سلامتی کونسل میں چین اور روس نے آبنائے ہرمز کھلوانے کی بحرین کی قرارداد کو ویٹو کر دیا

سلامتی کونسل میں چین اور روس نے آبنائے ہرمز کھلوانے کی بحرین کی قرارداد کو ویٹو کر دیا

ووٹنگ کے دوران سلامتی کونسل کے 15 میں سے 11 ارکان نے قرارداد کے حق میں ووٹ دیا

اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں آبنائے ہُرمز سے متعلق ایک اہم قرارداد کو روس اور چین نے ویٹو کر دیا، جس کے باعث یہ قرارداد منظور نہ ہو سکی۔

عرب میڈیا رپورٹس کے مطابق سلامتی کونسل کا ایک خصوصی اجلاس منعقد ہوا جس میں بحرین کی جانب سے پیش کی گئی قرارداد پر غور کیا گیا۔ اس قرارداد کا مقصد آبنائے ہُرمز کو بحری آمد و رفت کے لیے کھولنے کو یقینی بنانا تھا، تاکہ عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل میں رکاوٹوں کو دور کیا جا سکے۔

ووٹنگ کے دوران سلامتی کونسل کے 15 میں سے 11 ارکان نے قرارداد کے حق میں ووٹ دیا، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اکثریتی ممالک اس اقدام کے حامی تھے۔ تاہم، روس اور چین نے اپنے مستقل رکن ہونے کے اختیار کو استعمال کرتے ہوئے قرارداد کو ویٹو کر دیا، جس کے باعث یہ قرارداد مسترد ہو گئی۔ مزید برآں، دو ممالک نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق اگر یہ قرارداد منظور ہو جاتی تو اقوامِ متحدہ کے رکن ممالک کو یہ اختیار حاصل ہو جاتا کہ وہ آبنائے ہُرمز کو کھلوانے کے لیے ضروری اقدامات کریں، جن میں ممکنہ طور پر سفارتی، معاشی یا دیگر عملی اقدامات شامل ہو سکتے تھے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اس فیصلے کے عالمی سطح پر اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، کیونکہ آبنائے ہُرمز عالمی تیل کی ترسیل کا ایک اہم راستہ ہے، اور اس کی بندش یا کشیدگی بین الاقوامی منڈیوں پر براہِ راست اثر ڈال سکتی ہے۔

آبنائے ہرمزاقوام متحدہ- سلامتی کونسلایران - امریکا - اسرائیل - جنگ
Comments (0)
Add Comment