موسمیاتی تبدیلی اور رہائشی ناانصافی کا سب سے زیادہ بوجھ غریب طبقات اٹھا رہے ہیں، ڈاکٹر مصدق ملک

موسمیاتی تبدیلی اور رہائشی ناانصافی کا سب سے زیادہ بوجھ غریب طبقات اٹھا رہے ہیں، ڈاکٹر مصدق ملک

باکو، آذربائیجان:  وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی، غربت اور رہائشی ناانصافی ایک دوسرے سے جڑے ہوئے مسائل ہیں جن کا سب سے زیادہ بوجھ غریب اور کمزور طبقات اٹھا رہے ہیں۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ محفوظ، جامع اور مساوی شہروں کی تعمیر کے لیے انصاف پر مبنی شہری پالیسیوں کو ترجیح دی جائے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے باکو میں منعقدہ ورلڈ اربن فورم 13 سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اتوار کو وزارت سے جاری بیان کے مطابق وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی ڈاکٹر مصدق ملک نے آذربائیجان کے دارالحکومت باکو میں منعقدہ ورلڈ اربن فورم (WUF13) کے تیرہویں اجلاس میں پاکستان کی جانب سے قومی وزارتی بیان دیا۔

فورم کا موضوع ’’دنیا کو رہائش فراہم کرنا: محفوظ اور مضبوط شہر اور کمیونٹیز‘‘ تھا۔اس موقع پرخطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر مصدق ملک نے موسمیاتی تبدیلی، شہری عدم مساوات، غربت اور رہائشی ناانصافی کے باہمی تعلق کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ موسمیاتی آفات کا سب سے زیادہ بوجھ ان کمزور اور پسماندہ طبقات پر پڑتا ہے جن کا اس بحران میں سب سے کم کردار ہوتا ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ کسی خاندان کو غربت سے نکلنے میں دو نسلیں لگ جاتی ہیں مگر غیر محفوظ اور غیر پائیدار رہائشی ڈھانچوں کے باعث سیلاب جیسی موسمیاتی آفات چند دنوں میں ان کی دہائیوں کی محنت کو تباہ کر دیتی ہیں اور وہ دوبارہ غربت کی دلدل میں چلے جاتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ صرف رہائش کا بحران نہیں بلکہ بنیادی طور پر انصاف کا بحران ہے۔ڈاکٹر مصدق ملک نے شہری منصوبہ بندی اور رہائشی پالیسیوں میں انصاف اور شمولیت کو مرکزی حیثیت دینے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں انصاف کے لیے اپنی آوازیں یکجا کرنا ہوں گی تاکہ غریبوں کی آوازیں دب نہ جائیں۔ جو لوگ سیلابوں، ہیٹ ویوز اور صحت و تعلیم کی سہولیات سے محرومی کے باعث جان گنواتے ہیں، وہ شہر ڈیزائن نہیں کرتے بلکہ ہم کرتے ہیں۔ وہ ہماری پالیسیوں اور حکمتِ عملیوں کا شکار بنتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی تقریباً 24 کروڑ آبادی میں سے قریب 50 فیصد شہری علاقوں میں رہتی ہے جبکہ شہری آبادی کا تقریباً 55 فیصد غیر رسمی آبادیوں اور کچی بستیوں میں مقیم ہے۔ انہوں نے کہا کہ کچی آبادیاں محض ایک پالیسی کی اصطلاح نہیں بلکہ ایک طرزِ زندگی ہیں۔

ان بستیوں میں حقیقی انسان بستے ہیں۔موسمیاتی تبدیلی کے شہری علاقوں پر بڑھتے ہوئے اثرات کا ذکر کرتے ہوئے ڈاکٹر مصدق ملک نے کراچی میں 2024 کے شدید ہیٹ ویو کا حوالہ دیا جہاں درجہ حرارت 47 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ایک اندازے کے مطابق صرف سات دنوں میں تقریباً 560 افراد ہیٹ ویو کے باعث جاں بحق ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ متاثرین میں زیادہ تر وہ غریب اور محروم طبقات شامل تھے جو غیر رسمی آبادیوں میں بنیادی ڈھانچے، کولنگ سسٹمز، صحت کی سہولیات اور موسمی تحفظ کے بغیر زندگی گزار رہے تھے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ بحرانوں کا سب سے زیادہ بوجھ ہمیشہ غریب طبقہ اٹھاتا ہے۔ ائیر کنڈیشنڈ گھروں اور اپارٹمنٹس میں رہنے والے خوشحال طبقات محفوظ رہتے ہیں جبکہ کمزور طبقات سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔

پاکستان میں سیلابوں کے تباہ کن اثرات کا ذکر کرتے ہوئے ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا کہ ملک میں گزشتہ چار بڑے سیلابوں کے دوران تقریباً 6 ہزار افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں جبکہ تقریباً 20 ہزار افراد زخمی یا معذور ہوئے اور تقریباً 4 کروڑ افراد بے گھر ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ موسمیاتی آفات سے ہونے والی تباہی کئی جنگوں اور تنازعات سے بھی زیادہ انسانی نقصان کا سبب بنی ہے۔ڈاکٹر مصدق نے کہا کہ ہم سستی رہائش کو ایک فلاحی سہولت کے طور پر دیکھتے ہیں،حق کے طور پر نہیں اور یہ سوچ بدلنی ہوگی۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ پائیدار اور ماحول دوست شہری ترقی کو محض خوبصورتی، نعروں یا سرمایہ کاری تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ گرین اور پائیدار ترقی کو صرف ایک اصطلاح یا ظاہری خوبصورتی نہیں بننا چاہیے۔ ہمیں سرمایہ کاروں کے لیے نہیں بلکہ لوگوں کے لیے رہائش تعمیر کرنی چاہیے۔ ہمیں غریبوں کی آواز سننی ہوگی کیونکہ آج ان کی آواز یہاں موجود نہیں ہے۔

اپنے خطاب کے اختتام پر ڈاکٹر مصدق ملک نے مطالبہ کیا کہ ’’باکو کال فار ایکشن‘‘ کو انصاف پر مبنی شہری حل، کمزور طبقات کے تحفظ اور رہائش کے شعبے میں قیاس آرائیوں کی حوصلہ شکنی پر توجہ دینی چاہیے۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ عالمی برادری کو ایسے محفوظ، جامع، مضبوط اور مساوی شہر تعمیر کرنے کے لیے مشترکہ اقدامات کرنا ہوں گے جہاں ہر فرد کو باوقار زندگی میسر ہو۔

Source: APP

موسمیاتی تبدیلیورلڈ اربن فورم
Comments (0)
Add Comment