جنگ جیت لی ، بھارت کے ساتھ جامع اور نتیجہ خٰیز مذاکرات کے لئے ہیں، وزیراعظم کا جنرل اسمبلی سے خطاب

جنگ جیت لی ، بھارت کے ساتھ جامع اور نتیجہ خٰیز مذاکرات کے لئے ہیں، وزیراعظم کا جنرل اسمبلی سے خطاب

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شہباز شریگ کا پرتپاک استقبال

 

نیویارک: وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں پاک بھارت جنگ کے حوالے سے کہا کہ جنگ جیت چکے ، اب بھارت کے ساتھ جامع اور نتیجہ خیز مذاکرات کے لئے تیار ہیں۔

وزیر اعظم اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے اپنے خطاب کا آغاز قرآن مجید کی آیات کی تلاوت سے کیا۔

وزیراعظم نے بنیان مرصوص آپریشن کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کو ایسا فیصلہ کن جواب دیا جسے تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

اپنے خطاب کے دوران وزیرِ اعظم شہباز شریف نے بھارت کو تمام تنازعات پر مذاکرات کی پیشکش کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان بھارت کے ساتھ تمام تصفیہ طلب امور پر جامع اور نتیجہ خیز مذاکرات کے لیے تیار ہے، ایک دن کشمیریوں کو حقِ خودارادیت مل کر رہے گا، کشمیریوں کو یقین دلاتا ہوں کہ پاکستان ان کے ساتھ ہے، پاکستان سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی برداشت نہیں کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کی جا رہی ہے، آج کی دنیا پہلے سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے، دنیا بھر میں تنازعات شدت اختیار کر رہے ہیں، انسانی بحران بڑھتے جارہے ہیں، دہشت گردی دنیا کے لیے ایک سنگین خطرہ بن چکی ہے۔

وزیرِ اعظم شہبازشریف نے کہا کہ گمراہ کن پروپیگنڈا اور جعلی خبروں نے اعتماد کو متزلزل کر دیا ہے، ماحولیاتی تبدیلی بڑا چیلنج ہے جو ہماری بقا کو خطرے میں ڈال رہی ہے، موسمیاتی تبدیلیوں سے پاکستان سمیت کئی ملک متاثر ہیں، دہشت گردی دنیا کے لیے ایک سنگین خطرہ بن چکی ہے، پاکستان کی خارجہ پالیسی باہمی احترام، تعاون پر مبنی ہے، ہم تنازعات کا پر امن حل چاہتے ہیں۔

 اپنے خطاب میں وزیر اعظم نے کہا کہ آج کی دنیا پہلے سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے، دنیا بھر میں تنازعات شدت اختیار کررہے ہیں، عالمی قوانین کی کھلم کھلا خلاف ورزی جاری ہے، انسانی بحران بڑھتے جارہے ہیں، دہشتگردی دنیا کے لیے ایک سنگین خطرہ بن چکی ہے، گمراہ کن پروپیگنڈا اورجعلی خبروں نے اعتماد کو متزلزل کردیا ہے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ ہماری خارجہ پالیسی بابائے قوم کے وژن کی رہنمائی میں پرامن بقائے باہمی پرمبنی ہے، ہم مکالمے اورسفارتکاری کے ذریعے تنازعات کے پرامن حل پریقین رکھتے ہیں۔

وزیر اعظم نے کہا کہ گزشتہ سال اسی پلیٹ فارم سے خبردارکیا تھاکہ پاکستان کسی بھی جارحیت پر فیصلہ کن اقدام کرے گا، یہ الفاظ سچ ثابت ہوئے جب مئی میں پاکستان کو مشرقی محاذ سے جارحیت کا سامنا کرنا پڑا، لیکن ہم نے بھارت کو منہ توڑ جواب دیا، بھارت نے پہلگام حملے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کی پیشکش قبول کرنے کے بجائے ہمارے شہروں پر حملے کیے۔

شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان نے اقوام متحدہ کے چارٹرکے آرٹیکل51 کے تحت اپنا حق دفاع استعمال کیا، مسلح افواج نے فیلڈ مارشل عاصم منیرکی قیادت میں جرات کا بے مثال مظاہرہ کیا، ائیرچیف مارشل ظہیر احمد بابرسدھوکی قیادت میں شاہینوں نے دشمن کو اپنی مہارت سے زیرکیا اور بھارت کے 7 جنگی طیاروں کو ملبے کا ڈھیر بنادیا گیا۔

جنرل اسمبلی سے خطاب میں وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان کےعظیم جانبازوں اور شہدا کے ورثا کوسلام پیش کرتےہیں، ہمارے شہدا کےنام ہمیشہ عزت اور وقار کےساتھ زندہ رہیں گے، شہدا کی ماؤں کا حوصلہ ہمارے راستےمنور کرتا ہے، ہمارے شہدا کی قربانیاں کبھی رائیگاں نہیں جائیں گی۔

