وزیراعظم کا مصنوعی ذہانت کے شعبے میں ایک ارب ڈالر سرمایہ کاری کا اعلان
نوجوانوں کو اے آئی کی تربیت دے کر زراعت ، صنعت ، تجارت سمیت ہر شعبے میں انقلاب برپا کیا جاسکتا ہے، وزیر اعظم شہباز شریف کا انڈس اے آئی ویک 2026 کی افتتاحی تقریب سے خطاب
اسلام آباد: وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے 2030ء تک مصنوعی ذہانت(اے آئی) کے شعبے میں ایک ارب ڈالر خرچ کرنے، اے آئی کا نصاب تیار کرنے، اے آئی میں پی ایچ ڈی کیلئے ایک ہزار وظائف دینے، آئی ٹی اور اے آئی کے حوالے سے استعداد میں اضافے کیلئے قومی سطح پر پروگرام شروع کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ نوجوانوں کی بڑی آبادی کو اے آئی کی تربیت دے کر زراعت ، صنعت ، تجارت سمیت ہر شعبے میں انقلاب برپا کیا جاسکتا ہے اور پاکستان اقوام علم میں نمایاں مقام پیدا کرسکتا ہے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کو یہاں انڈس اے آئی ویک 2026 کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر گورنر سندھ کے علاوہ احسن اقبال ، شزا فاطمہ خواجہ ، عطاء اللہ تارڑ سمیت وفاقی وزراء، دوست ممالک کے سفارتی و اعلیٰ سرکاری حکام بھی موجود تھے۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا کہ انڈس اے آئی ویک ایونٹ ملک کے ٹیکنالوجی کے منظرنامے کو بدل دے گا، یہ ایونٹ عالمی سطح پر پاکستان کو ایک مضبوط پارٹنر کے طور پر سامنے لائے گا۔
انہوں نے بتایا کہ بطور وزیراعلیٰ پنجاب سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف کی قیادت میں اور ان کے وژن کے تحت انہوں نے تعلیم، صحت، محصولات اور نوجوانوں کی ترقی کے لئے کئی اہم منصوبے شروع کئے، بطور وزیراعلیٰ پنجاب میں آئی ٹی کے شعبے پر خصوصی توجہ دی اورپانچ لاکھ ہونہار طلبہ کو لیپ ٹاپس دیئے، اس وقت پنجاب میں ای لائبریریز کا آغاز کیا جب کسی نے اس کا سوچا تک نہ تھا، لاہور میں پہلا سیف سٹی منصوبہ اور ملک کی پہلی آئی ٹی یونیورسٹی بھی اسی دور میں قائم کی گئی، پنجاب لینڈ ڈیجیٹلائزیشن پروگرام کے ذریعے اراضی کے ریکارڈ کی شفافیت کو یقینی بنایا گیا، لینڈ ریکارڈ میں اصلاحات سے کرپشن کا خاتمہ ممکن ہوا اور ریونیو افسران کی بدعنوانی کو ختم کیا گیا، ای اشٹام پیپرز کا اجراء کرکے آمدن میں اضافہ کیا۔
وزیر اعظم نے کہا کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی مکمل ڈیجیٹائزیشن سے محصولات کی وصولی میں شفافیت ممکن ہوئی، سمگلنگ کی روم تھام کے لئے جدید سکینرز اور آلات پورٹس پر نصب کئے گئے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی 24 کروڑ آبادی میں 60 فیصد نوجوان ہیں، انہیں جدید علم اور مہارتوں سے آراستہ کرنا وقت کی ضرورت ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان اب مصنوعی ذہانت کے شعبے میں عالمی سطح پر قدم رکھنے کے لئے تیار ہے، دیہی علاقوں تک پہنچے اور نوجوانوں کو جدید علم اور تکنیکی مہارتیں فراہم کیں۔
