رانا تنویر کا قومی زرعی تحقیقاتی مرکز اسلام آباد میں ’ری جنریٹو ایگریکلچر‘ کے نمائشی بلاک کا افتتاح
وفاقی وزیر نے این اے آرسی کے زرعی انجینئرنگ انسٹی ٹیوٹ کی جانب سے تیار کردہ ایک پریزین پلانٹر کا معائنہ بھی کیا
وفاقی وزیر کا جدید زرعی طریقوں سے زمین کی زرخیزی، پانی کے تحفظ اور کسانوں کی آمدن میں اضافے پر توجہ، موسمیاتی تبدیلیوں سے ہم آہنگ کم لاگت ٹیکنالوجیز کے فروغ پر زور
اسلام آباد: (نمائندہ خصوصی) وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین نے قومی زرعی تحقیقاتی مرکز (این اے آر سی) اسلام آباد میں 10 ایکڑ پر مشتمل ریجنریٹو آرگینک ایگریکلچر ڈیموسٹریشن بلاک کا افتتاح کر دیا۔ اس اقدام کا مقصد جدید، کم لاگت اور موسمیاتی تبدیلیوں سے ہم آہنگ زرعی طریقوں کو فروغ دینا، فصلوں کی پیداوار میں اضافہ اور کسانوں کے منافع کو بہتر بنانا ہے۔
وفاقی وزیر نے یہ افتتاح خریف 2026 کی پیشرفت اور ربیع 2026-27 کے زرعی منصوبوں کا جائزہ لینے کے لیے این اے آر سی کے دورے کے دوران کیا۔ اس منصوبے کو پاکستان زرعی تحقیقاتی کونسل (پی اے آر سی) کے چیئرمین ڈاکٹر سید مرتضیٰ حسن اندرابی اور این اے آر سی کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر محمد منصور کی سربراہی میں عملی شکل دی گئی ہے۔
اس موقع پر رانا تنویر حسین نے پی اے آر سی کے سائنسدانوں کی کاوشوں اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ زرعی شعبے کو درپیش نئے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے جدید، مؤثر اور تحقیق پر مبنی طریقہ ہائے کاشت کو فروغ دینا ناگزیر ہے۔ انہوں نے زمین کی صحت بہتر بنانے، آبی وسائل کے مؤثر استعمال، پیداواری اخراجات میں کمی اور موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنے کے لیے عملی اقدامات کی اہمیت پر زور دیا۔
نمائشی بلاک میں ڈھائی ڈھائی ایکڑ پر مشتمل چار پلاٹ قائم کیے گئے ہیں، جہاں اناج، سبزیوں، تیل دار اجناس اور پھلیوں کی کاشت کے لیے مختلف جدید زرعی طریقوں کا عملی مظاہرہ کیا جائے گا۔ اس نظام میں حیاتیاتی بنیادوں پر تیار کردہ مرکزی خمیر بھی استعمال کیا جائے گا، جس کا مقصد مٹی کی زرخیزی اور فصلوں کی نشوونما کو بہتر بنانے میں معاونت فراہم کرنا ہے۔
دورے کے دوران این اے آر سی کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر محمد منصور نے وفاقی وزیر کو ریجنریٹو زراعت کے طریقوں اور ان کے ممکنہ فوائد کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی۔ انہوں نے بتایا کہ ان طریقوں کے ذریعے زمین کی صحت بحال کرنے، پانی کے تحفظ، فصلوں کی پیداواری صلاحیت بہتر بنانے اور خوراک کی پائیدار پیداوار کو فروغ دینے میں مدد مل سکتی ہے۔
وفاقی وزیر نے این اے آر سی کے زرعی انجینئرنگ انسٹی ٹیوٹ کے تیار کردہ پریزیشن پلانٹر کا بھی معائنہ کیا۔ اس موقع پر پی اے آر سی کے چیئرمین نے کسانوں کی ضروریات سے ہم آہنگ زرعی تحقیق کو عملی شکل دینے اور جدید ٹیکنالوجی کو کھیتوں تک پہنچانے کے لیے کونسل کے عزم کا اعادہ کیا۔
ریجنریٹو زراعت ایک ایسا طریقۂ کاشت ہے جس کا بنیادی مقصد مٹی کی زرخیزی اور ساخت کو بہتر بنانا، پانی جذب کرنے اور محفوظ رکھنے کی صلاحیت بڑھانا اور کیمیائی کھادوں و کیڑے مار ادویات پر انحصار بتدریج کم کرنا ہے۔ ان طریقوں سے مٹی میں کاربن ذخیرہ کرنے اور گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی کے امکانات بھی پیدا ہو سکتے ہیں، جس سے زرعی شعبے کے ماحولیاتی اثرات کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق، اگر مٹی میں کاربن کے ذخیرے کی قابلِ اعتماد پیمائش اور تصدیق کا نظام متعارف کرایا جائے تو کسانوں کو پیداواری اخراجات میں ممکنہ بچت کے علاوہ مستقبل میں کاربن مارکیٹوں سے فائدہ اٹھانے کے مواقع بھی مل سکتے ہیں۔
این اے آر سی میں قائم کیا گیا یہ ڈیموسٹریشن بلاک سائنسدانوں، زرعی توسیعی کارکنوں اور کسانوں کے لیے عملی تربیت اور تحقیق کی ایک اہم سہولت کے طور پر کام کرے گا۔ اس مرکز میں فصلوں کی پیداوار، پیداواری لاگت، زمین کی صحت اور گرین ہاؤس گیسوں کے توازن سے متعلق نتائج کا جائزہ لیا جائے گا، تاکہ مقامی زرعی حالات میں ان طریقوں کی افادیت کا سائنسی بنیادوں پر تعین کیا جا سکے۔
توقع ہے کہ اس اقدام سے پاکستان بھر میں موسمیاتی تبدیلیوں سے ہم آہنگ، وسائل کی بچت کرنے والے اور پائیدار زرعی طریقوں کے فروغ میں مدد ملے گی، جس سے غذائی تحفظ مضبوط بنانے، قدرتی وسائل کے تحفظ اور کسانوں کی آمدن بہتر کرنے کی کوششوں کو تقویت مل سکتی ہے۔