ٹرمپ کا آبنائے ہرمز کھولنے پر ایران کا شکریہ لیکن بحری ناکہ بندی جاری رکھنے کا اعلان
امریکا کے صدر Donald Trump نے ایک اہم پیش رفت پر ردِعمل دیتے ہوئے ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کھولنے کے اعلان کا خیرمقدم کیا ہے، تاہم ساتھ ہی ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی جاری رکھنے کا واضح اعلان بھی کیا ہے۔
صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم Truth Social پر جاری بیانات میں کہا کہ ایران نے باضابطہ طور پر آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کھول دیا ہے، جس کے بعد عالمی تجارت اور بحری آمد و رفت دوبارہ معمول کے مطابق بحال ہو سکتی ہے۔ انہوں نے اس اقدام پر ایران کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اسے ایک مثبت قدم قرار دیا۔
اپنے ایک اور بیان میں صدر ٹرمپ نے وضاحت کی کہ آبنائے ہرمز اب مکمل طور پر کھلی ہے اور تجارتی سرگرمیوں کے لیے تیار ہے، لیکن اس کے باوجود ایران کے خلاف امریکی بحری ناکہ بندی پوری شدت اور مؤثر انداز میں جاری رہے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ پابندیاں اس وقت تک برقرار رہیں گی جب تک امریکا اور ایران کے درمیان سو فیصد جامع معاہدہ طے نہیں پا جاتا۔
انہوں نے مزید کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات میں کافی پیش رفت ہو چکی ہے اور زیادہ تر نکات پہلے ہی طے پا چکے ہیں، لہٰذا معاہدہ جلد مکمل ہو جانا چاہیے۔
صدر ٹرمپ نے ایک اور اہم اعلان میں کہا کہ امریکا B-2 Spirit بمبار طیاروں کے ذریعے پیدا ہونے والی تمام نیوکلیئر دھول (nuclear dust) اپنے قبضے میں لے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس معاہدے میں کسی قسم کی مالی لین دین شامل نہیں ہوگی۔
انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ یہ معاہدہ لبنان کی صورتحال سے مشروط نہیں ہے، تاہم امریکا لبنان کے ساتھ علیحدہ طور پر کام کرے گا اور Hezbollah کے معاملے کو مناسب طریقے سے نمٹائے گا۔
صدر ٹرمپ کے مطابق امریکا نے اسرائیل کو لبنان پر مزید حملے کرنے سے روک دیا ہے اور اب اسرائیل مزید بمباری نہیں کرے گا۔ انہوں نے اس حوالے سے سخت موقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ “اب بہت ہو چکا ہے۔”
مزید برآں، صدر ٹرمپ نے NATO پر بھی تنقید کی اور کہا کہ جب آبنائے ہرمز کا معاملہ حل ہو گیا تو نیٹو نے امریکا سے رابطہ کر کے مدد کی پیشکش کی، تاہم انہوں نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ جب واقعی ضرورت تھی تو نیٹو مؤثر کردار ادا نہیں کر سکا اور محض “کاغذی شیر” ثابت ہوا۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ایران نے امریکا کے تعاون سے سمندر میں بچھائی گئی بارودی سرنگیں ہٹا دی ہیں یا ہٹا رہا ہے، جس سے بحری راستہ مزید محفوظ ہو جائے گا۔
بعد ازاں صدر ٹرمپ نے Saudi Arabia، United Arab Emirates اور Qatar کا ان کی حمایت اور مدد پر شکریہ ادا کیا۔
دوسری جانب ایران کے وزیر خارجہ Abbas Araghchi نے بھی سوشل میڈیا پر بیان جاری کرتے ہوئے تصدیق کی کہ لبنان میں جنگ بندی کے بعد آبنائے ہرمز کو تمام تجارتی بحری جہازوں کے لیے کھول دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ جنگ بندی کی مدت تک مؤثر رہے گا۔
ایرانی وزیر خارجہ کے مطابق بحری آمد و رفت ایک منظم اور مربوط راستے کے تحت ہوگی، جس کا اعلان پہلے ہی ایران کی پورٹس اینڈ میری ٹائم آرگنائزیشن کی جانب سے کیا جا چکا ہے، جو حکومتِ ایران کے تحت کام کرتی ہے۔
یوں خطے میں کشیدگی کے باوجود یہ پیش رفت عالمی تجارت اور توانائی کی سپلائی کے لیے ایک اہم مثبت اشارہ سمجھی جا رہی ہے، اگرچہ امریکا اور ایران کے درمیان مکمل معاہدہ ابھی باقی ہے۔