وزیر اعظم نے ایک ملین غیر آئی ٹی پروفیشنلرز کو اے آئی میں تربیت فراہم کرنے، 1000 مکمل فنڈ شدہ پی ایچ ڈی سکالرشپس اے آئی کے شعبے میں دینے اور وفاق کے علاوہ آزاد جموں و کشمیر ، گلگت بلتستان و بلوچستان کے پسماندہ علاقوں میں بھی اے آئی کی تعلیم و نصاب متعارف کرانے اور 2030ء تک اے آئی کے شعبے میں ایک ارب ڈالر سرمایہ کاری کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو زراعت، تجارت اور دیگر اقتصادی شعبوں میں جدید ٹیکنالوجی کی تربیت فراہم کرنے کی ضرورت ہے ، پاکستان عالمی شراکت داروں کے ساتھ مل کر ٹیکنالوجی کے مثبت اثرات اپنانے کے لئے پرعزم ہے، پاکستان ہر چیلنج کا مقابلہ کرے گا اور عالمی برادری میں اپنی جگہ بنائے گا، معیشت، صنعت، تجارت اور خواتین کے حقوق میں اے آئی کے ذریعے انقلاب متوقع ہے۔
انہوں نے کہا کہ صنعت ، زراعت، تجارت سمیت اے آئی کے ذریعے ترقی کا انقلاب برپا کیا جاسکتا ہے، ہم نے بہت سے اقدامات کیے ہیں لیکن ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے ، پاکستان اقوام عالم میں اپنا نام پیدا کرے گا ۔ وفاقی وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ نے انڈس اے آئی ویک 2026 سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ڈیجیٹل انقلاب کی طرف عزم کے ساتھ بڑھ رہا ہے، ڈیجیٹل نیشن پاکستان ایکٹ کے تحت قومی ڈیجیٹل روڈ میپ تیار کیا گیا، وزیر اعظم کی سربراہی میں نیشنل ڈیجیٹل کمیشن قائم کیا گیا، پاکستان ڈیجیٹل اتھارٹی ملک گیر ڈیجیٹل ماسٹر پلان بنا رہی ہے، ڈیٹا، سائبر سکیورٹی اور اے آئی کے لئے واضح گورننس فریم ورک تشکیل دیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی پہلی قومی اے آئی پالیسی ستمبر 2025ء میں متعارف کرائی گئی، 2026ء میں اے آئی پالیسی پر عملدرآمد کا آغاز کیا گیا، انڈس اے آئی ویک سے جامعات، سٹارٹ اپس اور عالمی کمپنیوں میں تعاون ممکن ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ ڈیجیٹل سکلز پروگرام سے بنیادی اے آئی مہارتیں فراہم کی جا رہی ہیں، عوامی خدمات کے شعبوں کو ڈیجیٹائز کیا جا رہا ہے، ٹیکس نظام میں اے آئی ٹریک اینڈ ٹریس سے شفافیت میں اضافہ ہوا۔ انہوں نے زور دیا کہ نجی شعبہ ڈیجیٹل تبدیلی کی قیادت کرے، پاکستان جدت، علم اور ترقی کا سفر جاری رکھے گا۔
وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال نے خطاب میں کہا کہ اے آئی آج کے دور کی سب سے بڑی ضرورت ہے، سابق وزیراعظم نواز شریف کی قیادت میں پاکستان کو ڈیجیٹل ترقی کی راہ پر گامزن کیا، سائنس، ٹیکنالوجی اور آئی ٹی کے شعبے میں بھرپور کام کیا، وژن 2025 کے تحت آئی ٹی کے شعبے پر خصوصی توجہ مرکوز کی گئی، ہم نے اپنے سابق ادوار میں تھری جی اور فور جی لائسنس جاری کئے۔ وژن 2025 کے تحت پاکستان کو چوتھے صنعتی انقلاب کے لئے تیار کیا گیا،
آئی ٹی، اے آئی اور اس سے منسلک دیگر شعبہ جات کے سینٹرز قائم کئے گئے، سائبر سکیورٹی کا نیشنل سینٹر قائم کیا گیا، ان سینٹرز کے قیام کا مقصد ان شعبوں میں خودکفالت کا حصول ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں اے آئی سے متعلق نیشنل ٹاسک فورس قائم کی گئی جس نے پاکستان کی پہلی قومی اے آئی پالیسی کے اجراء میں اہم کردار ادا کیا، معرکہ حق میں کامیابی کے بعد اب ہمیں معرکہ ترقی کے اہداف حاصل کرنے ہیں۔
بشکریہ: اے پی پی