وزیر اعظم نے اپنے خطاب میں امریکی صدر ٹرمپ کی قیام امن کی کوششوں کو سراہا اور کہا کہ ہمارے خطے میں قیام امن کی کوششوں کے اعتراف میں پاکستان نے انہیں امن کے نوبیل انعام کے لیے نامزد کیا۔

وزیر اعظم نے کہا کہ ہم جنگ جیت چکے ہیں اور اب ہم اپنے خطے میں امن چاہتے ہیں، پاکستان بھارت کے ساتھ تمام تصفیہ طلب امور پر  جامع اور نتیجہ خیز مذاکرات کے لیے تیار ہے۔

وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ ہم کشمیری عوام کو یقین دلانا چاہتے ہیں پاکستان ان کے ساتھ کھڑا ہے اور ایک دن کشمیری اپنا حق خود ارادیت حاصل کریں گے اور بھارت کا قبضہ ختم ہوگا۔

 ان کا کہنا ہے کہ پاکستان نے حالیہ دنوں میں مشرقی سرحد پر دشمن کی جارحیت کا جواب دیا، بھارت کو دیا گیا فیصلہ کن جواب تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا، بھارت کے 7 جنگی طیاروں کو ملبے کا ڈھیر بنا دیا گیا، بھارت کو پہلگام حملے کی غیر جانبدار تحقیقات کی پیشکش کی، مگر بھارت کی جانب سے پہلگام واقعے کو سیاسی طور پر استعما ل کیا گیا، پہلے ہی کہا تھا کہ پاکستان بیرونی جارحیت کا بھرپور دفاع کرے گا، ہم نے بھارت سے جنگ جیتی اور امن کی بات کی۔

جنرل اسمبلی میں پاکستان زندہ باد کے نعرے

اس موقع پر جنرل اسمبلی وزیرِ اعظم شہباز شریف کے خطاب کے دوران پاکستان زندہ باد کے نعروں سے گونج اٹھی۔

وزیرِ اعظم شہبازشر یف نے کہا کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان نے بھارتی جارحیت کا جواب دیا، ہم بھارت سے جنگ جیت چکے تھے، صدر ٹرمپ مداخلت نہ کرتے تو فل فلش وار کے نتائج تباہ کن ہو سکتے تھے، صدر ٹرمپ پاک بھارت جنگ رکوانے میں امن کے نوبیل انعام کے مستحق ہیں، بھارت کو دیا گیا فیصلہ کن جواب تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا، بھارت نے شہری علاقوں پرحملہ کر کے معصوم شہریوں کو نشانہ بنایا، کنٹرول لائن پر بھارت کی جارحیت سے 6 سال کا بچہ ارتضیٰ شہید ہوا۔

انہوں نے کہا کہ فلسطینیوں سے نا انصافی عالمی ضمیر پر داغ ہے، اسرائیل کی فلسطین کے خلاف مہم شرمناک ہے، غزہ میں اسرائیل کی نسل کشی جاری ہے، جس کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی، ہمیں غزہ میں اسرائیلی مظالم کے لیے بھرپور آواز اٹھانی چاہیے، پاکستان 1967ء کی سرحدوں کے مطابق فلسطینی ریاست کی بھرپور حمایت کرتا ہے، مسلم سربرابان سے صدر ٹرمپ کی ملاقات نے غزہ میں جنگ بندی کی نئی شمع روشن کی ہے۔

وزیرِاعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان ہر قسم کی دہشت گردی کی مذمت کرتا ہے، ہم نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنے 90 ہزار شہریوں کی قربانی دی ہے، پاکستان اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق یوکرین کے پُرامن حل کی بھی حمایت کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ افغان عبوری حکومت دہشت گرد گروپوں کے خلاف کارروائی کرے، فتنہ الخوارج، فتنہ الہندوستان، کالعدم ٹی ٹی پی اور بی ایل اے مجید بریگیڈ افغانستان کی سرحد کو استعمال کر کے افغان علاقوں سے پاکستان میں کارروائیاں کر رہی اور پاکستان پر حملے کر رہی ہیں، میں سمجھتا ہوں کہ نیویارک یا لندن میں دہشت گردی پاکستان میں دہشت گردی ہے، بھارتی ہندواتوا پالیسی خطے کے لیے خطرناک ہے۔

وزیر اعظم نے قطر پر اسرائیلی حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اپنے قطری بھائیوں کے ساتھ کھڑا ہے۔

جنرل اسمبلی سے خطاب میں وزیر اعظم نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیوں کا اعتراف کیا جانا چاہیے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان دہشتگردوں کے آگے ایک دیوار ہے جس نے دنیا کو دہشتگردی سے بچایا ہوا ہے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان سیکیورٹی کونسل کے غیر مستقل رکن کے طور پر تنازعات کو روکنے کے لئے اپنا کردار ادا کر رہا ہے پاکستان ہمیشہ امن ، انصاف اور ترقی کی حمایت جاری رکھے گا۔

اقوام متحدہ -جنرل اسمبلیوزیراعظم شہباز شریف
Comments (0)
Add Comment