عرفان خان کی نایاب گمشدہ فلم 25 سال بعد ریلیز، مداح جذباتی ہو گئے
عرفان خان اور ودیا بالن کی غیر ریلیز شدہ فلم ’’دی لاسٹ ٹیننٹ‘‘ یوٹیوب پر جاری کردی گئی
بھارتی سینما کے عظیم اور باصلاحیت اداکار عرفان خان کی ایک نایاب اور طویل عرصے سے غائب فلم ان کے انتقال کے چھ سال بعد آخرکار منظرِ عام پر آگئی ہے، جس نے مداحوں کو حیرت، جذبات اور پرانی یادوں میں مبتلا کر دیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق عرفان خان کی چھٹی برسی کے موقع پر ان کی اور معروف اداکارہ ودیا بالن کی مشترکہ مگر برسوں تک غیر ریلیز شدہ فلم ’’دی لاسٹ ٹیننٹ‘‘ کو بالآخر یوٹیوب پر جاری کر دیا گیا ہے۔ یہ فیصلہ فلمی دنیا اور شائقین کے لیے کسی بڑے سرپرائز سے کم نہیں تھا، کیونکہ یہ پروجیکٹ تقریباً 25 سال تک پردۂ غیبت میں رہا۔
ریلیز کے بعد فلم کو غیر معمولی پذیرائی حاصل ہوئی ہے اور صرف تین دنوں کے اندر اسے دو لاکھ سے زائد مرتبہ دیکھا جا چکا ہے، جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ ناظرین آج بھی عرفان خان کی اداکاری اور ان کے فن کے دیوانے ہیں۔
’’دی لاسٹ ٹیننٹ‘‘ کی تیاری سن 2000 میں محدود وسائل کے ساتھ کی گئی تھی۔ اس کی ہدایت کاری اور تحریر سارتھک داس گپتا نے انجام دی، جبکہ اس کی پروڈکشن نیینا اور سارتھک داس گپتا نے مشترکہ طور پر کی۔ کم بجٹ اور تکنیکی محدودیات کے باوجود یہ فلم اپنے منفرد موضوع اور علامتی انداز کے باعث ایک خاص شناخت رکھتی ہے۔
یہ فلم اس لیے بھی انتہائی اہم سمجھی جا رہی ہے کہ اس میں عرفان خان اور ودیا بالن اپنے کیریئر کے ابتدائی دور میں ایک ساتھ نظر آتے ہیں۔ بعد ازاں دونوں اداکار بھارتی سینما کے بڑے نام بنے، مگر اس فلم میں ان کی جوانی کی اداکاری آج بھی مداحوں کے لیے دلچسپی کا باعث ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسے بھارتی فلمی تاریخ کی ایک نایاب اور قیمتی دستاویز قرار دیا جا رہا ہے۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ یہ عرفان خان اور ودیا بالن کا واحد مشترکہ اسکرین پروجیکٹ بھی ہے، جس کی وجہ سے اس کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔
فلم کی کہانی ایک شکستہ دل موسیقار کے گرد گھومتی ہے جو بیرونِ ملک جانے سے قبل ایک ویران اور خاموش مکان میں پناہ لیتا ہے۔ اس دوران تنہائی، ماضی کی یادیں اور موسیقی ایک ایسے جذباتی اور علامتی سفر کو جنم دیتے ہیں جو ناظرین کو گہرے احساسات میں لے جاتا ہے۔
ودیا بالن نے فلم کی ریلیز پر اپنے ردعمل میں اسے اپنے کیریئر کا ایک نہایت جذباتی لمحہ قرار دیا اور کہا کہ عرفان خان کے ساتھ کام کرنے کا یہ واحد موقع ہمیشہ ان کے لیے خاص اور یادگار رہے گا۔
فلم کی طویل تاخیر کی بڑی وجہ اس کی اصل فوٹیج کا گم ہو جانا بتایا جاتا ہے، جس کے باعث مکمل ہونے کے باوجود یہ پروجیکٹ دو دہائیوں سے زائد عرصے تک التوا کا شکار رہا۔
ہدایتکار سارتھک داس گپتا کے مطابق یہ فلم ان کے لیے ایک “بھولا ہوا خواب” تھی، جسے اب عرفان خان کی یاد اور ان کے فن کے احترام میں دنیا کے سامنے پیش کیا گیا ہے۔
یہ ریلیز نہ صرف عرفان خان کے مداحوں کے لیے ایک جذباتی تحفہ ہے بلکہ بھارتی سینما کے اُس دور کی بھی ایک جھلک پیش کرتی ہے جب کم وسائل کے باوجود کہانی اور فن کو مرکزی حیثیت حاصل تھی۔