مشرقِ وسطیٰ بحران میں امن کیلیے پاکستان کی سفارتی کوششیں
حالیہ برسوں میں مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر شدید کشیدگی کا مرکز بن چکا ہے۔ ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی دشمنی نے نہ صرف خطے کے امن کو متاثر کیا بلکہ عالمی معیشت، تیل کی ترسیل اور بین الاقوامی سیاست پر بھی گہرے اثرات مرتب کیے۔ 2026 میں ایران اور امریکہ کے درمیان پیدا ہونے والی نئی کشیدگی نے دنیا کو ایک ممکنہ بڑے جنگی بحران کے دہانے پر لا کھڑا کیا۔ اس صورتحال میں پاکستان نے ایک اہم سفارتی کردار ادا کرتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان ثالثی کی کوشش کی، جسے عالمی سطح پر سراہا گیا۔
ایران اور امریکہ کے تعلقات کئی دہائیوں سے کشیدہ چلے آرہے ہیں۔ امریکہ ایران کے جوہری پروگرام کو عالمی امن کے لیے خطرہ قرار دیتا ہے، جبکہ ایران امریکی پابندیوں اور خطے میں امریکی مداخلت کو اپنی خودمختاری کے خلاف سمجھتا ہے۔ 2026 میں اس کشیدگی میں اس وقت اضافہ ہوا جب امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے بعض حساس مقامات پر حملے کیے۔ ان حملوں کے جواب میں ایران نے خطے میں امریکی مفادات اور اتحادی ممالک پر دباؤ بڑھایا۔ اس تنازع کے نتیجے میں خلیج فارس اور آبنائے ہرمز میں شدید بے چینی پیدا ہوئی، جہاں سے دنیا کے تیل کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔
آبنائے ہرمز کی بندش یا جزوی رکاوٹ نے عالمی معیشت کو بھی متاثر کیا۔ تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا اور کئی ممالک کو توانائی بحران کا سامنا کرنا پڑا۔ امریکہ نے ایران پر مزید اقتصادی پابندیاں عائد کیں جبکہ ایران نے بھی سخت مؤقف اختیار کیا۔ عالمی طاقتیں، خصوصاً چین اور روس، اس تنازع کو روکنے کے لیے سفارتی کوششوں میں شامل ہوئیں۔
اس تمام صورتحال میں پاکستان ایک اہم ملک کے طور پر سامنے آیا۔ پاکستان کے ایران کے ساتھ مذہبی، ثقافتی اور سرحدی تعلقات ہیں، جبکہ امریکہ کے ساتھ بھی اس کے سفارتی اور دفاعی روابط موجود ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان نے دونوں ممالک کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کرنے کی کوشش کی۔ پاکستانی قیادت نے بارہا اس بات پر زور دیا کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں بلکہ مذاکرات ہی امن کی راہ ہموار کر سکتے ہیں۔
پاکستان نے اپریل 2026 میں اسلام آباد میں ایران اور امریکہ کے نمائندوں کے درمیان مذاکرات کے انعقاد میں مدد فراہم کی۔ ان مذاکرات کا بنیادی مقصد جنگ بندی اور کشیدگی میں کمی لانا تھا۔ اگرچہ مذاکرات مکمل طور پر کامیاب نہ ہوسکے، لیکن دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست رابطے بحال ہونا ایک اہم پیش رفت سمجھی گئی۔ عالمی میڈیا نے پاکستان کی ان کوششوں کو ایک بڑی سفارتی کامیابی قرار دیا۔
پاکستان کی اس سفارتی کوشش کے پیچھے کئی وجوہات تھیں۔ سب سے پہلی وجہ علاقائی امن تھا۔ پاکستان نہیں چاہتا کہ اس کے پڑوس میں جنگ کی آگ بھڑکے کیونکہ اس سے دہشت گردی، مہاجرین کے بحران اور سرحدی عدم استحکام میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ دوسری اہم وجہ معاشی مفادات ہیں۔ ایران اور خلیجی ممالک کے درمیان جنگ کی صورت میں تیل کی قیمتیں بڑھتی ہیں جس سے پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک کی معیشت شدید متاثر ہوتی ہے۔
پاکستان نے اپنی خارجہ پالیسی میں توازن برقرار رکھنے کی کوشش کی۔ ایک طرف اس نے ایران کی خودمختاری کی حمایت کی اور حملوں کی مذمت کی، جبکہ دوسری جانب امریکہ کے ساتھ سفارتی روابط بھی برقرار رکھے۔ یہی متوازن حکمتِ عملی پاکستان کی کامیاب سفارتکاری کی بنیاد بنی۔ ماہرین کے مطابق پاکستان نے ایک “نیوٹرل ثالث” کے طور پر خود کو پیش کیا، جس کی وجہ سے دونوں ممالک اس پر کسی حد تک اعتماد کرنے پر آمادہ ہوئے۔
پاکستان کے کردار کو عالمی سطح پر بھی مثبت انداز میں دیکھا گیا۔ کئی بین الاقوامی اداروں اور تجزیہ کاروں نے کہا کہ پاکستان نے ثابت کیا کہ وہ صرف ایک علاقائی ملک نہیں بلکہ عالمی سفارتکاری میں بھی اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ بعض مبصرین نے اسے پاکستان کی “بڑی سفارتی کامیابی” قرار دیا کیونکہ اس سے پاکستان کی عالمی ساکھ میں بہتری آئی۔
تاہم پاکستان کے لیے یہ کردار آسان نہیں تھا۔ ایران اور امریکہ دونوں کے اپنے مفادات اور سخت مؤقف موجود تھے۔ اگر پاکستان کسی ایک جانب زیادہ جھکاؤ دکھاتا تو دوسری جانب کے ساتھ تعلقات خراب ہوسکتے تھے۔ اسی لیے پاکستان نے نہایت محتاط انداز میں سفارتی حکمت عملی اپنائی۔
اس تنازع کا پاکستان کے اندرونی حالات پر بھی اثر پڑا۔ تیل کی قیمتوں میں اضافے سے مہنگائی بڑھی اور عوامی مشکلات میں اضافہ ہوا۔ اس کے علاوہ سکیورٹی خدشات بھی بڑھ گئے کیونکہ پاکستان کی ایران کے ساتھ طویل سرحد موجود ہے۔ حکومت کو سرحدی نگرانی مزید سخت کرنا پڑی تاکہ کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے بچا جا سکے۔
مستقبل کے حوالے سے دیکھا جائے تو ایران اور امریکہ کے تعلقات میں مکمل بہتری فوری طور پر ممکن نظر نہیں آتی، تاہم سفارتی مذاکرات ہی واحد راستہ ہیں۔ پاکستان اگر اسی متوازن اور مثبت سفارتکاری کو جاری رکھتا ہے تو وہ نہ صرف خطے کے امن میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے بلکہ عالمی سطح پر اپنی اہمیت بھی مزید بڑھا سکتا ہے۔
آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ ایران اور امریکہ کے حالیہ تنازع نے دنیا کو ایک نئے بحران سے دوچار کیا، مگر اس مشکل وقت میں پاکستان نے امن اور مذاکرات کی حمایت کرتے ہوئے ایک ذمہ دار ملک کا کردار ادا کیا۔ پاکستان کی سفارتی کوششیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ جنگ کے بجائے بات چیت اور تعاون ہی مسائل کا حقیقی حل ہیں
محمد منعم
نمل یونیورسٹی میں بی ایس میڈیا اسٹڈی کا طالب علم ہے
munimchaudhry1@gmail.com