڑے دشمن کو شکست دے کر دنیا کو اپنی دفاعی صلاحیت اور قومی عزم کا عملی مظاہرہ دکھایا، بھارت کے ساتھ ہونے والی اس جنگ میں ماضی کی جنگوں کے برعکس کوئی ابہام باقی نہیں رہا بلکہ بھارت کی حکومت، فوج اور میڈیا نے بھی اپنی شکست تسلیم کی، جو پاکستان کے لیے ایک بڑا اعزاز ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنگ میں حاصل ہونے والی کامیابی کے بعد پاکستان کو عالمی سطح پر پذیرائی اور سفارتی میدان میں ایک نمایاں مقام حاصل ہوا ہے۔

سیالکوٹ میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر دفاع نے کہا کہ پاکستان کی سلامتی اور خودمختاری کے تحفظ کے لیے افواج پاکستان اور شہدا نے اپنے خون کا نذرانہ پیش کیا۔ قوم اپنے شہدا کی قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کرسکتی۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے نہ صرف میدان جنگ میں اپنے سے کئی گنا بڑے دشمن کا مقابلہ کیا بلکہ اس کامیابی کے ذریعے عالمی برادری کے سامنے اپنی دفاعی قوت اور قومی اتحاد کا بھی اظہار کیا۔

خواجہ آصف نے کہا کہ ماضی میں بھی پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگیں ہوئیں، تاہم ہر مرتبہ کسی نہ کسی حوالے سے ابہام یا مختلف دعوے سامنے آتے رہے، لیکن اس مرتبہ صورتحال مختلف تھی۔ ان کے بقول بھارت نے خود اپنی شکست تسلیم کی اور اس کی فوج نے بھی اس حوالے سے اعتراف کیا۔ انہوں نے امریکی صدر کے بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ امریکی صدر متعدد مرتبہ اس جنگ اور طیاروں کی تعداد کے حوالے سے بات کرچکے ہیں اور کئی بار طیارے گرائے جانے کا ذکر کرچکے ہیں۔

وزیر دفاع نے کہا کہ فیلڈ مارشل کی قیادت میں پاکستان کی سفارتی کامیابیوں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ پاکستان نے اسلامی دنیا کے ممالک کو یہ پیغام دیا ہے کہ کسی دوسرے ملک میں قائم بیرون ملک فوجی اڈے لازماً میزبان ملک کی سلامتی کے تحفظ کے لیے نہیں ہوتے بلکہ ان کے پیچھے بڑی طاقتوں کے اپنے تزویراتی اور علاقائی مفادات بھی کارفرما ہوسکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بعض اسلامی ممالک کو یہ غلط فہمی تھی کہ بیرونی فوجی اڈے ان کی حفاظت کے لیے بنائے گئے ہیں، حالانکہ پاکستان کے نزدیک ان اڈوں کا بنیادی مقصد اسرائیل کے تحفظ اور مخصوص مفادات کا دفاع ہے۔

خواجہ آصف نے کہا کہ کسی بھی ملک کی حقیقی حفاظت بیرونی طاقتوں کے اڈوں کے بجائے اپنی دفاعی صلاحیت، قومی اتحاد اور اپنے وسائل پر انحصار کرنے سے ممکن ہوتی ہے۔ پاکستان نے اپنے عزم اور صلاحیت سے ثابت کیا ہے کہ ایک قوم متحد ہو تو بڑے سے بڑے دشمن کا مقابلہ کرسکتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان نے ایران اور اس کے عرب بھائیوں کے درمیان اختلافات دور کرنے اور اسلامی دنیا میں مفاہمت و تعاون کے فروغ کے لیے بھی کردار ادا کیا ہے۔

اپنی سیاسی زندگی کا ذکر کرتے ہوئے وزیر دفاع نے کہا کہ انہوں نے 1991 میں سیاست میں قدم رکھا اور گزشتہ 36 برس سے عوام کی نمائندگی اور ملک کی خدمت کررہے ہیں۔ سیالکوٹ ان کی پہچان ہے اور اس شہر کے عوام کی بہتری اور ترقی ان کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل سیاسی سفر کے دوران کئی مرتبہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ تھک چکے ہیں، تاہم سیاسی زندگی کے نشیب و فراز اور عوام سے وابستگی انہیں اپنا کام جاری رکھنے کا حوصلہ دیتی ہے۔

خواجہ آصف نے کہا کہ چند روز قبل قومی اسمبلی میں مولانا فضل الرحمان سے ملاقات ہوئی اور ان کے ایک بیان پر ردعمل دینے کے بعد انہیں محسوس ہوا کہ ان میں ابھی سیاسی جدوجہد کے لیے دم خم موجود ہے۔ انہوں نے اپنی سیاسی زندگی کے مختلف ادوار کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے مشرف دور میں اٹک قلعہ میں قید کاٹی، جہاں انہیں ایک چھوٹے سے کمرے میں رکھا گیا۔ اس کے علاوہ انہیں مختلف سیاسی ادوار میں بھی جیل جانا پڑا۔

وزیر دفاع کے مطابق 2020 میں پاکستان تحریک انصاف کے دور حکومت میں انہیں نیب کے تحت تقریباً چھ ماہ تک قید میں رکھا گیا، تاہم اس دوران نیب کے حکام انہیں یہ بتانے سے بھی قاصر رہے کہ ان کے خلاف اصل الزام یا چارج کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ دوران حراست نیب کے نمائندوں سے بار بار پوچھتے رہے کہ آخر ان کا جرم کیا ہے اور انہیں کس الزام کے تحت گرفتار کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سیاسی حکومتیں جب کسی کو انتقام کا نشانہ بنانا چاہتی ہیں تو بعض اوقات پہلے گرفتاری عمل میں لائی جاتی ہے اور بعد میں یہ سوچا جاتا ہے کہ اس کے خلاف کون سا الزام عائد کیا جائے۔ خواجہ آصف نے واضح کیا کہ سیاسی انتقام کسی صورت ملک اور جمہوری نظام کے مفاد میں نہیں ہوتا، سیاسی اختلافات کو ذاتی دشمنی اور انتقامی کارروائیوں میں تبدیل کرنے سے قومی اداروں اور سیاسی عمل کو نقصان پہنچتا ہے۔

وزیر دفاع نے اپنے خطاب میں ایک مرتبہ پھر اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کی اصل طاقت اس کے عوام، مسلح افواج اور شہدا کی قربانیاں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ معرکہ حق میں کامیابی نے پاکستان کو عالمی سطح پر ایک نئی شناخت دی ہے اور سفارتی میدان میں بھی ملک کی اہمیت میں اضافہ ہوا ہے۔ پاکستان نے یہ پیغام دیا ہے کہ قومی خودمختاری اور سلامتی کا تحفظ اپنی قوت، اتحاد اور عزم کے ذریعے ہی ممکن ہے۔

وزیر دفاع خواجہ آصف
Comments (0)
Add Comment